بٹ کوائن: اس فراڈ کی اصل حقیقت 2008 کے مالیاتی طوفان کے فوراً بعد، جنوری 2009 میں ایک پراسرار شخص "ساٹوشی ناکاموٹو" نے ایک دستاویز جاری کی۔ اس کا عنوان تھا، "بٹ کوائن، ایک پئیر ٹو پئیر الیکٹرانک کیش سسٹم"۔ یہ محض ایک تکنیکی دستاویز نہیں تھی، بلکہ اسے مرکزی بینکوں اور وال اسٹریٹ کے ناکام اداروں کے خلاف ایک بغاوت کے اعلان کے طور پر لکھا گیا تھا۔ اس کے پہلے بلاک میں ہمیشہ کے لیے دی ٹائمز اخبار کی وہ سرخی کندہ کر دی گئی، "Chancellor on brink of second bailout for banks"۔ یہ اس نظام کے خلاف ایک طنز تھی جس نے عوام کو نقصان پہنچا کر خود کو بچایا تھا۔ ساٹوشی کا بنیادی خیال یہ تھا کہ موجودہ مالیاتی نظام ایک "ٹرسٹ پر مبنی" ماڈل ہے، جس میں ہم بینکوں، حکومتوں اور تیسرے فریقوں پر بھروسہ کرتے ہیں۔ 2008 کے بحران نے ثابت کر دیا کہ یہ بھروسہ کھوکھلا ہے۔ بٹ کوائن نے یہ بھروسہ ختم کر کے "trust less" سسٹم متعارف کرایا، جہاں کوئی مرکزی اتھارٹی نہیں ہے۔ لین دین کی تصدیق 'کنسنسس' کے ذریعے ہوتی ہے، یعنی نیٹ ورک کے تمام شرکاء کی اجتماعی منظوری۔ بٹ کوائن بنانے کے عمل کو "مائننگ" کہتے ہیں، جو روایتی سونے کی کان کنی جیسا ہی ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ یہاں پہاڑوں اور زمین کی بجائے کمپیوٹر استعمال ہوتے ہیں۔ پوری دنیا کے مائنرز اپنے طاقتور کمپیوٹر چلاتے ہیں جو پیچیدہ ریاضی کے مسائل حل کرتے ہیں۔ یہ مسائل درحقیقت لین دین کی تصدیق کا محفوظ طریقہ ہیں۔ جب آپ بٹ کوائن سے کوئی لین دین کرتے ہیں، تو اس کی تصدیق کے لیے ایک خاص طریقہ استعمال ہوتا ہے جسے "مائننگ" کہتے ہیں۔ یہ کوئی عام ریاضی کا سوال حل کرنے جیسا نہیں ہے، بلکہ یہ ایک ڈیجیٹل مہر لگانے جیسا ہے۔ جیسے آپ کسی اہم دستاویز پر مہر لگاتے ہیں تاکہ کوئی اس میں تبدیلی نہ کر سکے، بالکل اسی طرح ہر بٹ کوائن لین دین پر ایک ڈیجیٹل مہر لگائی جاتی ہے۔ یہ مہر لگانے کے لیے دنیا بھر کے کمپیوٹر ایک مقابلہ کرتے ہیں۔ جو کمپیوٹر پہلے یہ ڈیجیٹل مہر لگا لیتا ہے، اسے انعام میں نئے بٹ کوائن ملتے ہیں۔ یہ طریقہ اس لیے محفوظ ہے کہ اگر کوئی ہیکر کسی پرانے لین دین میں تبدیلی کرنا چاہے، تو اسے نہ صرف اس کی ڈیجیٹل مہر توڑنی ہوگی، بلکہ اس کے بعد کے تمام لین دینوں کی مہریں بھی توڑنی ہوں گی، جو کہ عملاً ناممکن ہے۔ یوں یہ ریاضی کے یہ مسائل دراصل ڈیجیٹل دنیا میں بینک والٹ کا کام کرتے ہیں، جو آپ کے لین دین کو ہمیشہ کے لیے محفوظ بنا دیتے ہیں۔ مسائل حل کر کے مائننگ کرنے کا یہ عمل ہر دس منٹ بعد دہرایا جاتا ہے، اور ہر بار حل ہونے والا مسئلہ اگلے مسئلے کو مزید مشکل بنا دیتا ہے۔ اس طرح بٹ کوائن کی پیداوار قدرتی وسائل کی طرح محدود رہتی ہے۔ بٹ کوائن کی قیمت کا راز اس کی "محدود مقدار" اور "اجتماعی ٹرسٹ" میں چھپا ہے۔ جس طرح سونے کی قیمت اس کی scarcity سے بنتی ہے، بالکل اسی طرح بٹ کوائن کی کل تعداد 21 ملین ہی طے کی گئی ہے، جس سے یہ قدرتی وسائل جیسی scarcity پیدا ہوتی ہے۔ لیکن اس کی اصل قیمت لوگوں کے اس پر اعتماد سے بنتی ہے۔ جیسے جیسے زیادہ لوگ اسے قبول کرتے ہیں، اس کی طلب بڑھتی ہے اور قیمت بڑھ جاتی ہے۔ یہ کوئی حکومتی وعدہ نہیں ہے، نہ ہی کسی بینک کی ضمانت۔ یہ محض لاکھوں لوگوں کا اس ڈیجیٹل سونے پر یقین ہے۔ آج تک کوئی نہیں جانتا کہ ساٹوشی ناکاموٹو کون تھا۔ یہ نام ایک جاپانی لگتا ہے، لیکن اس کی انگریزی تحریر اس قدر شاندار تھی کہ ماہرین کا خیال ہے یہ کوئی جاپانی نہیں ہو سکتا۔ تحقیق بتاتی ہے کہ ممکنہ طور پر یہ نک سزابو نامی ایک امریکی سائنسدان تھا، جو اسمارٹ کنٹریکٹس کے نظرئے کا بانی ہے۔ یا پھر ہال فنی، جو ایک امریکی سافٹ ویئر ڈویلپر تھا۔ یہ دونوں ہی مغربی ممالک سے تعلق رکھتے تھے اور ان کا تعلق اسٹیبلشمنٹ سے ہی تھا۔ ہال فنی نے پی جی پی کارپوریشن میں کام کیا تھا جو امریکی فوج کے لیے کمپیوٹر سیکیورٹی بناتی تھی۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ بغاوت درحقیقت بینکرز ہی کی سازش تھی، یہ کوئی باہر سے اٹھایا گیا انقلابی قدم نہیں تھا۔ نک سزابو نے 1990 کی دہائی میں ہی "بٹ گولڈ" نامی ڈیجیٹل کرنسی کا خیال پیش کیا تھا۔ نک سزابو "اسمارٹ کنٹریکٹس" کا بانی تھا۔ اسمارٹ کانٹریکٹس ہی ڈیفی کا بنیادی ستون ہے۔ ڈیفی ایسا نظام ہے جو بٹ کوائن کے بنیادی خیال کو آگے بڑھاتا ہے۔ جس طرح بٹ کوائن عام لوگوں کو یہ طاقت دیتا ہے کہ وہ بغیر بینک کے کسی کو پیسے بھیج سکتے ہیں اسی طرح ڈیفی لوگوں کو یہ طاقت دیتا ہے کہ وہ بغیر بینک کے تمام بینکاری کے کام کر سکتے ہیں۔ وہ پیسے جمع کر سکتے ہیں قرض لے سکتے ہیں سود کما سکتے ہیں اور یہاں تک کہ انشورنس بھی لے سکتے ہیں اور یہ سب کچھ بغیر کسی بینک کلرک یا دفتر کے ہوتا ہے۔ اس پورے نظام کا انحصار اسمارٹ کنٹریکٹ پر ہے جو درحقیقت کمپیوٹر پروگرام ہیں جو خود بخود کام کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر اگر آپ ڈیفی سسٹم میں پیسے جمع کراتے ہیں تو اسمارٹ کنٹریکٹ خود بخود آپ کو سود دینا شروع کر دیتا ہے۔ اگر آپ کسی کو قرض دیتے ہیں تو یہ کنٹریکٹ خود بخود قرض کی واپسی کا انتظام کرتا ہے۔ یہ بالکل ایسا ہی ہے جیسے آپ کا اپنا ذاتی بینک ہو جو ہر وقت کام کرتا رہے لیکن اس بینک میں کوئی ملازم نہ ہو صرف کمپیوٹر کوڈ ہو جو ہمیشہ ایمانداری سے کام کرے۔ سزابو کا تحریری انداز اور خیالات بٹ کوائن وائٹ پیپر سے حیرت انگیز طور پر ملتے جلتے ہیں۔ ہال فنی کا معاملہ اور بھی دلچسپ ہے۔ وہ پہلا شخص تھا جس نے ساٹوشی سے بٹ کوائن وصول کیا۔ ہال فنی ایک امریکی سافٹ ویئر ڈویلپر تھا اور اس کا تعلق PGP کارپوریشن سے تھا، جو امریکی دفاعی محکمے کے فنڈز سے چلنے والی ایک سیکیورٹی فرم تھی۔ یہ دونوں شخصیتیں مغربی تعلیمی اور تکنیکی نظام کی پیداوار تھیں۔ شروع میں بٹ کوائن کو باغیوں، انارکسٹوں اور سائبر پنک کے ہتھیار کے طور پر مشہور کیا گیا۔ لیکن پھر جلد ہی پتہ چل گیا کہ یہ وال اسٹریٹ کے کنٹرول میں ہے۔ سب سے پہلے وینچر کیپٹل فرموں نے بٹ کوائن ایکسچینجز میں سرمایہ کاری شروع کی۔ کوائن بیس جیسی کمپنیاں بنائی گئیں۔ پھر بڑے بینکوں نے اسٹیبل کوائنز متعارف کرائے، یہ وہ ڈیجیٹل ڈالر ہیں جو ہمیشہ ایک ڈالر کے برابر رہتے ہیں۔ آج 160 ارب ڈالر سے زیادہ کے یہ ڈیجیٹل ڈالر مارکیٹ میں ہیں، جو درحقیقت امریکی ڈالر کی طاقت کو بڑھا رہے ہیں۔ یہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ بٹ کوائن کوئی حقیقی بغاوت تھی ہی نہیں بلکہ ایک "کنٹرولڈ بغاوت" تھی جو خود بینکرز نے پیدا کی تھی۔ یہ کوئی اتفاق نہیں تھا کہ بٹ کوائن کا خیال 2008 کے بحران کے فوراً بعد ایک سیفٹی والو کے طور پر سامنے آیا، جب پوری دنیا میں امریکی مالیاتی نظام کے خلاف غم و غصہ عروج پر تھا۔ عوام کے غصے کو ایک نئی سمت دینے کے لیے یہ ایک سوچا سمجھا منصوبہ تھا۔ کیسی ناقابل یقین بات ہے کہ ساٹوشی ناکاموٹو کا کسی کو پتہ نہیں ہے۔ اور اس سے بھی ناقابل یقین بات یہ ہے کہ امریکہ ایک باغی کا نظام نہ صرف چلنے دے رہا ہے بلکہ اسے ترقی دے رہا ہے۔ بٹ کوائن کا امریکہ کو سب سے بڑا فائدہ یہ ہوا کہ ڈالر کی بالادستی میں اضافہ ہوا۔ اسٹیبل کوائنز جنہیں USDT اور USDC کہتے ہیں، درحقیقت ڈیجیٹل ڈالر ہیں۔ ہر USDT کے پیچھے ایک امریکی ڈالر ہے۔ جب لوگ یہ کوائنز خریدتے ہیں تو درحقیقت وہ ڈالر کی مانگ بڑھا رہے ہیں۔ آج ان اسٹیبل کوائنز کی مارکیٹ 160 ارب ڈالر سے زیادہ ہے، جو کہ ڈالر کی طاقت کو بے پناہ بڑھا رہا ہے۔ دوسرا بڑا فائدہ یہ ہوا کہ امریکی اداروں کو سرمایہ کاری کا نیا ذریعہ ملا۔ بلیک راک، فیڈلٹی، اور کوائن بیس جیسی کمپنیوں نے بٹ کوائن ETF اور دیگر مصنوعات متعارف کرائیں، جن سے انہیں اربوں ڈالر کی فیسز اور کمیشن مل رہے ہیں۔ یہ سب وال اسٹریٹ کے پرانے کھلاڑی ہیں جو 2008 کے بحران کے ذمہ دار تھے، اور اب وہی لوگ بٹ کوائن کے نام پر نیا کاروبار چلا رہے ہیں۔ تیسرا فائدہ یہ ہے کہ امریکہ کو جاسوسی کا نیا نظام ملا ہے۔ بلاک چین پر تمام لین دین عوامی ہیں، جس کا مطلب ہے کہ امریکی ادارے کسی بھی شخص کے مالیاتی لین دین پر نظر رکھ سکتے ہیں۔ یہ SWIFT سسٹم سے بھی زیادہ طاقتور ذریعہ ہے۔ اس کے پیچھے امریکی ہاتھ ہونے کا سب سے واضح ثبوت یہ ہے کہ جب کوئی اور ملک یا ادارہ ڈیجیٹل کرنسی لانچ کرتا ہے، تو امریکہ فوراً اسے روک دیتا ہے۔ جب فیس بک نے لیبرا کرنسی لانچ کرنے کی کوشش کی تو کانگریس نے مارک زکربرگ کو طلب کر کے اس پر پابندی لگا دی۔ چین کی ڈیجیٹل کرنسی کو بھی عالمی سطح پر پھیلنے نہیں دیا جا رہا۔ صرف وہی ڈیجیٹل کرنسیز چل سکتی ہیں جو امریکی مفاد کے مطابق ہوں۔ اس لیے یہ کہنا غلط نہیں ہو گا کہ بٹ کوائن درحقیقت امریکی مالیاتی نظام کا ہی ایک نیا روپ ہے۔ یہ کوئی حقیقی متبادل نہیں بلکہ نظام کو مزید مضبوط بنانے کا ذریعہ ہے۔ جس بغاوت کا ڈھنڈورا پیٹا جاتا ہے، وہ درحقیقت اسی نظام کی پیدا کردہ ہے جس کے خلاف وہ نظر آتی ہے۔ شروع میں بٹ کوائن بینکوں کے خلاف تھا، لیکن آج بینک ہی اس کے سب سے بڑے ڈیلر بن چکے ہیں۔ یوں وال اسٹریٹ نے بغاوت کا تاثر دے کر ایک نیا مالیاتی فراڈ شروع کیا ہے۔ پلیز شئیر کرنا مت بھولئے۔ شکریہ۔ $BTC $ETH $BNB
بٹ کوائن: اس فراڈ کی اصل حقیقت 2008 کے مالیاتی طوفان کے فوراً بعد، جنوری 2009 میں ایک پراسرار شخص "ساٹوشی ناکاموٹو" نے ایک دستاویز جاری کی۔ اس کا عنوان تھا، "بٹ کوائن، ایک پئیر ٹو پئیر الیکٹرانک کیش سسٹم"۔ یہ محض ایک تکنیکی دستاویز نہیں تھی، بلکہ اسے مرکزی بینکوں اور وال اسٹریٹ کے ناکام اداروں کے خلاف ایک بغاوت کے اعلان کے طور پر لکھا گیا تھا۔ اس کے پہلے بلاک میں ہمیشہ کے لیے دی ٹائمز اخبار کی وہ سرخی کندہ کر دی گئی، "Chancellor on brink of second bailout for banks"۔ یہ اس نظام کے خلاف ایک طنز تھی جس نے عوام کو نقصان پہنچا کر خود کو بچایا تھا۔ ساٹوشی کا بنیادی خیال یہ تھا کہ موجودہ مالیاتی نظام ایک "ٹرسٹ پر مبنی" ماڈل ہے، جس میں ہم بینکوں، حکومتوں اور تیسرے فریقوں پر بھروسہ کرتے ہیں۔ 2008 کے بحران نے ثابت کر دیا کہ یہ بھروسہ کھوکھلا ہے۔ بٹ کوائن نے یہ بھروسہ ختم کر کے "trust less" سسٹم متعارف کرایا، جہاں کوئی مرکزی اتھارٹی نہیں ہے۔ لین دین کی تصدیق 'کنسنسس' کے ذریعے ہوتی ہے، یعنی نیٹ ورک کے تمام شرکاء کی اجتماعی منظوری۔ بٹ کوائن بنانے کے عمل کو "مائننگ" کہتے ہیں، جو روایتی سونے کی کان کنی جیسا ہی ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ یہاں پہاڑوں اور زمین کی بجائے کمپیوٹر استعمال ہوتے ہیں۔ پوری دنیا کے مائنرز اپنے طاقتور کمپیوٹر چلاتے ہیں جو پیچیدہ ریاضی کے مسائل حل کرتے ہیں۔ یہ مسائل درحقیقت لین دین کی تصدیق کا محفوظ طریقہ ہیں۔ جب آپ بٹ کوائن سے کوئی لین دین کرتے ہیں، تو اس کی تصدیق کے لیے ایک خاص طریقہ استعمال ہوتا ہے جسے "مائننگ" کہتے ہیں۔ یہ کوئی عام ریاضی کا سوال حل کرنے جیسا نہیں ہے، بلکہ یہ ایک ڈیجیٹل مہر لگانے جیسا ہے۔ جیسے آپ کسی اہم دستاویز پر مہر لگاتے ہیں تاکہ کوئی اس میں تبدیلی نہ کر سکے، بالکل اسی طرح ہر بٹ کوائن لین دین پر ایک ڈیجیٹل مہر لگائی جاتی ہے۔ یہ مہر لگانے کے لیے دنیا بھر کے کمپیوٹر ایک مقابلہ کرتے ہیں۔ جو کمپیوٹر پہلے یہ ڈیجیٹل مہر لگا لیتا ہے، اسے انعام میں نئے بٹ کوائن ملتے ہیں۔ یہ طریقہ اس لیے محفوظ ہے کہ اگر کوئی ہیکر کسی پرانے لین دین میں تبدیلی کرنا چاہے، تو اسے نہ صرف اس کی ڈیجیٹل مہر توڑنی ہوگی، بلکہ اس کے بعد کے تمام لین دینوں کی مہریں بھی توڑنی ہوں گی، جو کہ عملاً ناممکن ہے۔ یوں یہ ریاضی کے یہ مسائل دراصل ڈیجیٹل دنیا میں بینک والٹ کا کام کرتے ہیں، جو آپ کے لین دین کو ہمیشہ کے لیے محفوظ بنا دیتے ہیں۔ مسائل حل کر کے مائننگ کرنے کا یہ عمل ہر دس منٹ بعد دہرایا جاتا ہے، اور ہر بار حل ہونے والا مسئلہ اگلے مسئلے کو مزید مشکل بنا دیتا ہے۔ اس طرح بٹ کوائن کی پیداوار قدرتی وسائل کی طرح محدود رہتی ہے۔ بٹ کوائن کی قیمت کا راز اس کی "محدود مقدار" اور "اجتماعی ٹرسٹ" میں چھپا ہے۔ جس طرح سونے کی قیمت اس کی scarcity سے بنتی ہے، بالکل اسی طرح بٹ کوائن کی کل تعداد 21 ملین ہی طے کی گئی ہے، جس سے یہ قدرتی وسائل جیسی scarcity پیدا ہوتی ہے۔ لیکن اس کی اصل قیمت لوگوں کے اس پر اعتماد سے بنتی ہے۔ جیسے جیسے زیادہ لوگ اسے قبول کرتے ہیں، اس کی طلب بڑھتی ہے اور قیمت بڑھ جاتی ہے۔ یہ کوئی حکومتی وعدہ نہیں ہے، نہ ہی کسی بینک کی ضمانت۔ یہ محض لاکھوں لوگوں کا اس ڈیجیٹل سونے پر یقین ہے۔ آج تک کوئی نہیں جانتا کہ ساٹوشی ناکاموٹو کون تھا۔ یہ نام ایک جاپانی لگتا ہے، لیکن اس کی انگریزی تحریر اس قدر شاندار تھی کہ ماہرین کا خیال ہے یہ کوئی جاپانی نہیں ہو سکتا۔ تحقیق بتاتی ہے کہ ممکنہ طور پر یہ نک سزابو نامی ایک امریکی سائنسدان تھا، جو اسمارٹ کنٹریکٹس کے نظرئے کا بانی ہے۔ یا پھر ہال فنی، جو ایک امریکی سافٹ ویئر ڈویلپر تھا۔ یہ دونوں ہی مغربی ممالک سے تعلق رکھتے تھے اور ان کا تعلق اسٹیبلشمنٹ سے ہی تھا۔ ہال فنی نے پی جی پی کارپوریشن میں کام کیا تھا جو امریکی فوج کے لیے کمپیوٹر سیکیورٹی بناتی تھی۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ بغاوت درحقیقت بینکرز ہی کی سازش تھی، یہ کوئی باہر سے اٹھایا گیا انقلابی قدم نہیں تھا۔ نک سزابو نے 1990 کی دہائی میں ہی "بٹ گولڈ" نامی ڈیجیٹل کرنسی کا خیال پیش کیا تھا۔ نک سزابو "اسمارٹ کنٹریکٹس" کا بانی تھا۔ اسمارٹ کانٹریکٹس ہی ڈیفی کا بنیادی ستون ہے۔ ڈیفی ایسا نظام ہے جو بٹ کوائن کے بنیادی خیال کو آگے بڑھاتا ہے۔ جس طرح بٹ کوائن عام لوگوں کو یہ طاقت دیتا ہے کہ وہ بغیر بینک کے کسی کو پیسے بھیج سکتے ہیں اسی طرح ڈیفی لوگوں کو یہ طاقت دیتا ہے کہ وہ بغیر بینک کے تمام بینکاری کے کام کر سکتے ہیں۔ وہ پیسے جمع کر سکتے ہیں قرض لے سکتے ہیں سود کما سکتے ہیں اور یہاں تک کہ انشورنس بھی لے سکتے ہیں اور یہ سب کچھ بغیر کسی بینک کلرک یا دفتر کے ہوتا ہے۔ اس پورے نظام کا انحصار اسمارٹ کنٹریکٹ پر ہے جو درحقیقت کمپیوٹر پروگرام ہیں جو خود بخود کام کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر اگر آپ ڈیفی سسٹم میں پیسے جمع کراتے ہیں تو اسمارٹ کنٹریکٹ خود بخود آپ کو سود دینا شروع کر دیتا ہے۔ اگر آپ کسی کو قرض دیتے ہیں تو یہ کنٹریکٹ خود بخود قرض کی واپسی کا انتظام کرتا ہے۔ یہ بالکل ایسا ہی ہے جیسے آپ کا اپنا ذاتی بینک ہو جو ہر وقت کام کرتا رہے لیکن اس بینک میں کوئی ملازم نہ ہو صرف کمپیوٹر کوڈ ہو جو ہمیشہ ایمانداری سے کام کرے۔ سزابو کا تحریری انداز اور خیالات بٹ کوائن وائٹ پیپر سے حیرت انگیز طور پر ملتے جلتے ہیں۔ ہال فنی کا معاملہ اور بھی دلچسپ ہے۔ وہ پہلا شخص تھا جس نے ساٹوشی سے بٹ کوائن وصول کیا۔ ہال فنی ایک امریکی سافٹ ویئر ڈویلپر تھا اور اس کا تعلق PGP کارپوریشن سے تھا، جو امریکی دفاعی محکمے کے فنڈز سے چلنے والی ایک سیکیورٹی فرم تھی۔ یہ دونوں شخصیتیں مغربی تعلیمی اور تکنیکی نظام کی پیداوار تھیں۔ شروع میں بٹ کوائن کو باغیوں، انارکسٹوں اور سائبر پنک کے ہتھیار کے طور پر مشہور کیا گیا۔ لیکن پھر جلد ہی پتہ چل گیا کہ یہ وال اسٹریٹ کے کنٹرول میں ہے۔ سب سے پہلے وینچر کیپٹل فرموں نے بٹ کوائن ایکسچینجز میں سرمایہ کاری شروع کی۔ کوائن بیس جیسی کمپنیاں بنائی گئیں۔ پھر بڑے بینکوں نے اسٹیبل کوائنز متعارف کرائے، یہ وہ ڈیجیٹل ڈالر ہیں جو ہمیشہ ایک ڈالر کے برابر رہتے ہیں۔ آج 160 ارب ڈالر سے زیادہ کے یہ ڈیجیٹل ڈالر مارکیٹ میں ہیں، جو درحقیقت امریکی ڈالر کی طاقت کو بڑھا رہے ہیں۔ یہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ بٹ کوائن کوئی حقیقی بغاوت تھی ہی نہیں بلکہ ایک "کنٹرولڈ بغاوت" تھی جو خود بینکرز نے پیدا کی تھی۔ یہ کوئی اتفاق نہیں تھا کہ بٹ کوائن کا خیال 2008 کے بحران کے فوراً بعد ایک سیفٹی والو کے طور پر سامنے آیا، جب پوری دنیا میں امریکی مالیاتی نظام کے خلاف غم و غصہ عروج پر تھا۔ عوام کے غصے کو ایک نئی سمت دینے کے لیے یہ ایک سوچا سمجھا منصوبہ تھا۔ کیسی ناقابل یقین بات ہے کہ ساٹوشی ناکاموٹو کا کسی کو پتہ نہیں ہے۔ اور اس سے بھی ناقابل یقین بات یہ ہے کہ امریکہ ایک باغی کا نظام نہ صرف چلنے دے رہا ہے بلکہ اسے ترقی دے رہا ہے۔ بٹ کوائن کا امریکہ کو سب سے بڑا فائدہ یہ ہوا کہ ڈالر کی بالادستی میں اضافہ ہوا۔ اسٹیبل کوائنز جنہیں USDT اور USDC کہتے ہیں، درحقیقت ڈیجیٹل ڈالر ہیں۔ ہر USDT کے پیچھے ایک امریکی ڈالر ہے۔ جب لوگ یہ کوائنز خریدتے ہیں تو درحقیقت وہ ڈالر کی مانگ بڑھا رہے ہیں۔ آج ان اسٹیبل کوائنز کی مارکیٹ 160 ارب ڈالر سے زیادہ ہے، جو کہ ڈالر کی طاقت کو بے پناہ بڑھا رہا ہے۔ دوسرا بڑا فائدہ یہ ہوا کہ امریکی اداروں کو سرمایہ کاری کا نیا ذریعہ ملا۔ بلیک راک، فیڈلٹی، اور کوائن بیس جیسی کمپنیوں نے بٹ کوائن ETF اور دیگر مصنوعات متعارف کرائیں، جن سے انہیں اربوں ڈالر کی فیسز اور کمیشن مل رہے ہیں۔ یہ سب وال اسٹریٹ کے پرانے کھلاڑی ہیں جو 2008 کے بحران کے ذمہ دار تھے، اور اب وہی لوگ بٹ کوائن کے نام پر نیا کاروبار چلا رہے ہیں۔ تیسرا فائدہ یہ ہے کہ امریکہ کو جاسوسی کا نیا نظام ملا ہے۔ بلاک چین پر تمام لین دین عوامی ہیں، جس کا مطلب ہے کہ امریکی ادارے کسی بھی شخص کے مالیاتی لین دین پر نظر رکھ سکتے ہیں۔ یہ SWIFT سسٹم سے بھی زیادہ طاقتور ذریعہ ہے۔ اس کے پیچھے امریکی ہاتھ ہونے کا سب سے واضح ثبوت یہ ہے کہ جب کوئی اور ملک یا ادارہ ڈیجیٹل کرنسی لانچ کرتا ہے، تو امریکہ فوراً اسے روک دیتا ہے۔ جب فیس بک نے لیبرا کرنسی لانچ کرنے کی کوشش کی تو کانگریس نے مارک زکربرگ کو طلب کر کے اس پر پابندی لگا دی۔ چین کی ڈیجیٹل کرنسی کو بھی عالمی سطح پر پھیلنے نہیں دیا جا رہا۔ صرف وہی ڈیجیٹل کرنسیز چل سکتی ہیں جو امریکی مفاد کے مطابق ہوں۔ اس لیے یہ کہنا غلط نہیں ہو گا کہ بٹ کوائن درحقیقت امریکی مالیاتی نظام کا ہی ایک نیا روپ ہے۔ یہ کوئی حقیقی متبادل نہیں بلکہ نظام کو مزید مضبوط بنانے کا ذریعہ ہے۔ جس بغاوت کا ڈھنڈورا پیٹا جاتا ہے، وہ درحقیقت اسی نظام کی پیدا کردہ ہے جس کے خلاف وہ نظر آتی ہے۔ شروع میں بٹ کوائن بینکوں کے خلاف تھا، لیکن آج بینک ہی اس کے سب سے بڑے ڈیلر بن چکے ہیں۔ یوں وال اسٹریٹ نے بغاوت کا تاثر دے کر ایک نیا مالیاتی فراڈ شروع کیا ہے۔ پلیز شئیر کرنا مت بھولئے۔ شکریہ۔ $BTC $ETH $BNB