Binance Square
SI Crypto News
532 Публикации

SI Crypto News

Latest news updates about BTC (bitcoin), Eth, Sol, USDC, USDT and others crypto currencies.
26 подписок(и/а)
71 подписчиков(а)
130 понравилось
Посты
·
--
Статья
См. перевод
کیا Crypto Tokens کی قیمتیں دگنی ہو سکتی ہیں؟ Bitwise CIO کی نئی رائےکرپٹو مارکیٹ میں ایک سوال ہمیشہ سے اہم رہا ہے: آخر کسی token کی اصل value بنتی کہاں سے ہے؟ کیا صرف hype، community اور speculation کسی cryptocurrency کی قیمت کو طویل عرصے تک اوپر لے جا سکتے ہیں؟ یا پھر آنے والے وقت میں وہی crypto projects زیادہ کامیاب ہوں گے جو اپنے users، network activity اور حقیقی revenue کو اپنے native token کے ساتھ جوڑ سکیں گے؟ Bitwise کے Chief Investment Officer Matt Hougan نے اسی سوال پر ایک دلچسپ نقطۂ نظر پیش کیا ہے۔ ان کے مطابق اگر crypto protocols اپنی پیدا ہونے والی آمدنی کو tokens کے ساتھ زیادہ مضبوط طریقے سے connect کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو کچھ crypto assets کی valuations دگنی یا اس سے بھی زیادہ ہو سکتی ہیں۔ یہ بات بظاہر ایک bullish prediction لگتی ہے، لیکن Hougan کی بات کو سمجھنے کے لیے ہمیں پہلے یہ دیکھنا ہوگا کہ crypto میں revenue capture کا مطلب کیا ہے اور یہ اتنا اہم کیوں بنتا جا رہا ہے۔ Crypto میں Revenue Capture کیا ہے؟ آسان زبان میں سمجھیں تو revenue capture کا مطلب ہے کہ کسی blockchain یا crypto protocol پر ہونے والی economic activity سے جو fees یا آمدنی پیدا ہوتی ہے، اس کا کچھ حصہ اس protocol کے token کی demand یا supply پر اثر ڈالے۔ ماضی میں بہت سے crypto tokens بنیادی طور پر governance کے لیے استعمال ہوتے تھے۔ یعنی token رکھنے والے لوگ کسی proposal پر vote کر سکتے تھے، لیکن protocol سے حاصل ہونے والی آمدنی لازمی طور پر token holders یا token کی economics سے براہ راست نہیں جڑی ہوتی تھی۔ یہاں ایک مسئلہ پیدا ہوتا تھا۔ فرض کریں ایک decentralized application روزانہ لاکھوں ڈالر کی fees generate کر رہی ہے، مگر اس protocol کا token اس revenue سے کسی واضح طریقے سے connected نہیں۔ ایسی صورت میں network تو کامیاب ہو سکتا ہے، لیکن ضروری نہیں کہ اس کامیابی کا فائدہ token کی value میں بھی نظر آئے۔ اب کچھ بڑے crypto projects اس model کو تبدیل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ یہ projects اپنی fees یا revenue کو استعمال کرتے ہوئے tokens کو market سے خریدتے ہیں، انہیں burn کرتے ہیں یا کسی دوسرے mechanism کے ذریعے token economics کو مضبوط کرتے ہیں۔ اسی تبدیلی کو Matt Hougan crypto valuations کے لیے اہم سمجھتے ہیں۔ Hyperliquid اس trend کی بڑی مثال Hougan نے اپنے analysis میں Hyperliquid کو خاص طور پر نمایاں کیا ہے۔ Hyperliquid ایک decentralized trading platform ہے جہاں بڑی مقدار میں trading activity ہوتی ہے۔ اس trading activity سے fees generate ہوتی ہیں۔ Hyperliquid کے model میں trading fees کا بڑا حصہ Assistance Fund کے ذریعے HYPE tokens کی خریداری کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ خریدے گئے HYPE tokens کو burn کیا جاتا ہے، یعنی انہیں circulation سے مستقل طور پر نکال دیا جاتا ہے۔ Hougan کے مطابق تقریباً 99 فیصد fee revenue اس mechanism کی طرف جا چکا ہے۔ یہ model اس لیے دلچسپ ہے کیونکہ یہاں network کی کامیابی اور token کی demand کے درمیان ایک واضح تعلق بنتا ہے۔ اگر platform پر trading بڑھے گی تو fees بڑھ سکتی ہیں۔ اگر fees بڑھتی ہیں تو HYPE خریدنے کے لیے زیادہ capital استعمال ہو سکتا ہے۔ اور اگر زیادہ tokens خرید کر burn کیے جائیں تو circulating supply کم ہو سکتی ہے۔ یقیناً یہ ایک سیدھا سا equation نہیں ہے کہ fees بڑھیں گی تو token لازمی مہنگا ہوگا۔ Crypto market میں sentiment، liquidity، competition اور investor expectations بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ لیکن کم از کم economic connection پہلے کے مقابلے میں زیادہ واضح نظر آتا ہے۔ Uniswap بھی revenue کو token economics سے جوڑ رہا ہے Uniswap decentralized finance کی دنیا کے سب سے معروف protocols میں سے ایک ہے۔ Uniswap نے بھی protocol fees اور UNI token کے درمیان تعلق مضبوط کرنے کی طرف قدم اٹھایا ہے۔ دسمبر 2025 میں governance کے بعد Uniswap نے اپنے revenue model میں تبدیلیاں کیں اور token burn mechanism کو activate کیا۔ اس کے بعد protocol fees سے تقریباً 7.5 million UNI tokens کے burns finance کیے جانے کی اطلاع دی گئی۔ اس کا بنیادی خیال بہت سادہ ہے۔ Protocol استعمال ہوگا، fees generate ہوں گی، اور ان fees کا ایک حصہ UNI token کو خریدنے اور burn کرنے کے لیے استعمال ہوگا۔ یہ model investors کو یہ دیکھنے کا موقع دیتا ہے کہ protocol کی activity اور token economics کس طرح ایک دوسرے سے connect ہو رہے ہیں۔ اگر Uniswap کی activity بڑھتی ہے اور fees میں اضافہ ہوتا ہے تو نظریاتی طور پر token buybacks یا burns کے لیے بھی زیادہ resources دستیاب ہو سکتے ہیں۔ لیکن یہاں بھی ایک بات ذہن میں رکھنا ضروری ہے: burn کا مطلب ہمیشہ قیمت میں فوری اضافہ نہیں ہوتا۔ Price پر demand، market conditions اور overall crypto sentiment بھی اثر انداز ہوتے ہیں۔ Aave کا طریقہ کچھ مختلف ہے Aave نے بھی token buybacks کے ذریعے اپنے ecosystem کی economic activity اور AAVE token کے درمیان تعلق مضبوط کرنے کی کوشش کی ہے۔ DAO records کے مطابق buyback program کے پہلے دس ماہ میں 205,000 سے زیادہ AAVE tokens خریدے گئے، جبکہ اس کے لیے تقریباً $42 million مختص کیے گئے تھے۔ یہ AAVE کی total supply کے مقابلے میں بھی ایک قابلِ ذکر مقدار ہے۔ Aave کا broader revenue framework بھی evolve ہو رہا ہے۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ Aave ecosystem سے پیدا ہونے والی revenue کا بڑا حصہ DAO treasury اور token economics کے ساتھ align کیا جائے۔ یہاں ایک اہم فرق ہے۔ Protocol کی revenue DAO تک پہنچنا اور وہ revenue براہ راست AAVE خریدنے کے لیے استعمال ہونا ایک ہی چیز نہیں۔ Governance decisions، allocations اور future buyback mechanisms الگ مراحل ہو سکتے ہیں۔ اسی لیے investors کو headlines کے بجائے پورے mechanism کو سمجھنا چاہیے۔ Pump.fun بھی اسی راستے پر Revenue-linked token economics صرف بڑے DeFi protocols تک محدود نہیں رہی۔ Pump.fun نے بھی اپنے revenue model کو token buybacks کے ساتھ جوڑنے کی کوشش کی ہے۔ اس platform کے official token model کے مطابق protocol revenue کا ایک حصہ PUMP token buybacks کے لیے مختص کیا جاتا ہے۔ حالیہ اعداد و شمار میں ایک ہفتے کے دوران Pump.fun نے تقریباً $10 million protocol fees generate کیے، جبکہ تقریباً $5 million کے PUMP tokens buy اور burn کیے گئے۔ یہ ایک اہم development ہے کیونکہ اس سے پتہ چلتا ہے کہ revenue capture کا trend مختلف قسم کے crypto applications تک پہنچ رہا ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ اگر trading platform، decentralized exchange، lending protocol اور دوسرے blockchain applications اپنی revenue کو tokens کے ساتھ جوڑ سکتے ہیں، تو کیا پوری crypto market کی valuation approach تبدیل ہو سکتی ہے؟ Matt Hougan کا جواب کافی حد تک “ہاں” کی طرف جاتا ہے۔ Stock Buybacks سے کیا مماثلت ہے؟ Hougan نے crypto token buybacks کا موازنہ traditional companies کے stock buybacks سے بھی کیا ہے۔ Traditional stock market میں کوئی profitable company اپنی کمائی سے اپنے shares واپس خرید سکتی ہے۔ اس سے market میں موجود shares کی تعداد کم ہو سکتی ہے اور باقی shares کی ownership نسبتاً زیادہ concentrated ہو جاتی ہے۔ Crypto میں token buyback اور burn کا تصور کچھ حد تک اسی طرح کام کر سکتا ہے۔ لیکن دونوں چیزوں کو مکمل طور پر ایک جیسا سمجھنا غلط ہوگا۔ ایک company کا stock عام طور پر shareholder کو مخصوص قانونی حقوق دیتا ہے، جبکہ crypto token کے rights مختلف ہو سکتے ہیں۔ ہر token holder کو company shareholder کی طرح profits، assets یا dividends پر contractual claim حاصل نہیں ہوتا۔ اس لیے crypto revenue models کو سمجھتے وقت stock market کی مثال صرف ایک آسان comparison کے طور پر استعمال کی جا سکتی ہے، مکمل equivalence کے طور پر نہیں۔ کیا Crypto Valuations واقعی Double ہو سکتی ہیں؟ یہاں سب سے اہم بات آتی ہے۔ Matt Hougan نے یہ نہیں کہا کہ تمام cryptocurrencies کی قیمتیں لازمی دگنی ہوں گی۔ ان کا argument conditional ہے۔ یعنی اگر crypto protocols کی revenue capture مضبوط ہوتی ہے، اگر users کی activity برقرار رہتی ہے، اگر tokens کے economic models بہتر ہوتے ہیں اور اگر investors اس نئے model کو زیادہ value دیتے ہیں، تو valuations میں بہت بڑی growth ممکن ہے۔ یہ ایک prediction ہے، guarantee نہیں۔ مثال کے طور پر اگر کسی protocol کی revenue مسلسل بڑھ رہی ہے لیکن token کی supply بھی تیزی سے بڑھ رہی ہے، تو revenue growth کا فائدہ محدود ہو سکتا ہے۔ اسی طرح اگر network activity کم ہو جائے تو fees بھی کم ہو سکتی ہیں اور buybacks یا burns بھی کم ہو سکتے ہیں۔ اس لیے صرف “token burn” دیکھ کر کسی project کو bullish سمجھ لینا خطرناک ہو سکتا ہے۔ Solana اور Layer-1 networks کی طرف بھی توجہ یہ trend DeFi protocols سے نکل کر Layer-1 blockchains تک بھی پہنچ رہا ہے۔ Hougan نے Solana کے ایسے proposals کا حوالہ دیا ہے جن کا مقصد network fees، token burns اور issuance economics میں تبدیلی لانا ہے۔ مثلاً ایک proposed model میں transaction fee structure کو تبدیل کرنے اور کچھ fees کو burn کرنے کی بات کی گئی ہے۔ اگر ایسے proposals مکمل طور پر implement ہوتے ہیں اور network activity بھی مضبوط رہتی ہے تو SOL کی supply dynamics پر اثر پڑ سکتا ہے۔ لیکن یہاں بھی احتیاط ضروری ہے۔ Proposal، validator signaling اور final implementation تین مختلف چیزیں ہیں۔ جب تک کوئی change مکمل طور پر approve اور implement نہ ہو جائے، اس کے ممکنہ اثرات کو guaranteed outcome نہیں سمجھنا چاہیے۔ Regulation بھی بہت اہم ہے Crypto revenue models کی کامیابی صرف technology پر depend نہیں کرتی۔ Regulation بھی ایک بڑا factor ہے۔ امریکہ میں crypto regulations کے حوالے سے حالیہ تبدیلیوں نے industry کو زیادہ واضح rules کی امید دی ہے۔ اگر regulators ایسے models کے لیے زیادہ واضح guidelines فراہم کرتے ہیں جن میں protocol revenue، token buybacks یا دیگر economic mechanisms شامل ہوں، تو crypto projects کے لیے نئے models بنانا آسان ہو سکتا ہے۔ لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہر token buyback یا revenue-sharing mechanism automatically قانونی طور پر approved ہے۔ کسی token کی legal classification، اس کی offering، investors سے کیے گئے promises اور project team کا کردار سب اہم ہو سکتے ہیں۔ اسی لیے crypto investors کو صرف یہ دیکھ کر فیصلہ نہیں کرنا چاہیے کہ “revenue token کے ساتھ connected ہے۔” Legal structure بھی اتنا ہی اہم ہے۔ Crypto market کے لیے اس trend کا اصل مطلب کیا ہے؟ میرے خیال میں Hougan کی بات کا سب سے اہم حصہ “price double” نہیں بلکہ valuation کا طریقہ بدلنے کا امکان ہے۔ Crypto market میں ایک طویل عرصے تک tokens کی valuation بہت زیادہ speculation، narratives اور future expectations پر depend کرتی رہی۔ Bitcoin کے معاملے میں scarcity، adoption اور network effects کی بحث ہوتی ہے۔ لیکن altcoins میں سوال زیادہ مشکل ہے: یہ token آخر value پیدا کیسے کرتا ہے؟ اگر کوئی protocol ہزاروں یا لاکھوں users کو service فراہم کر رہا ہے، کروڑوں ڈالر کی fees generate کر رہا ہے اور اس revenue کا ایک واضح حصہ token economics کو support کر رہا ہے، تو investor کے پاس valuation کرنے کے لیے ایک اضافی metric موجود ہو جاتا ہے۔ یہ crypto market کو ایک زیادہ mature direction میں لے جا سکتا ہے۔ Investors کو کیا دیکھنا چاہیے؟ اگر یہ trend آگے بڑھتا ہے تو investors کے لیے صرف token price دیکھنا کافی نہیں ہوگا۔ سب سے پہلے دیکھیں کہ protocol کی حقیقی revenue کتنی ہے۔ پھر دیکھیں کہ یہ revenue کہاں جا رہی ہے۔ کیا وہ treasury میں جا رہی ہے؟ کیا users کو incentives دیے جا رہے ہیں؟ کیا tokens buy کیے جا رہے ہیں؟ کیا tokens burn کیے جا رہے ہیں؟ اور سب سے اہم، کیا یہ mechanism مستقل اور transparent ہے؟ دوسرا اہم metric network activity ہے۔ اگر token buybacks صرف ایک مختصر مدت کے لیے ہو رہے ہیں اور protocol کی underlying activity کمزور ہے تو long-term thesis زیادہ مضبوط نہیں ہوگی۔ تیسری چیز token supply ہے۔ اگر project ایک طرف tokens buy اور burn کر رہا ہے لیکن دوسری طرف بہت بڑی نئی supply market میں آ رہی ہے تو net effect کو سمجھنا ضروری ہے۔ آگے کیا ہو سکتا ہے؟ Matt Hougan کا اندازہ ہے کہ اگلے 12 سے 24 ماہ میں مزید DeFi applications اور Layer-1 networks revenue-linked token models کی طرف جا سکتے ہیں۔ اگر یہ prediction درست ثابت ہوتی ہے تو crypto market میں ایک دلچسپ تبدیلی آ سکتی ہے۔ Future میں شاید investors صرف یہ نہ پوچھیں کہ: “یہ token کس project کا ہے؟” بلکہ وہ یہ بھی پوچھیں گے: “یہ protocol کتنی revenue generate کرتا ہے؟” “اس revenue کا کتنا حصہ token کو benefit کرتا ہے؟” “Token کی supply کتنی تیزی سے بڑھ رہی ہے؟” اور “کیا network کی growth واقعی token کی demand میں تبدیل ہو رہی ہے؟” یہ سوالات crypto investing کو زیادہ data-driven بنا سکتے ہیں۔ آخری بات Bitwise CIO Matt Hougan کی prediction crypto market کے لیے یقیناً دلچسپ ہے، لیکن اسے ایک bullish scenario کے طور پر دیکھنا زیادہ مناسب ہے، guaranteed future کے طور پر نہیں۔ Crypto valuations دگنی ہوں گی یا نہیں، اس کا انحصار صرف token burns یا buybacks پر نہیں ہوگا۔ User adoption، network activity، revenue growth، token supply، competition، liquidity اور regulation سب مل کر فیصلہ کریں گے کہ کسی token کی حقیقی economic value کتنی بنتی ہے۔ لیکن ایک چیز واضح ہے: crypto industry آہستہ آہستہ اس سوال کا جواب دینے کی کوشش کر رہی ہے کہ “اگر network پیسہ کماتا ہے تو اس کا فائدہ token کو کیسے ملے گا؟” Hyperliquid، Uniswap، Aave اور Pump.fun جیسے projects اس direction میں مختلف تجربات کر رہے ہیں۔ اگر آنے والے سالوں میں یہ models کامیاب ہوتے ہیں تو crypto valuation کا انداز واقعی بدل سکتا ہے۔ اور شاید یہی وہ تبدیلی ہے جس کی طرف Matt Hougan اشارہ کر رہے ہیں۔ نوٹ: یہ مضمون صرف معلومات اور تعلیمی مقصد کے لیے ہے، اسے investment advice نہ سمجھا جائے۔ Crypto assets میں سرمایہ کاری میں نمایاں risk موجود ہوتا ہے، اور کسی بھی token کی قیمت بڑھنے کی ضمانت نہیں دی جا سکتی۔ #SICryptoNews #bitcoin #BullRunAhead

کیا Crypto Tokens کی قیمتیں دگنی ہو سکتی ہیں؟ Bitwise CIO کی نئی رائے

کرپٹو مارکیٹ میں ایک سوال ہمیشہ سے اہم رہا ہے: آخر کسی token کی اصل value بنتی کہاں سے ہے؟
کیا صرف hype، community اور speculation کسی cryptocurrency کی قیمت کو طویل عرصے تک اوپر لے جا سکتے ہیں؟ یا پھر آنے والے وقت میں وہی crypto projects زیادہ کامیاب ہوں گے جو اپنے users، network activity اور حقیقی revenue کو اپنے native token کے ساتھ جوڑ سکیں گے؟
Bitwise کے Chief Investment Officer Matt Hougan نے اسی سوال پر ایک دلچسپ نقطۂ نظر پیش کیا ہے۔ ان کے مطابق اگر crypto protocols اپنی پیدا ہونے والی آمدنی کو tokens کے ساتھ زیادہ مضبوط طریقے سے connect کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو کچھ crypto assets کی valuations دگنی یا اس سے بھی زیادہ ہو سکتی ہیں۔
یہ بات بظاہر ایک bullish prediction لگتی ہے، لیکن Hougan کی بات کو سمجھنے کے لیے ہمیں پہلے یہ دیکھنا ہوگا کہ crypto میں revenue capture کا مطلب کیا ہے اور یہ اتنا اہم کیوں بنتا جا رہا ہے۔
Crypto میں Revenue Capture کیا ہے؟
آسان زبان میں سمجھیں تو revenue capture کا مطلب ہے کہ کسی blockchain یا crypto protocol پر ہونے والی economic activity سے جو fees یا آمدنی پیدا ہوتی ہے، اس کا کچھ حصہ اس protocol کے token کی demand یا supply پر اثر ڈالے۔
ماضی میں بہت سے crypto tokens بنیادی طور پر governance کے لیے استعمال ہوتے تھے۔ یعنی token رکھنے والے لوگ کسی proposal پر vote کر سکتے تھے، لیکن protocol سے حاصل ہونے والی آمدنی لازمی طور پر token holders یا token کی economics سے براہ راست نہیں جڑی ہوتی تھی۔
یہاں ایک مسئلہ پیدا ہوتا تھا۔
فرض کریں ایک decentralized application روزانہ لاکھوں ڈالر کی fees generate کر رہی ہے، مگر اس protocol کا token اس revenue سے کسی واضح طریقے سے connected نہیں۔ ایسی صورت میں network تو کامیاب ہو سکتا ہے، لیکن ضروری نہیں کہ اس کامیابی کا فائدہ token کی value میں بھی نظر آئے۔
اب کچھ بڑے crypto projects اس model کو تبدیل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
یہ projects اپنی fees یا revenue کو استعمال کرتے ہوئے tokens کو market سے خریدتے ہیں، انہیں burn کرتے ہیں یا کسی دوسرے mechanism کے ذریعے token economics کو مضبوط کرتے ہیں۔
اسی تبدیلی کو Matt Hougan crypto valuations کے لیے اہم سمجھتے ہیں۔
Hyperliquid اس trend کی بڑی مثال
Hougan نے اپنے analysis میں Hyperliquid کو خاص طور پر نمایاں کیا ہے۔
Hyperliquid ایک decentralized trading platform ہے جہاں بڑی مقدار میں trading activity ہوتی ہے۔ اس trading activity سے fees generate ہوتی ہیں۔
Hyperliquid کے model میں trading fees کا بڑا حصہ Assistance Fund کے ذریعے HYPE tokens کی خریداری کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ خریدے گئے HYPE tokens کو burn کیا جاتا ہے، یعنی انہیں circulation سے مستقل طور پر نکال دیا جاتا ہے۔
Hougan کے مطابق تقریباً 99 فیصد fee revenue اس mechanism کی طرف جا چکا ہے۔
یہ model اس لیے دلچسپ ہے کیونکہ یہاں network کی کامیابی اور token کی demand کے درمیان ایک واضح تعلق بنتا ہے۔
اگر platform پر trading بڑھے گی تو fees بڑھ سکتی ہیں۔ اگر fees بڑھتی ہیں تو HYPE خریدنے کے لیے زیادہ capital استعمال ہو سکتا ہے۔ اور اگر زیادہ tokens خرید کر burn کیے جائیں تو circulating supply کم ہو سکتی ہے۔
یقیناً یہ ایک سیدھا سا equation نہیں ہے کہ fees بڑھیں گی تو token لازمی مہنگا ہوگا۔ Crypto market میں sentiment، liquidity، competition اور investor expectations بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
لیکن کم از کم economic connection پہلے کے مقابلے میں زیادہ واضح نظر آتا ہے۔
Uniswap بھی revenue کو token economics سے جوڑ رہا ہے
Uniswap decentralized finance کی دنیا کے سب سے معروف protocols میں سے ایک ہے۔
Uniswap نے بھی protocol fees اور UNI token کے درمیان تعلق مضبوط کرنے کی طرف قدم اٹھایا ہے۔
دسمبر 2025 میں governance کے بعد Uniswap نے اپنے revenue model میں تبدیلیاں کیں اور token burn mechanism کو activate کیا۔ اس کے بعد protocol fees سے تقریباً 7.5 million UNI tokens کے burns finance کیے جانے کی اطلاع دی گئی۔
اس کا بنیادی خیال بہت سادہ ہے۔
Protocol استعمال ہوگا، fees generate ہوں گی، اور ان fees کا ایک حصہ UNI token کو خریدنے اور burn کرنے کے لیے استعمال ہوگا۔
یہ model investors کو یہ دیکھنے کا موقع دیتا ہے کہ protocol کی activity اور token economics کس طرح ایک دوسرے سے connect ہو رہے ہیں۔
اگر Uniswap کی activity بڑھتی ہے اور fees میں اضافہ ہوتا ہے تو نظریاتی طور پر token buybacks یا burns کے لیے بھی زیادہ resources دستیاب ہو سکتے ہیں۔
لیکن یہاں بھی ایک بات ذہن میں رکھنا ضروری ہے: burn کا مطلب ہمیشہ قیمت میں فوری اضافہ نہیں ہوتا۔ Price پر demand، market conditions اور overall crypto sentiment بھی اثر انداز ہوتے ہیں۔
Aave کا طریقہ کچھ مختلف ہے
Aave نے بھی token buybacks کے ذریعے اپنے ecosystem کی economic activity اور AAVE token کے درمیان تعلق مضبوط کرنے کی کوشش کی ہے۔
DAO records کے مطابق buyback program کے پہلے دس ماہ میں 205,000 سے زیادہ AAVE tokens خریدے گئے، جبکہ اس کے لیے تقریباً $42 million مختص کیے گئے تھے۔
یہ AAVE کی total supply کے مقابلے میں بھی ایک قابلِ ذکر مقدار ہے۔
Aave کا broader revenue framework بھی evolve ہو رہا ہے۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ Aave ecosystem سے پیدا ہونے والی revenue کا بڑا حصہ DAO treasury اور token economics کے ساتھ align کیا جائے۔
یہاں ایک اہم فرق ہے۔
Protocol کی revenue DAO تک پہنچنا اور وہ revenue براہ راست AAVE خریدنے کے لیے استعمال ہونا ایک ہی چیز نہیں۔ Governance decisions، allocations اور future buyback mechanisms الگ مراحل ہو سکتے ہیں۔
اسی لیے investors کو headlines کے بجائے پورے mechanism کو سمجھنا چاہیے۔
Pump.fun بھی اسی راستے پر
Revenue-linked token economics صرف بڑے DeFi protocols تک محدود نہیں رہی۔
Pump.fun نے بھی اپنے revenue model کو token buybacks کے ساتھ جوڑنے کی کوشش کی ہے۔
اس platform کے official token model کے مطابق protocol revenue کا ایک حصہ PUMP token buybacks کے لیے مختص کیا جاتا ہے۔
حالیہ اعداد و شمار میں ایک ہفتے کے دوران Pump.fun نے تقریباً $10 million protocol fees generate کیے، جبکہ تقریباً $5 million کے PUMP tokens buy اور burn کیے گئے۔
یہ ایک اہم development ہے کیونکہ اس سے پتہ چلتا ہے کہ revenue capture کا trend مختلف قسم کے crypto applications تک پہنچ رہا ہے۔
اب سوال یہ ہے کہ اگر trading platform، decentralized exchange، lending protocol اور دوسرے blockchain applications اپنی revenue کو tokens کے ساتھ جوڑ سکتے ہیں، تو کیا پوری crypto market کی valuation approach تبدیل ہو سکتی ہے؟
Matt Hougan کا جواب کافی حد تک “ہاں” کی طرف جاتا ہے۔
Stock Buybacks سے کیا مماثلت ہے؟
Hougan نے crypto token buybacks کا موازنہ traditional companies کے stock buybacks سے بھی کیا ہے۔
Traditional stock market میں کوئی profitable company اپنی کمائی سے اپنے shares واپس خرید سکتی ہے۔ اس سے market میں موجود shares کی تعداد کم ہو سکتی ہے اور باقی shares کی ownership نسبتاً زیادہ concentrated ہو جاتی ہے۔
Crypto میں token buyback اور burn کا تصور کچھ حد تک اسی طرح کام کر سکتا ہے۔
لیکن دونوں چیزوں کو مکمل طور پر ایک جیسا سمجھنا غلط ہوگا۔
ایک company کا stock عام طور پر shareholder کو مخصوص قانونی حقوق دیتا ہے، جبکہ crypto token کے rights مختلف ہو سکتے ہیں۔ ہر token holder کو company shareholder کی طرح profits، assets یا dividends پر contractual claim حاصل نہیں ہوتا۔
اس لیے crypto revenue models کو سمجھتے وقت stock market کی مثال صرف ایک آسان comparison کے طور پر استعمال کی جا سکتی ہے، مکمل equivalence کے طور پر نہیں۔
کیا Crypto Valuations واقعی Double ہو سکتی ہیں؟
یہاں سب سے اہم بات آتی ہے۔
Matt Hougan نے یہ نہیں کہا کہ تمام cryptocurrencies کی قیمتیں لازمی دگنی ہوں گی۔
ان کا argument conditional ہے۔
یعنی اگر crypto protocols کی revenue capture مضبوط ہوتی ہے، اگر users کی activity برقرار رہتی ہے، اگر tokens کے economic models بہتر ہوتے ہیں اور اگر investors اس نئے model کو زیادہ value دیتے ہیں، تو valuations میں بہت بڑی growth ممکن ہے۔
یہ ایک prediction ہے، guarantee نہیں۔
مثال کے طور پر اگر کسی protocol کی revenue مسلسل بڑھ رہی ہے لیکن token کی supply بھی تیزی سے بڑھ رہی ہے، تو revenue growth کا فائدہ محدود ہو سکتا ہے۔
اسی طرح اگر network activity کم ہو جائے تو fees بھی کم ہو سکتی ہیں اور buybacks یا burns بھی کم ہو سکتے ہیں۔
اس لیے صرف “token burn” دیکھ کر کسی project کو bullish سمجھ لینا خطرناک ہو سکتا ہے۔
Solana اور Layer-1 networks کی طرف بھی توجہ
یہ trend DeFi protocols سے نکل کر Layer-1 blockchains تک بھی پہنچ رہا ہے۔
Hougan نے Solana کے ایسے proposals کا حوالہ دیا ہے جن کا مقصد network fees، token burns اور issuance economics میں تبدیلی لانا ہے۔
مثلاً ایک proposed model میں transaction fee structure کو تبدیل کرنے اور کچھ fees کو burn کرنے کی بات کی گئی ہے۔
اگر ایسے proposals مکمل طور پر implement ہوتے ہیں اور network activity بھی مضبوط رہتی ہے تو SOL کی supply dynamics پر اثر پڑ سکتا ہے۔
لیکن یہاں بھی احتیاط ضروری ہے۔
Proposal، validator signaling اور final implementation تین مختلف چیزیں ہیں۔ جب تک کوئی change مکمل طور پر approve اور implement نہ ہو جائے، اس کے ممکنہ اثرات کو guaranteed outcome نہیں سمجھنا چاہیے۔
Regulation بھی بہت اہم ہے
Crypto revenue models کی کامیابی صرف technology پر depend نہیں کرتی۔
Regulation بھی ایک بڑا factor ہے۔
امریکہ میں crypto regulations کے حوالے سے حالیہ تبدیلیوں نے industry کو زیادہ واضح rules کی امید دی ہے۔ اگر regulators ایسے models کے لیے زیادہ واضح guidelines فراہم کرتے ہیں جن میں protocol revenue، token buybacks یا دیگر economic mechanisms شامل ہوں، تو crypto projects کے لیے نئے models بنانا آسان ہو سکتا ہے۔
لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہر token buyback یا revenue-sharing mechanism automatically قانونی طور پر approved ہے۔
کسی token کی legal classification، اس کی offering، investors سے کیے گئے promises اور project team کا کردار سب اہم ہو سکتے ہیں۔
اسی لیے crypto investors کو صرف یہ دیکھ کر فیصلہ نہیں کرنا چاہیے کہ “revenue token کے ساتھ connected ہے۔”
Legal structure بھی اتنا ہی اہم ہے۔
Crypto market کے لیے اس trend کا اصل مطلب کیا ہے؟
میرے خیال میں Hougan کی بات کا سب سے اہم حصہ “price double” نہیں بلکہ valuation کا طریقہ بدلنے کا امکان ہے۔
Crypto market میں ایک طویل عرصے تک tokens کی valuation بہت زیادہ speculation، narratives اور future expectations پر depend کرتی رہی۔
Bitcoin کے معاملے میں scarcity، adoption اور network effects کی بحث ہوتی ہے۔
لیکن altcoins میں سوال زیادہ مشکل ہے:
یہ token آخر value پیدا کیسے کرتا ہے؟
اگر کوئی protocol ہزاروں یا لاکھوں users کو service فراہم کر رہا ہے، کروڑوں ڈالر کی fees generate کر رہا ہے اور اس revenue کا ایک واضح حصہ token economics کو support کر رہا ہے، تو investor کے پاس valuation کرنے کے لیے ایک اضافی metric موجود ہو جاتا ہے۔
یہ crypto market کو ایک زیادہ mature direction میں لے جا سکتا ہے۔
Investors کو کیا دیکھنا چاہیے؟
اگر یہ trend آگے بڑھتا ہے تو investors کے لیے صرف token price دیکھنا کافی نہیں ہوگا۔
سب سے پہلے دیکھیں کہ protocol کی حقیقی revenue کتنی ہے۔
پھر دیکھیں کہ یہ revenue کہاں جا رہی ہے۔
کیا وہ treasury میں جا رہی ہے؟
کیا users کو incentives دیے جا رہے ہیں؟
کیا tokens buy کیے جا رہے ہیں؟
کیا tokens burn کیے جا رہے ہیں؟
اور سب سے اہم، کیا یہ mechanism مستقل اور transparent ہے؟
دوسرا اہم metric network activity ہے۔
اگر token buybacks صرف ایک مختصر مدت کے لیے ہو رہے ہیں اور protocol کی underlying activity کمزور ہے تو long-term thesis زیادہ مضبوط نہیں ہوگی۔
تیسری چیز token supply ہے۔
اگر project ایک طرف tokens buy اور burn کر رہا ہے لیکن دوسری طرف بہت بڑی نئی supply market میں آ رہی ہے تو net effect کو سمجھنا ضروری ہے۔
آگے کیا ہو سکتا ہے؟
Matt Hougan کا اندازہ ہے کہ اگلے 12 سے 24 ماہ میں مزید DeFi applications اور Layer-1 networks revenue-linked token models کی طرف جا سکتے ہیں۔
اگر یہ prediction درست ثابت ہوتی ہے تو crypto market میں ایک دلچسپ تبدیلی آ سکتی ہے۔
Future میں شاید investors صرف یہ نہ پوچھیں کہ:
“یہ token کس project کا ہے؟”
بلکہ وہ یہ بھی پوچھیں گے:
“یہ protocol کتنی revenue generate کرتا ہے؟”
“اس revenue کا کتنا حصہ token کو benefit کرتا ہے؟”
“Token کی supply کتنی تیزی سے بڑھ رہی ہے؟”
اور “کیا network کی growth واقعی token کی demand میں تبدیل ہو رہی ہے؟”
یہ سوالات crypto investing کو زیادہ data-driven بنا سکتے ہیں۔
آخری بات
Bitwise CIO Matt Hougan کی prediction crypto market کے لیے یقیناً دلچسپ ہے، لیکن اسے ایک bullish scenario کے طور پر دیکھنا زیادہ مناسب ہے، guaranteed future کے طور پر نہیں۔
Crypto valuations دگنی ہوں گی یا نہیں، اس کا انحصار صرف token burns یا buybacks پر نہیں ہوگا۔
User adoption، network activity، revenue growth، token supply، competition، liquidity اور regulation سب مل کر فیصلہ کریں گے کہ کسی token کی حقیقی economic value کتنی بنتی ہے۔
لیکن ایک چیز واضح ہے: crypto industry آہستہ آہستہ اس سوال کا جواب دینے کی کوشش کر رہی ہے کہ “اگر network پیسہ کماتا ہے تو اس کا فائدہ token کو کیسے ملے گا؟”
Hyperliquid، Uniswap، Aave اور Pump.fun جیسے projects اس direction میں مختلف تجربات کر رہے ہیں۔
اگر آنے والے سالوں میں یہ models کامیاب ہوتے ہیں تو crypto valuation کا انداز واقعی بدل سکتا ہے۔
اور شاید یہی وہ تبدیلی ہے جس کی طرف Matt Hougan اشارہ کر رہے ہیں۔
نوٹ: یہ مضمون صرف معلومات اور تعلیمی مقصد کے لیے ہے، اسے investment advice نہ سمجھا جائے۔ Crypto assets میں سرمایہ کاری میں نمایاں risk موجود ہوتا ہے، اور کسی بھی token کی قیمت بڑھنے کی ضمانت نہیں دی جا سکتی۔
#SICryptoNews #bitcoin #BullRunAhead
Банк Англии и Polygon тестируют новую модель для торговли цифровым фунтом и стейблкоинами в сфере торгового финансирования #SICryptoNews #BankOfEngland #bitcoin
Банк Англии и Polygon тестируют новую модель для торговли цифровым фунтом и стейблкоинами в сфере торгового финансирования
#SICryptoNews #BankOfEngland #bitcoin
Статья
См. перевод
Bank of England اور Polygon کا نیا تجربہ: کیا Digital Pound اور Stablecoins ایک ساتھ کام کر سکتے ہیںدنیا کا مالیاتی نظام آہستہ آہستہ ایک ایسے دور کی طرف بڑھ رہا ہے جہاں روایتی پیسوں کے ساتھ ساتھ stablecoins، blockchain اور digital currencies بھی اہم کردار ادا کر سکتی ہیں۔ اسی سمت میں ایک دلچسپ قدم برطانیہ سے سامنے آیا ہے۔ Bank of England نے اپنے Digital Pound Lab کے Phase 2 میں Polygon Labs، NOBO Finance اور Dun & Bradstreet کو شامل کیا ہے۔ مقصد یہ دیکھنا ہے کہ blockchain، stablecoins اور ممکنہ digital pound کو کاروباری لین دین، خاص طور پر international trade finance، میں کس طرح استعمال کیا جا سکتا ہے۔ چھوٹے کاروباروں کے لیے کیا بدلے گا؟ بین الاقوامی تجارت میں چھوٹے اور درمیانے کاروباروں کو اکثر ایک مسئلے کا سامنا ہوتا ہے: payment آنے میں وقت لگتا ہے اور financing حاصل کرنے کے لیے بار بار verification کروانی پڑتی ہے۔ نئے تجربے میں ایک ایسا SME Bankable Profile بنانے کی کوشش کی جائے گی جس میں کاروبار کی transaction history، open finance data اور business information شامل ہوگی۔ سادہ الفاظ میں، اگر کوئی کاروبار پہلے ہی ایک verified financial profile رکھتا ہے تو مستقبل میں اسے ہر نئے financing provider کے سامنے دوبارہ وہی لمبا verification process مکمل نہ کرنا پڑے۔ Dun & Bradstreet business اور risk information فراہم کرے گا، جبکہ Polygon smart contracts کے ذریعے consent، verification اور financing process کو manage کرنے میں مدد دے گا۔ Stablecoin اور Digital Pound ایک ہی transaction میں اس منصوبے کا دوسرا حصہ شاید crypto industry کے لیے زیادہ دلچسپ ہے۔ اس experiment میں یہ test کیا جائے گا کہ ایک ہی trade transaction میں مختلف قسم کی digital money استعمال کی جا سکتی ہے یا نہیں۔ مثال کے طور پر، ایک exporter کو stablecoin میں advance payment مل سکتی ہے، جبکہ UK کا importer اپنی final payment digital pound میں مکمل کر سکتا ہے۔ یعنی ایک transaction میں private digital money اور central-bank money دونوں اپنا کردار ادا کریں گے۔ اگر یہ model عملی طور پر کامیاب ثابت ہوتا ہے تو مستقبل میں international trade کے لیے payment process زیادہ تیز اور flexible ہو سکتا ہے۔ Polygon کے لیے بھی اہم پیش رفت اس پورے تجربے میں Polygon Labs blockchain infrastructure فراہم کرے گا۔ اس میں stablecoin settlement، wallets اور smart contracts جیسے tools شامل ہیں۔ یہ Polygon کے لیے بھی اہم ہے کیونکہ network صرف crypto trading کے بجائے institutional payments اور real-world financial applications میں اپنی technology کے استعمال کو بڑھانے کی کوشش کر رہا ہے۔ کیا Digital Pound اب launch ہونے والا ہے؟ یہاں ایک اہم وضاحت ضروری ہے۔ Bank of England نے ابھی Digital Pound launch کرنے کا فیصلہ نہیں کیا۔ Digital Pound Lab ایک experimental environment ہے جہاں مختلف ideas اور technologies کو test کیا جا رہا ہے۔ اس test میں حقیقی customers یا حقیقی money استعمال نہیں ہو رہا۔ اس لیے اسے Digital Pound کی launch announcement سمجھنا درست نہیں ہوگا۔ Crypto market پر ممکنہ اثر میرے خیال میں اس خبر کا سب سے بڑا پہلو Bitcoin یا کسی ایک cryptocurrency کی price نہیں، بلکہ blockchain اور stablecoins کا traditional financial system میں بڑھتا ہوا استعمال ہے۔ اگر مرکزی بینک، financial institutions اور بڑے کاروبار blockchain-based payments کو مزید test کرتے ہیں، تو stablecoins کے لیے adoption کا راستہ کھل سکتا ہے۔ یہ crypto industry کے لیے ایک مثبت signal ہے، کیونکہ blockchain کو صرف speculation کے بجائے payments، trade finance اور business infrastructure کے طور پر استعمال کرنے کے امکانات بڑھ رہے ہیں۔ ابھی یہ صرف ایک experiment ہے، لیکن ایسے experiments ہی مستقبل کے financial system کی بنیاد بن سکتے ہیں۔ #SICryptoNews #bitcoin #BankOfEngland $LINK {future}(LINKUSDT)

Bank of England اور Polygon کا نیا تجربہ: کیا Digital Pound اور Stablecoins ایک ساتھ کام کر سکتے ہیں

دنیا کا مالیاتی نظام آہستہ آہستہ ایک ایسے دور کی طرف بڑھ رہا ہے جہاں روایتی پیسوں کے ساتھ ساتھ stablecoins، blockchain اور digital currencies بھی اہم کردار ادا کر سکتی ہیں۔
اسی سمت میں ایک دلچسپ قدم برطانیہ سے سامنے آیا ہے۔ Bank of England نے اپنے Digital Pound Lab کے Phase 2 میں Polygon Labs، NOBO Finance اور Dun & Bradstreet کو شامل کیا ہے۔ مقصد یہ دیکھنا ہے کہ blockchain، stablecoins اور ممکنہ digital pound کو کاروباری لین دین، خاص طور پر international trade finance، میں کس طرح استعمال کیا جا سکتا ہے۔
چھوٹے کاروباروں کے لیے کیا بدلے گا؟
بین الاقوامی تجارت میں چھوٹے اور درمیانے کاروباروں کو اکثر ایک مسئلے کا سامنا ہوتا ہے: payment آنے میں وقت لگتا ہے اور financing حاصل کرنے کے لیے بار بار verification کروانی پڑتی ہے۔
نئے تجربے میں ایک ایسا SME Bankable Profile بنانے کی کوشش کی جائے گی جس میں کاروبار کی transaction history، open finance data اور business information شامل ہوگی۔
سادہ الفاظ میں، اگر کوئی کاروبار پہلے ہی ایک verified financial profile رکھتا ہے تو مستقبل میں اسے ہر نئے financing provider کے سامنے دوبارہ وہی لمبا verification process مکمل نہ کرنا پڑے۔
Dun & Bradstreet business اور risk information فراہم کرے گا، جبکہ Polygon smart contracts کے ذریعے consent، verification اور financing process کو manage کرنے میں مدد دے گا۔
Stablecoin اور Digital Pound ایک ہی transaction میں
اس منصوبے کا دوسرا حصہ شاید crypto industry کے لیے زیادہ دلچسپ ہے۔
اس experiment میں یہ test کیا جائے گا کہ ایک ہی trade transaction میں مختلف قسم کی digital money استعمال کی جا سکتی ہے یا نہیں۔
مثال کے طور پر، ایک exporter کو stablecoin میں advance payment مل سکتی ہے، جبکہ UK کا importer اپنی final payment digital pound میں مکمل کر سکتا ہے۔
یعنی ایک transaction میں private digital money اور central-bank money دونوں اپنا کردار ادا کریں گے۔
اگر یہ model عملی طور پر کامیاب ثابت ہوتا ہے تو مستقبل میں international trade کے لیے payment process زیادہ تیز اور flexible ہو سکتا ہے۔
Polygon کے لیے بھی اہم پیش رفت
اس پورے تجربے میں Polygon Labs blockchain infrastructure فراہم کرے گا۔ اس میں stablecoin settlement، wallets اور smart contracts جیسے tools شامل ہیں۔
یہ Polygon کے لیے بھی اہم ہے کیونکہ network صرف crypto trading کے بجائے institutional payments اور real-world financial applications میں اپنی technology کے استعمال کو بڑھانے کی کوشش کر رہا ہے۔
کیا Digital Pound اب launch ہونے والا ہے؟
یہاں ایک اہم وضاحت ضروری ہے۔
Bank of England نے ابھی Digital Pound launch کرنے کا فیصلہ نہیں کیا۔ Digital Pound Lab ایک experimental environment ہے جہاں مختلف ideas اور technologies کو test کیا جا رہا ہے۔
اس test میں حقیقی customers یا حقیقی money استعمال نہیں ہو رہا۔
اس لیے اسے Digital Pound کی launch announcement سمجھنا درست نہیں ہوگا۔
Crypto market پر ممکنہ اثر
میرے خیال میں اس خبر کا سب سے بڑا پہلو Bitcoin یا کسی ایک cryptocurrency کی price نہیں، بلکہ blockchain اور stablecoins کا traditional financial system میں بڑھتا ہوا استعمال ہے۔
اگر مرکزی بینک، financial institutions اور بڑے کاروبار blockchain-based payments کو مزید test کرتے ہیں، تو stablecoins کے لیے adoption کا راستہ کھل سکتا ہے۔
یہ crypto industry کے لیے ایک مثبت signal ہے، کیونکہ blockchain کو صرف speculation کے بجائے payments، trade finance اور business infrastructure کے طور پر استعمال کرنے کے امکانات بڑھ رہے ہیں۔
ابھی یہ صرف ایک experiment ہے، لیکن ایسے experiments ہی مستقبل کے financial system کی بنیاد بن سکتے ہیں۔
#SICryptoNews #bitcoin #BankOfEngland $LINK
Статья
См. перевод
Bitcoin Strategic Reserve کیا ہے؟ حکومتیں Bitcoin کو قومی خزانے کا حصہ کیوں بنا رہی ہیں؟Bitcoin Strategic Reserve کیا ہے؟ حکومتیں Bitcoin کو قومی خزانے کا حصہ کیوں بنا رہی ہیں؟ کچھ سال پہلے اگر کوئی کہتا کہ حکومتیں Bitcoin کو اپنے قومی ذخائر میں رکھنے پر غور کریں گی تو شاید یہ بات عجیب لگتی۔ Bitcoin کو زیادہ تر لوگ ایک نئی اور risky cryptocurrency سمجھتے تھے۔ لیکن اب صورتحال بدل رہی ہے۔ Gold، foreign currencies اور government bonds کے ساتھ Bitcoin کا نام بھی reserve asset کے طور پر لیا جا رہا ہے۔ امریکہ کی طرف سے Strategic Bitcoin Reserve بنانے کے فیصلے نے اس بحث کو مزید اہم بنا دیا ہے۔ لیکن آخر Bitcoin Strategic Reserve ہوتا کیا ہے؟ اور اگر حکومتیں Bitcoin خریدنا شروع کر دیں تو عام crypto investors کے لیے اس کا کیا مطلب ہوگا؟ آئیے آسان الفاظ میں سمجھتے ہیں۔ Bitcoin Strategic Reserve کیا ہوتا ہے؟ سادہ الفاظ میں، Bitcoin Strategic Reserve حکومت کی طرف سے Bitcoin کا ایسا ذخیرہ ہے جسے قومی اثاثے کے طور پر محفوظ رکھا جاتا ہے۔ جس طرح حکومتیں اپنے پاس Gold یا foreign currency reserves رکھتی ہیں، اسی طرح Bitcoin کو بھی ایک long-term strategic asset کے طور پر رکھنے کا تصور ہے۔ اس کا مقصد ضروری نہیں کہ Bitcoin کو روزانہ کی payments میں استعمال کیا جائے۔ اصل مقصد اسے ایک ایسے asset کے طور پر رکھنا ہے جس کی value مستقبل میں ملک کے financial reserves کا حصہ بن سکتی ہے۔ امریکہ نے Bitcoin Reserve کیوں بنایا؟ 6 مارچ 2025 کو امریکی صدر Donald Trump نے ایک Executive Order پر دستخط کیے جس کے بعد US Strategic Bitcoin Reserve بنانے کی ہدایت دی گئی۔ ابتدائی طور پر reserve میں تقریباً 200,000 BTC شامل کیے گئے، جو زیادہ تر مختلف criminal cases اور asset seizures کے ذریعے پہلے ہی امریکی حکومت کے قبضے میں تھے۔ یہاں ایک اہم فرق سمجھنا ضروری ہے۔ حکومت نے یہ تمام Bitcoin عام مارکیٹ سے خرید کر reserve میں نہیں ڈالے۔ ان میں سے بڑی مقدار پہلے ہی government custody میں موجود تھی۔ نئے framework کے تحت reserve میں موجود Bitcoin کو فروخت نہ کرنے کی پالیسی بھی اہم ہے۔ یعنی حکومت اسے فوری طور پر cash میں تبدیل کرنے کے بجائے ایک long-term asset کے طور پر دیکھ رہی ہے۔ Bitcoin کو reserve asset بنانے کی سب سے بڑی وجہ کیا ہے؟ اس کے حامی عام طور پر تین بنیادی arguments دیتے ہیں: Scarcity، Sovereignty اور Diversification۔ 1. Bitcoin کی محدود supply Bitcoin کی سب سے مشہور خصوصیت اس کی limited supply ہے۔ Bitcoin کی maximum supply تقریباً 21 million coins ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ اس کی supply کو کسی حکومت یا مرکزی بینک کی مرضی سے لامحدود نہیں بڑھایا جا سکتا۔ Bitcoin supporters کے لیے یہی scarcity اسے ایک دلچسپ long-term asset بناتی ہے۔ 2. Financial Sovereignty دوسرا argument financial independence کا ہے۔ Bitcoin کسی ایک حکومت یا مرکزی بینک کے control میں نہیں ہے۔ اگر کوئی ملک اپنے reserves کا کچھ حصہ ایسے asset میں رکھتا ہے جسے کسی ایک foreign government کے monetary system سے براہ راست control نہیں کیا جا سکتا، تو اسے ایک قسم کی financial protection سمجھا جا سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کچھ policymakers Bitcoin کو صرف investment نہیں بلکہ sovereign asset کے طور پر دیکھنے لگے ہیں۔ 3. Diversification تیسرا reason portfolio diversification ہے۔ حکومتوں کے reserves عام طور پر مختلف assets میں تقسیم ہوتے ہیں۔ Bitcoin کو شامل کرنے کا خیال یہ ہے کہ national reserve portfolio میں ایک مختلف type کا asset بھی موجود ہو۔ لیکن یہاں ایک مسئلہ ہے۔ Bitcoin کی volatility بہت زیادہ ہے۔ یعنی جس طرح Bitcoin تیزی سے اوپر جا سکتا ہے، اسی طرح اس کی price میں بڑی کمی بھی آ سکتی ہے۔ اسی لیے Bitcoin کو reserve asset بنانے پر ابھی بھی شدید بحث جاری ہے۔ کیا دوسرے ممالک بھی Bitcoin Reserve چاہتے ہیں؟ امریکہ کے اقدام کے بعد دنیا کے کئی حصوں میں Bitcoin reserve کے حوالے سے proposals اور discussions سامنے آئی ہیں۔ Brazil، Czech Republic، Poland اور Japan جیسے ممالک میں Bitcoin کو national reserves میں شامل کرنے کے حوالے سے مختلف تجاویز یا debates سامنے آ چکی ہیں۔ امریکہ کی کچھ ریاستوں نے بھی اپنے level پر Bitcoin reserve کے ideas کو آگے بڑھایا ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ یہ تمام ممالک بڑے پیمانے پر Bitcoin خرید چکے ہیں۔ اصل اہم بات یہ ہے کہ Bitcoin اب صرف private investors کی discussion نہیں رہی۔ Governments بھی اسے seriously discuss کر رہی ہیں۔ El Salvador پہلے ہی یہ تجربہ کر چکا ہے El Salvador اس معاملے میں ایک نمایاں مثال ہے۔ 2021 میں ملک نے Bitcoin کو legal tender کے طور پر adopt کیا اور حکومت نے Bitcoin خریدنا شروع کیا۔ اس فیصلے نے دنیا بھر میں بحث چھیڑ دی کہ کیا ایک ملک Bitcoin کو اپنے financial system میں واقعی شامل کر سکتا ہے؟ El Salvador کا تجربہ اب دوسرے ممالک کے لیے بھی ایک case study بن چکا ہے۔ اگر مزید حکومتیں Bitcoin خریدیں تو Crypto Market پر کیا اثر ہوگا؟ یہاں سے عام investor کے لیے سب سے دلچسپ سوال شروع ہوتا ہے۔ اگر بڑی تعداد میں governments Bitcoin کو اپنے reserves میں شامل کرتی ہیں تو Bitcoin کی demand میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ Bitcoin کی supply محدود ہے، جبکہ demand میں اضافہ price پر upward pressure پیدا کر سکتا ہے۔ لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ Bitcoin کی price لازمی طور پر اوپر جائے گی۔ Crypto market میں بہت سے دوسرے factors بھی کام کرتے ہیں، جیسے interest rates، regulations، institutional demand، economic conditions اور investor sentiment۔ Government adoption سے Bitcoin کی credibility بڑھ سکتی ہے Bitcoin کے لیے شاید سب سے بڑا فائدہ صرف additional buying نہ ہو۔ اصل فائدہ legitimacy ہو سکتا ہے۔ اگر ایک حکومت Bitcoin کو national reserve asset سمجھتی ہے تو دوسری حکومتیں بھی اسے زیادہ سنجیدگی سے دیکھ سکتی ہیں۔ اس کے بعد financial institutions اور بڑے investors کے لیے Bitcoin کو portfolio میں شامل کرنے کی بحث مزید آسان ہو سکتی ہے۔ ایک وقت تھا جب Bitcoin کو صرف internet money کہا جاتا تھا۔ اب اس پر sovereign reserves کے حوالے سے بحث ہو رہی ہے۔ یہ خود ایک بڑی تبدیلی ہے۔ لیکن Bitcoin Reserve کے risks بھی ہیں اس تصویر کا دوسرا رخ بھی دیکھنا ضروری ہے۔ Bitcoin کی volatility Bitcoin کی history میں کئی مرتبہ بہت بڑی price declines دیکھنے کو ملی ہیں۔ اگر کوئی حکومت اربوں ڈالر کا Bitcoin رکھتی ہے اور market میں 40 یا 50 فیصد correction آ جاتا ہے تو reserve کی value بھی تیزی سے کم ہو سکتی ہے۔ یہ public assets ہیں، اس لیے سیاسی pressure بھی پیدا ہو سکتا ہے۔ Opportunity Cost Bitcoin کوئی interest یا dividend نہیں دیتا۔ اگر حکومت Bitcoin کے بجائے bonds رکھتی ہے تو اسے interest income حاصل ہو سکتی ہے۔ Bitcoin supporters کا جواب یہ ہے کہ Gold بھی vault میں رکھے جانے پر income نہیں دیتا، پھر بھی حکومتیں اسے reserve asset کے طور پر رکھتی ہیں۔ یعنی reserve asset کا مقصد صرف income پیدا کرنا نہیں بلکہ long-term value preservation بھی ہو سکتا ہے۔ اصل سوال Bitcoin کی قیمت نہیں، مستقبل کا financial system ہے Bitcoin Strategic Reserve کی بحث صرف اس بارے میں نہیں کہ Bitcoin اگلے سال کتنے ڈالر کا ہوگا۔ اصل سوال اس سے کہیں بڑا ہے: کیا Bitcoin مستقبل میں Gold اور foreign currencies کی طرح ایک accepted reserve asset بن سکتا ہے؟ اگر جواب ہاں میں نکلتا ہے تو آج کے government reserve experiments بہت اہم ثابت ہو سکتے ہیں۔ اور اگر Bitcoin کی volatility، regulation اور political risks زیادہ ثابت ہوئے تو governments کی adoption محدود بھی رہ سکتی ہے۔ ابھی یہ ایک developing story ہے۔ لیکن ایک بات واضح ہے: Bitcoin اب صرف retail investors کی کہانی نہیں رہا۔ Governments بھی اس پر غور کر رہی ہیں۔ نتیجہ Bitcoin Strategic Reserve crypto industry کے لیے ایک اہم development ہے۔ امریکہ کا فیصلہ، El Salvador کا تجربہ اور دوسرے ممالک میں جاری proposals یہ ظاہر کرتے ہیں کہ Bitcoin کو traditional financial assets کے مقابلے میں ایک نئے زاویے سے دیکھا جا رہا ہے۔ یہ Bitcoin کے لیے بہت بڑا opportunity بھی ہو سکتا ہے اور ایک بڑا risk بھی۔ اگر governments بڑے پیمانے پر Bitcoin accumulate کرتی ہیں تو demand اور institutional confidence بڑھ سکتا ہے۔ لیکن اگر Bitcoin کی volatility برقرار رہتی ہے تو public reserves کے لیے یہ ایک challenging asset بھی ثابت ہو سکتا ہے۔ Bitcoin کا مستقبل صرف investors کے ہاتھ میں نہیں۔ آنے والے سالوں میں governments کے فیصلے بھی اس کی direction پر بڑا اثر ڈال سکتے ہیں۔ نوٹ: یہ مضمون صرف معلوماتی مقصد کے لیے ہے۔ Bitcoin ایک volatile asset ہے۔ کسی بھی investment decision سے پہلے اپنی research ضرور کریں۔ #SICryptoNews #BitcoinStrategicReserve #BTC

Bitcoin Strategic Reserve کیا ہے؟ حکومتیں Bitcoin کو قومی خزانے کا حصہ کیوں بنا رہی ہیں؟

Bitcoin Strategic Reserve کیا ہے؟ حکومتیں Bitcoin کو قومی خزانے کا حصہ کیوں بنا رہی ہیں؟
کچھ سال پہلے اگر کوئی کہتا کہ حکومتیں Bitcoin کو اپنے قومی ذخائر میں رکھنے پر غور کریں گی تو شاید یہ بات عجیب لگتی۔ Bitcoin کو زیادہ تر لوگ ایک نئی اور risky cryptocurrency سمجھتے تھے۔
لیکن اب صورتحال بدل رہی ہے۔
Gold، foreign currencies اور government bonds کے ساتھ Bitcoin کا نام بھی reserve asset کے طور پر لیا جا رہا ہے۔ امریکہ کی طرف سے Strategic Bitcoin Reserve بنانے کے فیصلے نے اس بحث کو مزید اہم بنا دیا ہے۔
لیکن آخر Bitcoin Strategic Reserve ہوتا کیا ہے؟ اور اگر حکومتیں Bitcoin خریدنا شروع کر دیں تو عام crypto investors کے لیے اس کا کیا مطلب ہوگا؟
آئیے آسان الفاظ میں سمجھتے ہیں۔
Bitcoin Strategic Reserve کیا ہوتا ہے؟
سادہ الفاظ میں، Bitcoin Strategic Reserve حکومت کی طرف سے Bitcoin کا ایسا ذخیرہ ہے جسے قومی اثاثے کے طور پر محفوظ رکھا جاتا ہے۔
جس طرح حکومتیں اپنے پاس Gold یا foreign currency reserves رکھتی ہیں، اسی طرح Bitcoin کو بھی ایک long-term strategic asset کے طور پر رکھنے کا تصور ہے۔
اس کا مقصد ضروری نہیں کہ Bitcoin کو روزانہ کی payments میں استعمال کیا جائے۔ اصل مقصد اسے ایک ایسے asset کے طور پر رکھنا ہے جس کی value مستقبل میں ملک کے financial reserves کا حصہ بن سکتی ہے۔
امریکہ نے Bitcoin Reserve کیوں بنایا؟
6 مارچ 2025 کو امریکی صدر Donald Trump نے ایک Executive Order پر دستخط کیے جس کے بعد US Strategic Bitcoin Reserve بنانے کی ہدایت دی گئی۔
ابتدائی طور پر reserve میں تقریباً 200,000 BTC شامل کیے گئے، جو زیادہ تر مختلف criminal cases اور asset seizures کے ذریعے پہلے ہی امریکی حکومت کے قبضے میں تھے۔
یہاں ایک اہم فرق سمجھنا ضروری ہے۔
حکومت نے یہ تمام Bitcoin عام مارکیٹ سے خرید کر reserve میں نہیں ڈالے۔ ان میں سے بڑی مقدار پہلے ہی government custody میں موجود تھی۔
نئے framework کے تحت reserve میں موجود Bitcoin کو فروخت نہ کرنے کی پالیسی بھی اہم ہے۔
یعنی حکومت اسے فوری طور پر cash میں تبدیل کرنے کے بجائے ایک long-term asset کے طور پر دیکھ رہی ہے۔
Bitcoin کو reserve asset بنانے کی سب سے بڑی وجہ کیا ہے؟
اس کے حامی عام طور پر تین بنیادی arguments دیتے ہیں:
Scarcity، Sovereignty اور Diversification۔
1. Bitcoin کی محدود supply
Bitcoin کی سب سے مشہور خصوصیت اس کی limited supply ہے۔
Bitcoin کی maximum supply تقریباً 21 million coins ہے۔
اس کا مطلب ہے کہ اس کی supply کو کسی حکومت یا مرکزی بینک کی مرضی سے لامحدود نہیں بڑھایا جا سکتا۔
Bitcoin supporters کے لیے یہی scarcity اسے ایک دلچسپ long-term asset بناتی ہے۔
2. Financial Sovereignty
دوسرا argument financial independence کا ہے۔
Bitcoin کسی ایک حکومت یا مرکزی بینک کے control میں نہیں ہے۔
اگر کوئی ملک اپنے reserves کا کچھ حصہ ایسے asset میں رکھتا ہے جسے کسی ایک foreign government کے monetary system سے براہ راست control نہیں کیا جا سکتا، تو اسے ایک قسم کی financial protection سمجھا جا سکتا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ کچھ policymakers Bitcoin کو صرف investment نہیں بلکہ sovereign asset کے طور پر دیکھنے لگے ہیں۔
3. Diversification
تیسرا reason portfolio diversification ہے۔
حکومتوں کے reserves عام طور پر مختلف assets میں تقسیم ہوتے ہیں۔ Bitcoin کو شامل کرنے کا خیال یہ ہے کہ national reserve portfolio میں ایک مختلف type کا asset بھی موجود ہو۔
لیکن یہاں ایک مسئلہ ہے۔
Bitcoin کی volatility بہت زیادہ ہے۔
یعنی جس طرح Bitcoin تیزی سے اوپر جا سکتا ہے، اسی طرح اس کی price میں بڑی کمی بھی آ سکتی ہے۔
اسی لیے Bitcoin کو reserve asset بنانے پر ابھی بھی شدید بحث جاری ہے۔
کیا دوسرے ممالک بھی Bitcoin Reserve چاہتے ہیں؟
امریکہ کے اقدام کے بعد دنیا کے کئی حصوں میں Bitcoin reserve کے حوالے سے proposals اور discussions سامنے آئی ہیں۔
Brazil، Czech Republic، Poland اور Japan جیسے ممالک میں Bitcoin کو national reserves میں شامل کرنے کے حوالے سے مختلف تجاویز یا debates سامنے آ چکی ہیں۔
امریکہ کی کچھ ریاستوں نے بھی اپنے level پر Bitcoin reserve کے ideas کو آگے بڑھایا ہے۔
اس کا مطلب یہ نہیں کہ یہ تمام ممالک بڑے پیمانے پر Bitcoin خرید چکے ہیں۔
اصل اہم بات یہ ہے کہ Bitcoin اب صرف private investors کی discussion نہیں رہی۔
Governments بھی اسے seriously discuss کر رہی ہیں۔
El Salvador پہلے ہی یہ تجربہ کر چکا ہے
El Salvador اس معاملے میں ایک نمایاں مثال ہے۔
2021 میں ملک نے Bitcoin کو legal tender کے طور پر adopt کیا اور حکومت نے Bitcoin خریدنا شروع کیا۔
اس فیصلے نے دنیا بھر میں بحث چھیڑ دی کہ کیا ایک ملک Bitcoin کو اپنے financial system میں واقعی شامل کر سکتا ہے؟
El Salvador کا تجربہ اب دوسرے ممالک کے لیے بھی ایک case study بن چکا ہے۔
اگر مزید حکومتیں Bitcoin خریدیں تو Crypto Market پر کیا اثر ہوگا؟
یہاں سے عام investor کے لیے سب سے دلچسپ سوال شروع ہوتا ہے۔
اگر بڑی تعداد میں governments Bitcoin کو اپنے reserves میں شامل کرتی ہیں تو Bitcoin کی demand میں اضافہ ہو سکتا ہے۔
Bitcoin کی supply محدود ہے، جبکہ demand میں اضافہ price پر upward pressure پیدا کر سکتا ہے۔
لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ Bitcoin کی price لازمی طور پر اوپر جائے گی۔
Crypto market میں بہت سے دوسرے factors بھی کام کرتے ہیں، جیسے interest rates، regulations، institutional demand، economic conditions اور investor sentiment۔
Government adoption سے Bitcoin کی credibility بڑھ سکتی ہے
Bitcoin کے لیے شاید سب سے بڑا فائدہ صرف additional buying نہ ہو۔
اصل فائدہ legitimacy ہو سکتا ہے۔
اگر ایک حکومت Bitcoin کو national reserve asset سمجھتی ہے تو دوسری حکومتیں بھی اسے زیادہ سنجیدگی سے دیکھ سکتی ہیں۔
اس کے بعد financial institutions اور بڑے investors کے لیے Bitcoin کو portfolio میں شامل کرنے کی بحث مزید آسان ہو سکتی ہے۔
ایک وقت تھا جب Bitcoin کو صرف internet money کہا جاتا تھا۔
اب اس پر sovereign reserves کے حوالے سے بحث ہو رہی ہے۔
یہ خود ایک بڑی تبدیلی ہے۔
لیکن Bitcoin Reserve کے risks بھی ہیں
اس تصویر کا دوسرا رخ بھی دیکھنا ضروری ہے۔
Bitcoin کی volatility
Bitcoin کی history میں کئی مرتبہ بہت بڑی price declines دیکھنے کو ملی ہیں۔
اگر کوئی حکومت اربوں ڈالر کا Bitcoin رکھتی ہے اور market میں 40 یا 50 فیصد correction آ جاتا ہے تو reserve کی value بھی تیزی سے کم ہو سکتی ہے۔
یہ public assets ہیں، اس لیے سیاسی pressure بھی پیدا ہو سکتا ہے۔
Opportunity Cost
Bitcoin کوئی interest یا dividend نہیں دیتا۔
اگر حکومت Bitcoin کے بجائے bonds رکھتی ہے تو اسے interest income حاصل ہو سکتی ہے۔
Bitcoin supporters کا جواب یہ ہے کہ Gold بھی vault میں رکھے جانے پر income نہیں دیتا، پھر بھی حکومتیں اسے reserve asset کے طور پر رکھتی ہیں۔
یعنی reserve asset کا مقصد صرف income پیدا کرنا نہیں بلکہ long-term value preservation بھی ہو سکتا ہے۔
اصل سوال Bitcoin کی قیمت نہیں، مستقبل کا financial system ہے
Bitcoin Strategic Reserve کی بحث صرف اس بارے میں نہیں کہ Bitcoin اگلے سال کتنے ڈالر کا ہوگا۔
اصل سوال اس سے کہیں بڑا ہے:
کیا Bitcoin مستقبل میں Gold اور foreign currencies کی طرح ایک accepted reserve asset بن سکتا ہے؟
اگر جواب ہاں میں نکلتا ہے تو آج کے government reserve experiments بہت اہم ثابت ہو سکتے ہیں۔
اور اگر Bitcoin کی volatility، regulation اور political risks زیادہ ثابت ہوئے تو governments کی adoption محدود بھی رہ سکتی ہے۔
ابھی یہ ایک developing story ہے۔
لیکن ایک بات واضح ہے:
Bitcoin اب صرف retail investors کی کہانی نہیں رہا۔ Governments بھی اس پر غور کر رہی ہیں۔
نتیجہ
Bitcoin Strategic Reserve crypto industry کے لیے ایک اہم development ہے۔
امریکہ کا فیصلہ، El Salvador کا تجربہ اور دوسرے ممالک میں جاری proposals یہ ظاہر کرتے ہیں کہ Bitcoin کو traditional financial assets کے مقابلے میں ایک نئے زاویے سے دیکھا جا رہا ہے۔
یہ Bitcoin کے لیے بہت بڑا opportunity بھی ہو سکتا ہے اور ایک بڑا risk بھی۔
اگر governments بڑے پیمانے پر Bitcoin accumulate کرتی ہیں تو demand اور institutional confidence بڑھ سکتا ہے۔
لیکن اگر Bitcoin کی volatility برقرار رہتی ہے تو public reserves کے لیے یہ ایک challenging asset بھی ثابت ہو سکتا ہے۔
Bitcoin کا مستقبل صرف investors کے ہاتھ میں نہیں۔ آنے والے سالوں میں governments کے فیصلے بھی اس کی direction پر بڑا اثر ڈال سکتے ہیں۔
نوٹ: یہ مضمون صرف معلوماتی مقصد کے لیے ہے۔ Bitcoin ایک volatile asset ہے۔ کسی بھی investment decision سے پہلے اپنی research ضرور کریں۔
#SICryptoNews #BitcoinStrategicReserve #BTC
$XRP впервые почти за 2 года опустилась ниже $1. $XRP {future}(XRPUSDT) $BTC {future}(BTCUSDT)
$XRP впервые почти за 2 года опустилась ниже $1.
$XRP
$BTC
Только 90 биткоин-кошельков хранят 10 000+ BTC — киты Биткоина берут контроль? Под поверхностью рынка Биткоина происходит кое-что интересное. Хотя Биткоину пока не удаётся удержаться выше уровня $65 000, количество очень крупных биткоин-кошельков незаметно выросло до максимума за последние шесть месяцев. Согласно последним данным, сейчас осталось всего 90 кошельков, в которых хранится как минимум 10 000 BTC. За последние восемь недель это число увеличилось на шесть кошельков — примерно на 7%. Почему важны крупные биткоин-кошельки? Главная история заключается не только в количестве кошельков. Важнее то, куда, похоже, движется предложение Биткоина. Пока крупные кошельки растут, более мелкие держатели в августе сокращают свои активы. Santiment связывает часть этого спада среди розничных инвесторов с опасениями и неопределённостью у более мелких участников рынка — в том числе из‑за беспокойства вокруг недавних инцидентов с безопасностью и задержек, связанных с законом CLARITY Act. Проще говоря, часть биткоинов, по всей видимости, уходит от более слабых или мелких держателей и переходит к более крупным. Это не гарантирует ралли цены, но за таким развитием стоит следить. $65 400 — уровень, за которым нужно наблюдать Следующее крупное испытание для Биткоина может прийти примерно на $65 400. Криптовалюта предпринимала несколько попыток подняться выше зоны $65 000, но ей не удавалось удерживать эти достижения. Чёткий пробой выше $65 400 будет более значимым, если Биткоин также сможет показать несколько недельных закрытий выше этого уровня. Если это произойдёт, внимание может сместиться к зоне $77 000–$78 000, а затем — примерно к $83 000. Но есть и сценарий снижения. Если Биткоин продолжит встречать отвержение в текущей зоне сопротивления, $61 500 может стать первым важным уровнем поддержки. Более глубокая коррекция может вернуть в фокус $54 000. #SICryptoNews #BtcWhales $BTC {future}(BTCUSDT) $ETH {future}(ETHUSDT) $SOL {future}(SOLUSDT)
Только 90 биткоин-кошельков хранят 10 000+ BTC — киты Биткоина берут контроль?
Под поверхностью рынка Биткоина происходит кое-что интересное.
Хотя Биткоину пока не удаётся удержаться выше уровня $65 000, количество очень крупных биткоин-кошельков незаметно выросло до максимума за последние шесть месяцев.
Согласно последним данным, сейчас осталось всего 90 кошельков, в которых хранится как минимум 10 000 BTC.
За последние восемь недель это число увеличилось на шесть кошельков — примерно на 7%.
Почему важны крупные биткоин-кошельки?
Главная история заключается не только в количестве кошельков. Важнее то, куда, похоже, движется предложение Биткоина.
Пока крупные кошельки растут, более мелкие держатели в августе сокращают свои активы.
Santiment связывает часть этого спада среди розничных инвесторов с опасениями и неопределённостью у более мелких участников рынка — в том числе из‑за беспокойства вокруг недавних инцидентов с безопасностью и задержек, связанных с законом CLARITY Act.
Проще говоря, часть биткоинов, по всей видимости, уходит от более слабых или мелких держателей и переходит к более крупным.
Это не гарантирует ралли цены, но за таким развитием стоит следить.
$65 400 — уровень, за которым нужно наблюдать
Следующее крупное испытание для Биткоина может прийти примерно на $65 400.
Криптовалюта предпринимала несколько попыток подняться выше зоны $65 000, но ей не удавалось удерживать эти достижения.
Чёткий пробой выше $65 400 будет более значимым, если Биткоин также сможет показать несколько недельных закрытий выше этого уровня.
Если это произойдёт, внимание может сместиться к зоне $77 000–$78 000, а затем — примерно к $83 000.
Но есть и сценарий снижения.
Если Биткоин продолжит встречать отвержение в текущей зоне сопротивления, $61 500 может стать первым важным уровнем поддержки. Более глубокая коррекция может вернуть в фокус $54 000.
#SICryptoNews #BtcWhales $BTC
$ETH
$SOL
Статья
Только 90 Bitcoin Wallets имеют 10,000+ BTC — крупные инвесторы снова покупают?На рынке Bitcoin наблюдается интересное изменение. С одной стороны, Bitcoin по-прежнему не смог удержаться выше $65,000, а с другой — количество крупных Bitcoin-кошельков достигло наивысшего уровня за несколько месяцев. Согласно свежим данным, сейчас существует всего 90 кошельков, на которых находится как минимум 10,000 BTC. Это число является максимумом за последние шесть месяцев.

Только 90 Bitcoin Wallets имеют 10,000+ BTC — крупные инвесторы снова покупают?

На рынке Bitcoin наблюдается интересное изменение. С одной стороны, Bitcoin по-прежнему не смог удержаться выше $65,000, а с другой — количество крупных Bitcoin-кошельков достигло наивысшего уровня за несколько месяцев.
Согласно свежим данным, сейчас существует всего 90 кошельков, на которых находится как минимум 10,000 BTC. Это число является максимумом за последние шесть месяцев.
Статья
Robinhood начал криптоторговлю в Великобритании: более 50 монет и нулевые торговые комиссииВ Великобритании для криптоинвесторов появился важный шаг со стороны Robinhood. Компания начала криптовалютную торговлю для соответствующих критериям пользователей в Великобритании, благодаря чему пользователи смогут покупать и продавать более 50 цифровых активов через одно приложение. Этот список включает Bitcoin, Ethereum, XRP, Hyperliquid и несколько других криптовалют.

Robinhood начал криптоторговлю в Великобритании: более 50 монет и нулевые торговые комиссии

В Великобритании для криптоинвесторов появился важный шаг со стороны Robinhood. Компания начала криптовалютную торговлю для соответствующих критериям пользователей в Великобритании, благодаря чему пользователи смогут покупать и продавать более 50 цифровых активов через одно приложение.
Этот список включает Bitcoin, Ethereum, XRP, Hyperliquid и несколько других криптовалют.
Вилка BIP-110 у Bitcoin приостановилась после всего двух блоков — разрыв растёт Текущий спор вокруг BIP-110 у Bitcoin достиг любопытной точки. Цепочка меньшинства, поддерживающая BIP-110, произвела всего два блока, а затем фактически застопорилась, тогда как основная цепочка Bitcoin продолжила движение вперёд в обычном темпе. Согласно последним данным, цепочка BIP-110 всё ещё находилась на блоке 961,633, в то время как доминирующая основная цепочка Bitcoin достигла блока 961,744. Это означает, что две цепочки разошлись на 111 блоков. Слабая поддержка майнинга Главная проблема для BIP-110 сейчас — поддержка майнинга. С момента начала обязательного сигналинга основная цепочка Bitcoin произвела 113 блоков без единого блока, который сигнализировал бы в поддержку BIP-110. Это сильный признак того, что подавляющее большинство майнинговой активности остаётся на существующей цепочке Bitcoin. Конечная точка BIP-110 у OCEAN показывала около 257 PH/s вычислительной мощности. Однако даже при наличии этой мощности майнинга, по сообщениям, форк примерно 17 часов не производил ни одного нового блока. Для сети, рассчитанной примерно на десятиминутные интервалы между блоками, это заметное замедление. #SICryptoNews #BIP110ForkSignalingExpectedThisWeekend $LINK {future}(LINKUSDT) $ETH {future}(ETHUSDT) $SOL {future}(SOLUSDT)
Вилка BIP-110 у Bitcoin приостановилась после всего двух блоков — разрыв растёт
Текущий спор вокруг BIP-110 у Bitcoin достиг любопытной точки.
Цепочка меньшинства, поддерживающая BIP-110, произвела всего два блока, а затем фактически застопорилась, тогда как основная цепочка Bitcoin продолжила движение вперёд в обычном темпе.
Согласно последним данным, цепочка BIP-110 всё ещё находилась на блоке 961,633, в то время как доминирующая основная цепочка Bitcoin достигла блока 961,744.
Это означает, что две цепочки разошлись на 111 блоков.
Слабая поддержка майнинга
Главная проблема для BIP-110 сейчас — поддержка майнинга.
С момента начала обязательного сигналинга основная цепочка Bitcoin произвела 113 блоков без единого блока, который сигнализировал бы в поддержку BIP-110.
Это сильный признак того, что подавляющее большинство майнинговой активности остаётся на существующей цепочке Bitcoin.
Конечная точка BIP-110 у OCEAN показывала около 257 PH/s вычислительной мощности. Однако даже при наличии этой мощности майнинга, по сообщениям, форк примерно 17 часов не производил ни одного нового блока.
Для сети, рассчитанной примерно на десятиминутные интервалы между блоками, это заметное замедление.
#SICryptoNews #BIP110ForkSignalingExpectedThisWeekend $LINK
$ETH
$SOL
Статья
Форку Bitcoin BIP-110 уделяется крайне мало поддержки со стороны майнеров. Форк остановился после всего 2 блоков, в то время какСпор вокруг BIP-110 в сети Bitcoin перешёл в интересную фазу. Миноритарная цепочка, поддерживающая BIP-110, после того как были созданы всего два блока, почти полностью остановилась, в то время как основная цепочка Bitcoin продолжает идти в обычном режиме. Согласно последней ситуации, цепочка BIP-110 остановилась на блоке 961,633, тогда как основная цепочка Bitcoin дошла до блока 961,744. Таким образом, между двумя цепочками образовалась разница примерно в 111 блоков.

Форку Bitcoin BIP-110 уделяется крайне мало поддержки со стороны майнеров. Форк остановился после всего 2 блоков, в то время как

Спор вокруг BIP-110 в сети Bitcoin перешёл в интересную фазу. Миноритарная цепочка, поддерживающая BIP-110, после того как были созданы всего два блока, почти полностью остановилась, в то время как основная цепочка Bitcoin продолжает идти в обычном режиме.
Согласно последней ситуации, цепочка BIP-110 остановилась на блоке 961,633, тогда как основная цепочка Bitcoin дошла до блока 961,744. Таким образом, между двумя цепочками образовалась разница примерно в 111 блоков.
Бразилия введет 24-часовую задержку для криптопереводов свыше $10 000 Бразилия делает еще один шаг к более строгому регулированию криптоиндустрии. Центральный банк страны Banco Central do Brasil (BCB) вводит новое правило, которое позволит удерживать некоторые криптовалютные переводы до 24 часов, начиная с 1 января 2027 года. Правило будет применяться к соответствующим критериям переводам на $10 000 или более, в частности к транзакциям с зарубежными криптопровайдерами и к кошелькам с самостоятельным хранением. Зачем Бразилия вводит 24-часовую задержку? Криптопереводы предназначены для быстрой отправки. Во многих случаях деньги могут пересечь границу или попасть в кошелек с самостоятельным хранением за считанные минуты. Такая скорость полезна для законопослушных пользователей, но она также может упростить жизнь мошенникам. Новый подход Бразилии дает поставщикам услуг по операциям с виртуальными активами больше времени на проверку крупных или потенциально подозрительных транзакций до того, как средства покинут платформу. Проще говоря, идея заключается в том, чтобы создать короткое «окно безопасности» прежде чем будет завершен крупный перевод. Будет ли блокироваться каждый перевод на $10 000+ на 24 часа? Не обязательно. 24-часовой период — это предупредительная задержка, а не постоянная блокировка. Если поставщик завершает оценку рисков и транзакция соответствует необходимым условиям, ее можно будет разблокировать до истечения полных 24 часов. Порог в $10 000 также может рассчитываться с учетом нескольких транзакций, совершенных одним и тем же клиентом в течение одного дня. Это означает, что разбиение крупного перевода на несколько меньших транзакций может не обязательно позволить обойти это правило. #SICryptoNews #BitcoinETFs $BTC {future}(BTCUSDT) $LINK {future}(LINKUSDT) $ETH {future}(ETHUSDT)
Бразилия введет 24-часовую задержку для криптопереводов свыше $10 000
Бразилия делает еще один шаг к более строгому регулированию криптоиндустрии.
Центральный банк страны Banco Central do Brasil (BCB) вводит новое правило, которое позволит удерживать некоторые криптовалютные переводы до 24 часов, начиная с 1 января 2027 года.
Правило будет применяться к соответствующим критериям переводам на $10 000 или более, в частности к транзакциям с зарубежными криптопровайдерами и к кошелькам с самостоятельным хранением.
Зачем Бразилия вводит 24-часовую задержку?
Криптопереводы предназначены для быстрой отправки. Во многих случаях деньги могут пересечь границу или попасть в кошелек с самостоятельным хранением за считанные минуты.
Такая скорость полезна для законопослушных пользователей, но она также может упростить жизнь мошенникам.
Новый подход Бразилии дает поставщикам услуг по операциям с виртуальными активами больше времени на проверку крупных или потенциально подозрительных транзакций до того, как средства покинут платформу.
Проще говоря, идея заключается в том, чтобы создать короткое «окно безопасности» прежде чем будет завершен крупный перевод.
Будет ли блокироваться каждый перевод на $10 000+ на 24 часа?
Не обязательно.
24-часовой период — это предупредительная задержка, а не постоянная блокировка. Если поставщик завершает оценку рисков и транзакция соответствует необходимым условиям, ее можно будет разблокировать до истечения полных 24 часов.
Порог в $10 000 также может рассчитываться с учетом нескольких транзакций, совершенных одним и тем же клиентом в течение одного дня.
Это означает, что разбиение крупного перевода на несколько меньших транзакций может не обязательно позволить обойти это правило.
#SICryptoNews #BitcoinETFs $BTC
$LINK
$ETH
Статья
24-часовое удержание при криптовалютных переводах в Бразилии свыше 10 тысяч долларовБразилия предприняла новый и важный регуляторный шаг для крипторынка. Центральный банк страны, Banco Central do Brasil (BCB), вводит с 1 января 2027 года систему удержания (hold) в течение до 24 часов для некоторых крупных криптовалютных переводов. Согласно новым правилам, если криптовалютный перевод пользователя составляет 10 000 долларов или более и он отправляется за границу в криптосервис или на собственный self-custody кошелёк, то он не будет выполнен немедленно в полном объёме.

24-часовое удержание при криптовалютных переводах в Бразилии свыше 10 тысяч долларов

Бразилия предприняла новый и важный регуляторный шаг для крипторынка. Центральный банк страны, Banco Central do Brasil (BCB), вводит с 1 января 2027 года систему удержания (hold) в течение до 24 часов для некоторых крупных криптовалютных переводов.
Согласно новым правилам, если криптовалютный перевод пользователя составляет 10 000 долларов или более и он отправляется за границу в криптосервис или на собственный self-custody кошелёк, то он не будет выполнен немедленно в полном объёме.
Bybit подает в суд на Северную Корею и Lazarus Group из‑за криптоатаки на $1,5 млрд Криптоиндустрия вновь сталкивается с вопросами о безопасности и киберпреступлениях после того, как крупная биржа Bybit подала иск против Северной Кореи, ее разведывательного агентства Reconnaissance General Bureau и предполагаемой хакерской группы Lazarus Group. Дело связано с масштабной атакой на Bybit в феврале 2025 года, когда с биржи были похищены более 400 000 ETH и staked ETH. На тот момент активы оценивались примерно в $1,5 млрд, что сделало инцидент одной из крупнейших краж криптовалюты за всю историю. Ранее ФБР приписало атаку северокорейским исполнителям. После взлома похищенные средства были переведены через несколько кошельков, кроссчейн‑сервисы и криптомиксеры, из‑за чего отследить деньги становилось все сложнее. #SICryptoNews #bitcoin #bybit $LINK {future}(LINKUSDT) $SOL {future}(SOLUSDT) $ETH {future}(ETHUSDT)
Bybit подает в суд на Северную Корею и Lazarus Group из‑за криптоатаки на $1,5 млрд
Криптоиндустрия вновь сталкивается с вопросами о безопасности и киберпреступлениях после того, как крупная биржа Bybit подала иск против Северной Кореи, ее разведывательного агентства Reconnaissance General Bureau и предполагаемой хакерской группы Lazarus Group.
Дело связано с масштабной атакой на Bybit в феврале 2025 года, когда с биржи были похищены более 400 000 ETH и staked ETH. На тот момент активы оценивались примерно в $1,5 млрд, что сделало инцидент одной из крупнейших краж криптовалюты за всю историю.
Ранее ФБР приписало атаку северокорейским исполнителям. После взлома похищенные средства были переведены через несколько кошельков, кроссчейн‑сервисы и криптомиксеры, из‑за чего отследить деньги становилось все сложнее.
#SICryptoNews #bitcoin #bybit $LINK
$SOL
$ETH
Статья
Иск Bybit против Северной Кореи и Lazarus Group по хищению на 1,5 миллиарда долларовВ мире криптовалют вновь обсуждается вопрос безопасности и хакерских атак. Крупная криптобиржа Bybit подала иск в федеральный суд США против Северной Кореи, ее разведывательного ведомства Reconnaissance General Bureau и предполагаемой хакерской группы Lazarus Group. Этот случай связан с крупной кибератакой, произошедшей в феврале 2025 года, в ходе которой из Bybit были украдены более 400 тысяч ETH и Staked ETH. На момент атаки общая стоимость этих активов составляла примерно 1,5 миллиарда долларов, что сделало ее одной из крупнейших краж в истории криптовалют.

Иск Bybit против Северной Кореи и Lazarus Group по хищению на 1,5 миллиарда долларов

В мире криптовалют вновь обсуждается вопрос безопасности и хакерских атак. Крупная криптобиржа Bybit подала иск в федеральный суд США против Северной Кореи, ее разведывательного ведомства Reconnaissance General Bureau и предполагаемой хакерской группы Lazarus Group.
Этот случай связан с крупной кибератакой, произошедшей в феврале 2025 года, в ходе которой из Bybit были украдены более 400 тысяч ETH и Staked ETH. На момент атаки общая стоимость этих активов составляла примерно 1,5 миллиарда долларов, что сделало ее одной из крупнейших краж в истории криптовалют.
Закон CLARITY: голос в Сенате отложен до сентября — что это значит для крипторынка Сенат США отложил запланированное голосование по закону CLARITY до сентября, перенеся одно из самых важных решений в области криптозаконодательства за год. Отсрочка связана с тем, что законодателям не удалось заручиться достаточной поддержкой в рамках двух партий до августовских каникул. Закон CLARITY призван создать четкую нормативную базу для цифровых активов в США. Он направлен на то, чтобы определить, как следует регулировать криптовалюты, и прояснить ответственность таких ведомств, как SEC и CFTC. Ряд сенаторов-демократов выразили обеспокоенность по поводу текущей версии законопроекта. Они добиваются более сильных мер защиты потребителей, более строгих правил этики для государственных должностных лиц, более жестких антикоррупционных мер по борьбе с отмыванием денег и улучшений надзора за рынком. Поскольку Сенату требуется 60 голосов, чтобы продвинуть законопроект, двупартийное сотрудничество остается ключевым. Отсрочка не означает, что законопроект был снят с рассмотрения. Руководство Сената подтвердило, что он будет возвращен к обсуждению, когда законодатели вновь соберутся в сентябре. #SICryptoNews #bitcoin #CLARITYAct $SOL {future}(SOLUSDT) $HYPE {future}(HYPEUSDT) $XRP {future}(XRPUSDT)
Закон CLARITY: голос в Сенате отложен до сентября — что это значит для крипторынка
Сенат США отложил запланированное голосование по закону CLARITY до сентября, перенеся одно из самых важных решений в области криптозаконодательства за год. Отсрочка связана с тем, что законодателям не удалось заручиться достаточной поддержкой в рамках двух партий до августовских каникул.
Закон CLARITY призван создать четкую нормативную базу для цифровых активов в США. Он направлен на то, чтобы определить, как следует регулировать криптовалюты, и прояснить ответственность таких ведомств, как SEC и CFTC.
Ряд сенаторов-демократов выразили обеспокоенность по поводу текущей версии законопроекта. Они добиваются более сильных мер защиты потребителей, более строгих правил этики для государственных должностных лиц, более жестких антикоррупционных мер по борьбе с отмыванием денег и улучшений надзора за рынком. Поскольку Сенату требуется 60 голосов, чтобы продвинуть законопроект, двупартийное сотрудничество остается ключевым.
Отсрочка не означает, что законопроект был снят с рассмотрения. Руководство Сената подтвердило, что он будет возвращен к обсуждению, когда законодатели вновь соберутся в сентябре.
#SICryptoNews #bitcoin #CLARITYAct $SOL
$HYPE
$XRP
Статья
Сенатское голосование по закону CLARITY перенесли на сентябрь: что это значит для крипторынка?В США произошла важная новость, касающаяся криптоиндустрии. Сенатское голосование по закону CLARITY состоится в сентябре, а не в августе. Причина, по которой решение перенесли, объясняется политическими разногласиями в Сенате и тем, что по некоторым положениям законопроекта не удалось достичь согласия. Закон CLARITY в США рассматривают как важный нормативный акт для крипторынка. Если он будет принят, это прояснит, какой орган будет осуществлять надзор за различными цифровыми активами и какие правила будут применяться к криптокомпаниям.

Сенатское голосование по закону CLARITY перенесли на сентябрь: что это значит для крипторынка?

В США произошла важная новость, касающаяся криптоиндустрии. Сенатское голосование по закону CLARITY состоится в сентябре, а не в августе. Причина, по которой решение перенесли, объясняется политическими разногласиями в Сенате и тем, что по некоторым положениям законопроекта не удалось достичь согласия.
Закон CLARITY в США рассматривают как важный нормативный акт для крипторынка. Если он будет принят, это прояснит, какой орган будет осуществлять надзор за различными цифровыми активами и какие правила будут применяться к криптокомпаниям.
Войдите, чтобы посмотреть больше материала
Присоединяйтесь к пользователям криптовалют по всему миру на Binance Square
⚡️ Получайте новейшую и полезную информацию о криптоактивах.
💬 Нам доверяет крупнейшая в мире криптобиржа.
👍 Получите достоверные аналитические данные от верифицированных создателей контента.
Эл. почта/номер телефона
Структура веб-страницы
Настройки cookie
Правила и условия платформы