Binance Square
#sicryptonews

sicryptonews

889 visningar
47 diskuterar
SI Crypto News
·
--
Bitcoin Exchange Supply Falls to a 5-Year Low: Is a Major Price Move Ahead? Bitcoin is once again making headlines as new on-chain data shows that the amount of BTC held on cryptocurrency exchanges has dropped to around 2.56 million BTC, the lowest sustained level since 2020. This development has caught the attention of investors because exchange balances often provide insight into market behavior. When Bitcoin is withdrawn from exchanges, it usually suggests that holders are moving their assets into private wallets or long-term storage rather than preparing to sell. #SICryptoNews #BTC $BTC {future}(BTCUSDT)
Bitcoin Exchange Supply Falls to a 5-Year Low: Is a Major Price Move Ahead?
Bitcoin is once again making headlines as new on-chain data shows that the amount of BTC held on cryptocurrency exchanges has dropped to around 2.56 million BTC, the lowest sustained level since 2020.
This development has caught the attention of investors because exchange balances often provide insight into market behavior. When Bitcoin is withdrawn from exchanges, it usually suggests that holders are moving their assets into private wallets or long-term storage rather than preparing to sell.
#SICryptoNews #BTC $BTC
Bank of Japan Raises Interest Rates to 1%: What It Means for Crypto Markets The Bank of Japan (BOJ) has raised its benchmark interest rate to 1%, marking the highest level since 1995. The move comes as Japan continues to deal with a weak yen and growing concerns about inflation. The decision was widely expected by economists, but it still represents a significant step in the BOJ’s ongoing effort to normalize monetary policy after years of extremely low interest rates. According to the central bank, rising energy costs and inflation pressures have increased the need for tighter monetary policy. By raising rates, the BOJ hopes to support the Japanese yen and keep inflation under control. #SICryptoNews #BOJRaisesRateTo1% $BTC {future}(BTCUSDT)
Bank of Japan Raises Interest Rates to 1%: What It Means for Crypto Markets
The Bank of Japan (BOJ) has raised its benchmark interest rate to 1%, marking the highest level since 1995. The move comes as Japan continues to deal with a weak yen and growing concerns about inflation.
The decision was widely expected by economists, but it still represents a significant step in the BOJ’s ongoing effort to normalize monetary policy after years of extremely low interest rates.
According to the central bank, rising energy costs and inflation pressures have increased the need for tighter monetary policy. By raising rates, the BOJ hopes to support the Japanese yen and keep inflation under control.
#SICryptoNews #BOJRaisesRateTo1% $BTC
Solana Institute Warns Senate Against Weakening the CLARITY Act The debate over crypto regulation in the United States continues to intensify as the Solana Institute urges lawmakers to preserve key protections included in the CLARITY Act. Kristin Smith, President of the Solana Institute, recently emphasized that blockchain developers, validators, and node operators who do not hold customer funds should not be treated as money transmitters under U.S. law. According to Smith, these participants provide software and network infrastructure rather than directly managing user assets. #SICryptoNews #solana $BTC {future}(BTCUSDT) $SOL {future}(SOLUSDT) $BNB {future}(BNBUSDT)
Solana Institute Warns Senate Against Weakening the CLARITY Act
The debate over crypto regulation in the United States continues to intensify as the Solana Institute urges lawmakers to preserve key protections included in the CLARITY Act.
Kristin Smith, President of the Solana Institute, recently emphasized that blockchain developers, validators, and node operators who do not hold customer funds should not be treated as money transmitters under U.S. law. According to Smith, these participants provide software and network infrastructure rather than directly managing user assets.
#SICryptoNews #solana $BTC
$SOL
$BNB
Artikel
بینک آف جاپان نے شرح سود 1 فیصد کر دی، کرپٹو مارکیٹ پر کیا اثر پڑ سکتا ہے؟جاپان کے مرکزی بینک، بینک آف جاپان (BOJ)، نے اپنی پالیسی شرح سود بڑھا کر 1 فیصد کر دی ہے، جو 1995 کے بعد بلند ترین سطح ہے۔ یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب جاپان بڑھتی ہوئی مہنگائی اور کمزور جاپانی ین کے مسائل کا سامنا کر رہا ہے۔ مرکزی بینک کا کہنا ہے کہ توانائی کی قیمتوں میں اضافے اور عالمی معاشی دباؤ کے باعث مہنگائی کے خدشات بڑھ رہے ہیں۔ اسی وجہ سے شرح سود میں اضافہ کیا گیا تاکہ قیمتوں میں استحکام لایا جا سکے اور کرنسی کو سہارا دیا جا سکے۔ فیصلے کے بعد جاپانی ین میں معمولی مضبوطی دیکھی گئی جبکہ جاپان کے اسٹاک انڈیکس نکی 225 میں بھی اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مارکیٹ نے اس اقدام کو بڑی حد تک پہلے ہی قیمتوں میں شامل کر لیا تھا۔ کرپٹو سرمایہ کاروں کے لیے یہ خبر کیوں اہم ہے؟ عام طور پر جب کسی بڑی معیشت میں شرح سود بڑھتی ہے تو سرمایہ کار نسبتاً محفوظ سرمایہ کاری کی طرف مائل ہوتے ہیں۔ ایسے ماحول میں بٹ کوائن اور دیگر کرپٹو اثاثوں میں سرمایہ کاری کا رجحان وقتی طور پر کم ہو سکتا ہے۔ شرح سود میں اضافے کا مطلب یہ بھی ہے کہ مارکیٹ میں سستی لیکویڈیٹی کم ہو جاتی ہے، جس کے نتیجے میں رسک والے اثاثوں پر دباؤ بڑھ سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کچھ ماہرین مختصر مدت میں کرپٹو مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ کی توقع کر رہے ہیں۔ تاہم، یہ ضروری نہیں کہ اس خبر کا اثر طویل عرصے تک برقرار رہے۔ اگر عالمی معاشی حالات بہتر رہتے ہیں اور سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال رہتا ہے تو کرپٹو مارکیٹ دوبارہ مضبوطی دکھا سکتی ہے۔ مختصراً، بینک آف جاپان کا شرح سود 1 فیصد تک بڑھانا عالمی مالیاتی منڈیوں کے لیے ایک اہم پیش رفت ہے۔ اس کا کرپٹو مارکیٹ پر قلیل مدتی دباؤ پڑ سکتا ہے، لیکن طویل مدتی سمت کا انحصار عالمی معاشی حالات اور سرمایہ کاروں کے رویے پر ہوگا۔ #SICryptoNews #BOJRaisesRateTo1% #bitcoin

بینک آف جاپان نے شرح سود 1 فیصد کر دی، کرپٹو مارکیٹ پر کیا اثر پڑ سکتا ہے؟

جاپان کے مرکزی بینک، بینک آف جاپان (BOJ)، نے اپنی پالیسی شرح سود بڑھا کر 1 فیصد کر دی ہے، جو 1995 کے بعد بلند ترین سطح ہے۔ یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب جاپان بڑھتی ہوئی مہنگائی اور کمزور جاپانی ین کے مسائل کا سامنا کر رہا ہے۔
مرکزی بینک کا کہنا ہے کہ توانائی کی قیمتوں میں اضافے اور عالمی معاشی دباؤ کے باعث مہنگائی کے خدشات بڑھ رہے ہیں۔ اسی وجہ سے شرح سود میں اضافہ کیا گیا تاکہ قیمتوں میں استحکام لایا جا سکے اور کرنسی کو سہارا دیا جا سکے۔
فیصلے کے بعد جاپانی ین میں معمولی مضبوطی دیکھی گئی جبکہ جاپان کے اسٹاک انڈیکس نکی 225 میں بھی اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مارکیٹ نے اس اقدام کو بڑی حد تک پہلے ہی قیمتوں میں شامل کر لیا تھا۔
کرپٹو سرمایہ کاروں کے لیے یہ خبر کیوں اہم ہے؟
عام طور پر جب کسی بڑی معیشت میں شرح سود بڑھتی ہے تو سرمایہ کار نسبتاً محفوظ سرمایہ کاری کی طرف مائل ہوتے ہیں۔ ایسے ماحول میں بٹ کوائن اور دیگر کرپٹو اثاثوں میں سرمایہ کاری کا رجحان وقتی طور پر کم ہو سکتا ہے۔
شرح سود میں اضافے کا مطلب یہ بھی ہے کہ مارکیٹ میں سستی لیکویڈیٹی کم ہو جاتی ہے، جس کے نتیجے میں رسک والے اثاثوں پر دباؤ بڑھ سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کچھ ماہرین مختصر مدت میں کرپٹو مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ کی توقع کر رہے ہیں۔
تاہم، یہ ضروری نہیں کہ اس خبر کا اثر طویل عرصے تک برقرار رہے۔ اگر عالمی معاشی حالات بہتر رہتے ہیں اور سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال رہتا ہے تو کرپٹو مارکیٹ دوبارہ مضبوطی دکھا سکتی ہے۔
مختصراً، بینک آف جاپان کا شرح سود 1 فیصد تک بڑھانا عالمی مالیاتی منڈیوں کے لیے ایک اہم پیش رفت ہے۔ اس کا کرپٹو مارکیٹ پر قلیل مدتی دباؤ پڑ سکتا ہے، لیکن طویل مدتی سمت کا انحصار عالمی معاشی حالات اور سرمایہ کاروں کے رویے پر ہوگا۔
#SICryptoNews #BOJRaisesRateTo1% #bitcoin
Artikel
مائیکل سیلر کی بڑی پیش گوئی: کیا بٹ کوائن 70 ہزار ڈالر سے 70 لاکھ ڈالر تک جا سکتا ہے؟کرپٹو دنیا میں ایک بار پھر مائیکل سیلر کی جانب سے ایک جرات مندانہ پیش گوئی نے سرمایہ کاروں کی توجہ اپنی جانب مبذول کر لی ہے۔ BTC Prague 2026 میں خطاب کرتے ہوئے سیلر نے کہا کہ بٹ کوائن کی قیمت مستقبل میں 70 ہزار ڈالر سے بڑھ کر 70 لاکھ ڈالر فی کوائن تک پہنچ سکتی ہے۔ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب بٹ کوائن دوبارہ 66 ہزار ڈالر سے اوپر ٹریڈ کر رہا ہے اور مارکیٹ میں مثبت جذبات دیکھنے کو مل رہے ہیں۔ مائیکل سیلر ایسا کیوں سوچتے ہیں؟ سیلر کے مطابق بٹ کوائن ابھی بھی عالمی دولت کا بہت چھوٹا حصہ رکھتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ دنیا بھر میں تقریباً 1000 ٹریلین ڈالر کا سرمایہ موجود ہے جبکہ بٹ کوائن کا حصہ صرف تقریباً 1 ٹریلین ڈالر ہے۔ ان کے خیال میں اگر بینک، پنشن فنڈز، ویلتھ مینیجرز اور انشورنس کمپنیاں بڑے پیمانے پر بٹ کوائن میں سرمایہ کاری شروع کر دیں تو بٹ کوائن کی مارکیٹ ویلیو کئی گنا بڑھ سکتی ہے۔ انہوں نے اپنی تقریر میں کہا کہ بٹ کوائن کا نیٹ ورک مستقبل میں 100 ٹریلین ڈالر تک پہنچ سکتا ہے، جس کے نتیجے میں قیمت لاکھوں ڈالر فی کوائن تک جا سکتی ہے۔ ادارہ جاتی سرمایہ کاری میں اضافہ مائیکل سیلر کی کمپنی Strategy نے حال ہی میں مزید 100 ملین ڈالر مالیت کا بٹ کوائن خریدا ہے۔ اس اقدام کو اس بات کی علامت سمجھا جا رہا ہے کہ بڑی کمپنیاں اور ادارے اب بھی بٹ کوائن پر بھرپور اعتماد رکھتے ہیں۔ گزشتہ چند برسوں میں بٹ کوائن ETFs، بٹ کوائن سے منسلک مالیاتی مصنوعات اور ادارہ جاتی سرمایہ کاری میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے، جس نے مارکیٹ کو مزید مضبوط بنایا ہے۔ کرپٹو مارکیٹ پر ممکنہ اثرات اگر ادارہ جاتی سرمایہ کاری کا رجحان جاری رہتا ہے تو بٹ کوائن کی طلب میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ اس کے نتیجے میں نہ صرف بٹ کوائن بلکہ دیگر بڑی کرپٹو کرنسیاں بھی فائدہ اٹھا سکتی ہیں۔ تاہم سرمایہ کاروں کو یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ یہ ایک طویل مدتی پیش گوئی ہے، نہ کہ فوری قیمت کا ہدف۔ کرپٹو مارکیٹ ہمیشہ اتار چڑھاؤ کا شکار رہتی ہے اور کسی بھی سرمایہ کاری سے پہلے اپنی تحقیق کرنا ضروری ہے۔ نتیجہ مائیکل سیلر کی 70 لاکھ ڈالر فی بٹ کوائن والی پیش گوئی نے ایک بار پھر کرپٹو کمیونٹی میں بحث چھیڑ دی ہے۔ اگرچہ یہ ہدف بہت بڑا لگتا ہے، لیکن سیلر کا ماننا ہے کہ عالمی سرمایہ کا ایک بڑا حصہ ابھی تک بٹ کوائن میں داخل نہیں ہوا۔ اگر مستقبل میں ادارہ جاتی اپنانے کی رفتار بڑھتی ہے تو بٹ کوائن کی ترقی کا سفر ابھی بہت طویل ہو سکتا ہے۔ #SICryptoNews #Bitcoin❗ #btc

مائیکل سیلر کی بڑی پیش گوئی: کیا بٹ کوائن 70 ہزار ڈالر سے 70 لاکھ ڈالر تک جا سکتا ہے؟

کرپٹو دنیا میں ایک بار پھر مائیکل سیلر کی جانب سے ایک جرات مندانہ پیش گوئی نے سرمایہ کاروں کی توجہ اپنی جانب مبذول کر لی ہے۔ BTC Prague 2026 میں خطاب کرتے ہوئے سیلر نے کہا کہ بٹ کوائن کی قیمت مستقبل میں 70 ہزار ڈالر سے بڑھ کر 70 لاکھ ڈالر فی کوائن تک پہنچ سکتی ہے۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب بٹ کوائن دوبارہ 66 ہزار ڈالر سے اوپر ٹریڈ کر رہا ہے اور مارکیٹ میں مثبت جذبات دیکھنے کو مل رہے ہیں۔
مائیکل سیلر ایسا کیوں سوچتے ہیں؟
سیلر کے مطابق بٹ کوائن ابھی بھی عالمی دولت کا بہت چھوٹا حصہ رکھتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ دنیا بھر میں تقریباً 1000 ٹریلین ڈالر کا سرمایہ موجود ہے جبکہ بٹ کوائن کا حصہ صرف تقریباً 1 ٹریلین ڈالر ہے۔
ان کے خیال میں اگر بینک، پنشن فنڈز، ویلتھ مینیجرز اور انشورنس کمپنیاں بڑے پیمانے پر بٹ کوائن میں سرمایہ کاری شروع کر دیں تو بٹ کوائن کی مارکیٹ ویلیو کئی گنا بڑھ سکتی ہے۔
انہوں نے اپنی تقریر میں کہا کہ بٹ کوائن کا نیٹ ورک مستقبل میں 100 ٹریلین ڈالر تک پہنچ سکتا ہے، جس کے نتیجے میں قیمت لاکھوں ڈالر فی کوائن تک جا سکتی ہے۔
ادارہ جاتی سرمایہ کاری میں اضافہ
مائیکل سیلر کی کمپنی Strategy نے حال ہی میں مزید 100 ملین ڈالر مالیت کا بٹ کوائن خریدا ہے۔ اس اقدام کو اس بات کی علامت سمجھا جا رہا ہے کہ بڑی کمپنیاں اور ادارے اب بھی بٹ کوائن پر بھرپور اعتماد رکھتے ہیں۔
گزشتہ چند برسوں میں بٹ کوائن ETFs، بٹ کوائن سے منسلک مالیاتی مصنوعات اور ادارہ جاتی سرمایہ کاری میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے، جس نے مارکیٹ کو مزید مضبوط بنایا ہے۔
کرپٹو مارکیٹ پر ممکنہ اثرات
اگر ادارہ جاتی سرمایہ کاری کا رجحان جاری رہتا ہے تو بٹ کوائن کی طلب میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ اس کے نتیجے میں نہ صرف بٹ کوائن بلکہ دیگر بڑی کرپٹو کرنسیاں بھی فائدہ اٹھا سکتی ہیں۔
تاہم سرمایہ کاروں کو یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ یہ ایک طویل مدتی پیش گوئی ہے، نہ کہ فوری قیمت کا ہدف۔ کرپٹو مارکیٹ ہمیشہ اتار چڑھاؤ کا شکار رہتی ہے اور کسی بھی سرمایہ کاری سے پہلے اپنی تحقیق کرنا ضروری ہے۔
نتیجہ
مائیکل سیلر کی 70 لاکھ ڈالر فی بٹ کوائن والی پیش گوئی نے ایک بار پھر کرپٹو کمیونٹی میں بحث چھیڑ دی ہے۔ اگرچہ یہ ہدف بہت بڑا لگتا ہے، لیکن سیلر کا ماننا ہے کہ عالمی سرمایہ کا ایک بڑا حصہ ابھی تک بٹ کوائن میں داخل نہیں ہوا۔ اگر مستقبل میں ادارہ جاتی اپنانے کی رفتار بڑھتی ہے تو بٹ کوائن کی ترقی کا سفر ابھی بہت طویل ہو سکتا ہے۔
#SICryptoNews #Bitcoin❗ #btc
Artikel
سولانا انسٹیٹیوٹ نے امریکی سینیٹ کو CLARITY Act کمزور نہ کرنے کی وارننگ دے دیکرپٹو انڈسٹری میں ریگولیشن کے حوالے سے ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ سولانا انسٹیٹیوٹ نے امریکی سینیٹ پر زور دیا ہے کہ وہ CLARITY Act میں شامل اہم قانونی تحفظات کو برقرار رکھے اور ان میں کسی قسم کی کمزوری نہ آنے دے۔ سولانا انسٹیٹیوٹ کی صدر کرسٹن اسمتھ کے مطابق، بلاک چین ڈویلپرز، ویلیڈیٹرز اور نوڈ آپریٹرز جو صارفین کے فنڈز کو اپنی تحویل میں نہیں رکھتے، انہیں منی ٹرانسمیٹرز کے طور پر درجہ بند نہیں کیا جانا چاہیے۔ ان کا کہنا ہے کہ ایسے افراد اور ادارے بنیادی طور پر نیٹ ورک اور سافٹ ویئر انفراسٹرکچر فراہم کرتے ہیں، نہ کہ صارفین کے اثاثوں کا براہ راست انتظام۔ اسمتھ نے مزید کہا کہ اگر CLARITY Act میں موجود Blockchain Regulatory Certainty Act (BRCA) کی شقیں برقرار رہتی ہیں تو اس سے اوپن سورس ڈویلپرز اور بلاک چین نیٹ ورکس کو قانونی وضاحت ملے گی۔ اس کے نتیجے میں امریکہ میں جدت اور ترقی کے لیے بہتر ماحول پیدا ہو سکتا ہے۔ دوسری جانب، قانون سازی کے عمل میں مختلف رکاوٹیں اب بھی موجود ہیں۔ امریکی سینیٹ میں بل کے مختلف حصوں پر بحث جاری ہے، جبکہ کچھ قانون ساز اس میں مزید تبدیلیاں بھی چاہتے ہیں۔ انہی وجوہات کی بنا پر بل کی منظوری کا متوقع وقت جولائی سے بڑھ کر اگست تک پہنچ گیا ہے۔ CLARITY Act کا مقصد کرپٹو مارکیٹ کے لیے واضح قواعد متعین کرنا ہے۔ اگر یہ قانون منظور ہو جاتا ہے تو بٹ کوائن اور ایتھیریم جیسی ڈی سینٹرلائزڈ کرپٹو کرنسیز کے لیے ریگولیٹری فریم ورک مزید واضح ہو جائے گا، جس سے سرمایہ کاروں اور کمپنیوں دونوں کو فائدہ پہنچ سکتا ہے۔ کرپٹو مارکیٹ کے نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو یہ خبر مثبت سمجھی جا رہی ہے۔ اگر BRCA کے تحفظات برقرار رہتے ہیں تو سولانا سمیت متعدد بلاک چین نیٹ ورکس کے لیے امریکہ میں کام کرنا آسان ہو سکتا ہے۔ اس سے نئی سرمایہ کاری، جدت اور ترقی کے مواقع پیدا ہونے کی توقع ہے۔ بہت سے ماہرین کا خیال ہے کہ واضح اور متوازن قوانین ہی امریکہ کو عالمی کرپٹو مقابلے میں مضبوط پوزیشن دلا سکتے ہیں، خاص طور پر ایسے وقت میں جب سنگاپور اور ابو ظہبی جیسے خطے بلاک چین کمپنیوں کو اپنی جانب متوجہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اب سب کی نظریں امریکی سینیٹ پر ہیں، جہاں آنے والے ہفتوں میں CLARITY Act کے مستقبل کا فیصلہ ہو سکتا ہے۔ #SICryptoNews #solana $BTC {future}(BTCUSDT)

سولانا انسٹیٹیوٹ نے امریکی سینیٹ کو CLARITY Act کمزور نہ کرنے کی وارننگ دے دی

کرپٹو انڈسٹری میں ریگولیشن کے حوالے سے ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ سولانا انسٹیٹیوٹ نے امریکی سینیٹ پر زور دیا ہے کہ وہ CLARITY Act میں شامل اہم قانونی تحفظات کو برقرار رکھے اور ان میں کسی قسم کی کمزوری نہ آنے دے۔
سولانا انسٹیٹیوٹ کی صدر کرسٹن اسمتھ کے مطابق، بلاک چین ڈویلپرز، ویلیڈیٹرز اور نوڈ آپریٹرز جو صارفین کے فنڈز کو اپنی تحویل میں نہیں رکھتے، انہیں منی ٹرانسمیٹرز کے طور پر درجہ بند نہیں کیا جانا چاہیے۔ ان کا کہنا ہے کہ ایسے افراد اور ادارے بنیادی طور پر نیٹ ورک اور سافٹ ویئر انفراسٹرکچر فراہم کرتے ہیں، نہ کہ صارفین کے اثاثوں کا براہ راست انتظام۔
اسمتھ نے مزید کہا کہ اگر CLARITY Act میں موجود Blockchain Regulatory Certainty Act (BRCA) کی شقیں برقرار رہتی ہیں تو اس سے اوپن سورس ڈویلپرز اور بلاک چین نیٹ ورکس کو قانونی وضاحت ملے گی۔ اس کے نتیجے میں امریکہ میں جدت اور ترقی کے لیے بہتر ماحول پیدا ہو سکتا ہے۔
دوسری جانب، قانون سازی کے عمل میں مختلف رکاوٹیں اب بھی موجود ہیں۔ امریکی سینیٹ میں بل کے مختلف حصوں پر بحث جاری ہے، جبکہ کچھ قانون ساز اس میں مزید تبدیلیاں بھی چاہتے ہیں۔ انہی وجوہات کی بنا پر بل کی منظوری کا متوقع وقت جولائی سے بڑھ کر اگست تک پہنچ گیا ہے۔
CLARITY Act کا مقصد کرپٹو مارکیٹ کے لیے واضح قواعد متعین کرنا ہے۔ اگر یہ قانون منظور ہو جاتا ہے تو بٹ کوائن اور ایتھیریم جیسی ڈی سینٹرلائزڈ کرپٹو کرنسیز کے لیے ریگولیٹری فریم ورک مزید واضح ہو جائے گا، جس سے سرمایہ کاروں اور کمپنیوں دونوں کو فائدہ پہنچ سکتا ہے۔
کرپٹو مارکیٹ کے نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو یہ خبر مثبت سمجھی جا رہی ہے۔ اگر BRCA کے تحفظات برقرار رہتے ہیں تو سولانا سمیت متعدد بلاک چین نیٹ ورکس کے لیے امریکہ میں کام کرنا آسان ہو سکتا ہے۔ اس سے نئی سرمایہ کاری، جدت اور ترقی کے مواقع پیدا ہونے کی توقع ہے۔
بہت سے ماہرین کا خیال ہے کہ واضح اور متوازن قوانین ہی امریکہ کو عالمی کرپٹو مقابلے میں مضبوط پوزیشن دلا سکتے ہیں، خاص طور پر ایسے وقت میں جب سنگاپور اور ابو ظہبی جیسے خطے بلاک چین کمپنیوں کو اپنی جانب متوجہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
اب سب کی نظریں امریکی سینیٹ پر ہیں، جہاں آنے والے ہفتوں میں CLARITY Act کے مستقبل کا فیصلہ ہو سکتا ہے۔
#SICryptoNews #solana $BTC
Artikel
کیا اگلا کرپٹو بُل رن بٹ کوائن کے بجائے Stablecoins اور Tokenization کی وجہ سے آئے گا؟کرپٹو مارکیٹ میں ایک دلچسپ تبدیلی دیکھنے کو مل رہی ہے۔ کئی سالوں تک بٹ کوائن کو کرپٹو انڈسٹری کا سب سے اہم اثاثہ سمجھا جاتا رہا، لیکن اب ایسا لگتا ہے کہ بڑے مالیاتی ادارے اور سرمایہ کاری کے مشیر اپنی توجہ دوسرے شعبوں کی طرف منتقل کر رہے ہیں۔ Bitwise کے چیف انویسٹمنٹ آفیسر میٹ ہوگن کے مطابق، حال ہی میں ان کی ملاقات 40 سے زائد مالیاتی مشیروں سے ہوئی جن کے زیر انتظام مجموعی اثاثوں کی مالیت تقریباً 175 ٹریلین ڈالر ہے۔ ان ملاقاتوں سے یہ بات سامنے آئی کہ ادارہ جاتی سرمایہ کار اب صرف بٹ کوائن میں دلچسپی نہیں رکھتے بلکہ Stablecoins، Tokenization اور بلاک چین کے عملی استعمال کو زیادہ اہمیت دے رہے ہیں۔ ماضی میں کرپٹو مارکیٹ کی بحالی مختلف عوامل کی وجہ سے ہوئی۔ 2014 کے بعد Ethereum نے نئی ٹیکنالوجی متعارف کروائی، 2018 کے بعد DeFi نے مارکیٹ کو نئی سمت دی، جبکہ 2022 کے بعد Spot Bitcoin ETFs نے ادارہ جاتی سرمایہ کاروں کو کرپٹو مارکیٹ کی طرف راغب کیا۔ اب ماہرین کا خیال ہے کہ اگلا ترقی کا مرحلہ Stablecoins اور Tokenization سے جڑا ہو سکتا ہے۔ Stablecoins وہ ڈیجیٹل اثاثے ہیں جن کی قیمت عموماً کسی روایتی کرنسی جیسے امریکی ڈالر سے منسلک ہوتی ہے۔ دوسری طرف Tokenization حقیقی دنیا کے اثاثوں جیسے جائیداد، بانڈز یا شیئرز کو بلاک چین پر منتقل کرنے کا عمل ہے۔ اسی وجہ سے Ethereum، Solana، Chainlink، Avalanche اور Hyperliquid جیسے منصوبے سرمایہ کاروں کی توجہ حاصل کر رہے ہیں۔ اس کے علاوہ Circle، Coinbase اور Figure جیسی کمپنیاں بھی اس بڑھتے ہوئے رجحان سے فائدہ اٹھا سکتی ہیں۔ یہ تبدیلی اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ کرپٹو انڈسٹری پہلے کے مقابلے میں زیادہ پختہ ہو رہی ہے۔ اب سرمایہ کار صرف قیمتوں میں اضافے کی امید پر سرمایہ کاری نہیں کر رہے بلکہ وہ ایسی ٹیکنالوجیز تلاش کر رہے ہیں جو حقیقی دنیا کے مسائل حل کر سکیں۔ اگر ادارہ جاتی سرمایہ کار اسی رفتار سے Stablecoins اور Tokenization کی طرف آتے رہے تو ممکن ہے کہ اگلا کرپٹو بُل رن صرف بٹ کوائن کے گرد نہ گھومے بلکہ پورا بلاک چین ایکو سسٹم اس کا فائدہ اٹھائے۔ مختصر طور پر، کرپٹو مارکیٹ کا مستقبل شاید پہلے سے زیادہ متنوع ہو، جہاں کامیابی صرف بٹ کوائن نہیں بلکہ متعدد بلاک چین نیٹ ورکس اور ان سے وابستہ کاروباروں کے حصے میں بھی آئے۔ #SICryptoNews #bitcoin #altcoins

کیا اگلا کرپٹو بُل رن بٹ کوائن کے بجائے Stablecoins اور Tokenization کی وجہ سے آئے گا؟

کرپٹو مارکیٹ میں ایک دلچسپ تبدیلی دیکھنے کو مل رہی ہے۔ کئی سالوں تک بٹ کوائن کو کرپٹو انڈسٹری کا سب سے اہم اثاثہ سمجھا جاتا رہا، لیکن اب ایسا لگتا ہے کہ بڑے مالیاتی ادارے اور سرمایہ کاری کے مشیر اپنی توجہ دوسرے شعبوں کی طرف منتقل کر رہے ہیں۔
Bitwise کے چیف انویسٹمنٹ آفیسر میٹ ہوگن کے مطابق، حال ہی میں ان کی ملاقات 40 سے زائد مالیاتی مشیروں سے ہوئی جن کے زیر انتظام مجموعی اثاثوں کی مالیت تقریباً 175 ٹریلین ڈالر ہے۔ ان ملاقاتوں سے یہ بات سامنے آئی کہ ادارہ جاتی سرمایہ کار اب صرف بٹ کوائن میں دلچسپی نہیں رکھتے بلکہ Stablecoins، Tokenization اور بلاک چین کے عملی استعمال کو زیادہ اہمیت دے رہے ہیں۔
ماضی میں کرپٹو مارکیٹ کی بحالی مختلف عوامل کی وجہ سے ہوئی۔ 2014 کے بعد Ethereum نے نئی ٹیکنالوجی متعارف کروائی، 2018 کے بعد DeFi نے مارکیٹ کو نئی سمت دی، جبکہ 2022 کے بعد Spot Bitcoin ETFs نے ادارہ جاتی سرمایہ کاروں کو کرپٹو مارکیٹ کی طرف راغب کیا۔
اب ماہرین کا خیال ہے کہ اگلا ترقی کا مرحلہ Stablecoins اور Tokenization سے جڑا ہو سکتا ہے۔ Stablecoins وہ ڈیجیٹل اثاثے ہیں جن کی قیمت عموماً کسی روایتی کرنسی جیسے امریکی ڈالر سے منسلک ہوتی ہے۔ دوسری طرف Tokenization حقیقی دنیا کے اثاثوں جیسے جائیداد، بانڈز یا شیئرز کو بلاک چین پر منتقل کرنے کا عمل ہے۔
اسی وجہ سے Ethereum، Solana، Chainlink، Avalanche اور Hyperliquid جیسے منصوبے سرمایہ کاروں کی توجہ حاصل کر رہے ہیں۔ اس کے علاوہ Circle، Coinbase اور Figure جیسی کمپنیاں بھی اس بڑھتے ہوئے رجحان سے فائدہ اٹھا سکتی ہیں۔
یہ تبدیلی اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ کرپٹو انڈسٹری پہلے کے مقابلے میں زیادہ پختہ ہو رہی ہے۔ اب سرمایہ کار صرف قیمتوں میں اضافے کی امید پر سرمایہ کاری نہیں کر رہے بلکہ وہ ایسی ٹیکنالوجیز تلاش کر رہے ہیں جو حقیقی دنیا کے مسائل حل کر سکیں۔
اگر ادارہ جاتی سرمایہ کار اسی رفتار سے Stablecoins اور Tokenization کی طرف آتے رہے تو ممکن ہے کہ اگلا کرپٹو بُل رن صرف بٹ کوائن کے گرد نہ گھومے بلکہ پورا بلاک چین ایکو سسٹم اس کا فائدہ اٹھائے۔
مختصر طور پر، کرپٹو مارکیٹ کا مستقبل شاید پہلے سے زیادہ متنوع ہو، جہاں کامیابی صرف بٹ کوائن نہیں بلکہ متعدد بلاک چین نیٹ ورکس اور ان سے وابستہ کاروباروں کے حصے میں بھی آئے۔
#SICryptoNews #bitcoin #altcoins
Can Solana Return to Its Highs? All Eyes on the $68 Level Solana (SOL) is back in the spotlight after showing signs of recovery following a sharp market correction. While the broader crypto market has faced increased volatility, Solana has managed to regain some strength, giving investors a reason to watch the asset closely once again. Earlier this month, Solana dropped to around $61 after trading near $96 in May. The decline wiped out more than one-third of its value in a short period, largely due to market-wide selling pressure, whale activity, and the liquidation of leveraged positions. #SICryptoNews #solana $SOL {future}(SOLUSDT) $BTC {future}(BTCUSDT)
Can Solana Return to Its Highs? All Eyes on the $68 Level
Solana (SOL) is back in the spotlight after showing signs of recovery following a sharp market correction. While the broader crypto market has faced increased volatility, Solana has managed to regain some strength, giving investors a reason to watch the asset closely once again.
Earlier this month, Solana dropped to around $61 after trading near $96 in May. The decline wiped out more than one-third of its value in a short period, largely due to market-wide selling pressure, whale activity, and the liquidation of leveraged positions.
#SICryptoNews #solana $SOL
$BTC
Bitcoin Surges While Oil Prices Fall After Trump Cancels Planned Iran Strikes Global financial markets reacted quickly after U.S. President Donald Trump announced that the United States would not proceed with the planned military strikes against Iran. The statement sparked optimism across multiple markets, leading to a sharp rise in cryptocurrencies and a significant drop in oil prices. #SICryptoNews #TRUMP $BTC {future}(BTCUSDT) $ETH {future}(ETHUSDT) $TSLAB
Bitcoin Surges While Oil Prices Fall After Trump Cancels Planned Iran Strikes
Global financial markets reacted quickly after U.S. President Donald Trump announced that the United States would not proceed with the planned military strikes against Iran. The statement sparked optimism across multiple markets, leading to a sharp rise in cryptocurrencies and a significant drop in oil prices.
#SICryptoNews #TRUMP $BTC
$ETH
$TSLAB
Japan Moves to Regulate Crypto Like Stocks, Opening the Door for Bitcoin ETFs Japan is taking a major step toward integrating cryptocurrencies into its traditional financial system. The country's parliament is moving forward with legislation that would regulate digital assets such as Bitcoin and Ethereum under a framework similar to stocks. The bill has already passed the lower house of parliament and is expected to move through the upper house before potentially becoming law next year. If approved, cryptocurrencies would be treated more like financial instruments, bringing them under stricter regulatory oversight. #SICryptoNews #JapanPassesCryptoFinancialProductsBill $BTC $ETH $XRP
Japan Moves to Regulate Crypto Like Stocks, Opening the Door for Bitcoin ETFs
Japan is taking a major step toward integrating cryptocurrencies into its traditional financial system. The country's parliament is moving forward with legislation that would regulate digital assets such as Bitcoin and Ethereum under a framework similar to stocks.
The bill has already passed the lower house of parliament and is expected to move through the upper house before potentially becoming law next year. If approved, cryptocurrencies would be treated more like financial instruments, bringing them under stricter regulatory oversight.
#SICryptoNews #JapanPassesCryptoFinancialProductsBill $BTC $ETH $XRP
Artikel
بینک آف جاپان 31 سال کی بلند ترین شرحِ سود کی جانب، کرپٹو مارکیٹ پر کیا اثر پڑے گا؟دنیا بھر کی مالیاتی منڈیوں کی نظریں اس وقت جاپان پر جمی ہوئی ہیں، کیونکہ بینک آف جاپان اگلے ہفتے شرحِ سود کو بڑھا کر 1 فیصد تک لے جانے کی تیاری کر رہا ہے۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو یہ 1995 کے بعد پہلی بار ہوگا کہ جاپان کی شرحِ سود اس سطح پر پہنچے گی۔ کئی سالوں تک جاپان نے انتہائی نرم مالیاتی پالیسی اپنائے رکھی تاکہ معیشت کو سہارا دیا جا سکے۔ لیکن اب بڑھتی ہوئی مہنگائی اور توانائی کی قیمتوں میں اضافے نے مرکزی بینک کو سخت فیصلے لینے پر مجبور کر دیا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ بینک آف جاپان کے گورنر کازو اوئیڈا طبی علاج کی وجہ سے آئندہ اجلاس میں شرکت نہیں کریں گے۔ ان کی جگہ ڈپٹی گورنر شن ایچی اوچیڈا میڈیا بریفنگ دیں گے، جس پر سرمایہ کار خصوصی توجہ دے رہے ہیں۔ ماہرین کا خیال ہے کہ شرحِ سود میں اضافے سے جاپانی کرنسی "ین" مضبوط ہو سکتی ہے۔ مضبوط ین درآمدی مہنگائی کو کم کرنے میں مدد دے سکتا ہے، لیکن اس کے ساتھ ساتھ سرمایہ کاروں کے رویے پر بھی اثر ڈال سکتا ہے۔ کرپٹو مارکیٹ کے لیے یہ خبر خاص اہمیت رکھتی ہے۔ جب شرحِ سود بڑھتی ہے تو عام طور پر سرمایہ کار زیادہ محفوظ اثاثوں کو ترجیح دیتے ہیں، جس کے نتیجے میں بٹ کوائن اور دیگر کرپٹو کرنسیوں پر مختصر مدت کے لیے دباؤ آ سکتا ہے۔ اس کے علاوہ بلند شرحِ سود مارکیٹ میں موجود اضافی لیکویڈیٹی کو بھی کم کر سکتی ہے، جو اکثر کرپٹو مارکیٹ کی تیزی کا ایک اہم سبب ہوتی ہے۔ اگرچہ قلیل مدت میں کچھ منفی اثرات دیکھنے کو مل سکتے ہیں، لیکن طویل مدت میں کرپٹو مارکیٹ کی سمت کا انحصار عالمی معاشی حالات، امریکی فیڈرل ریزرو کی پالیسیوں اور سرمایہ کاروں کے اعتماد پر رہے گا۔ آنے والے دنوں میں سرمایہ کاروں کی نظریں بینک آف جاپان کے فیصلے اور اس کے بعد آنے والے بیانات پر مرکوز رہیں گی، کیونکہ یہی عوامل مالیاتی اور کرپٹو مارکیٹوں کی اگلی سمت کا تعین کر سکتے ہیں۔ #SICryptoNews #JapanCrypto #BoJ

بینک آف جاپان 31 سال کی بلند ترین شرحِ سود کی جانب، کرپٹو مارکیٹ پر کیا اثر پڑے گا؟

دنیا بھر کی مالیاتی منڈیوں کی نظریں اس وقت جاپان پر جمی ہوئی ہیں، کیونکہ بینک آف جاپان اگلے ہفتے شرحِ سود کو بڑھا کر 1 فیصد تک لے جانے کی تیاری کر رہا ہے۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو یہ 1995 کے بعد پہلی بار ہوگا کہ جاپان کی شرحِ سود اس سطح پر پہنچے گی۔
کئی سالوں تک جاپان نے انتہائی نرم مالیاتی پالیسی اپنائے رکھی تاکہ معیشت کو سہارا دیا جا سکے۔ لیکن اب بڑھتی ہوئی مہنگائی اور توانائی کی قیمتوں میں اضافے نے مرکزی بینک کو سخت فیصلے لینے پر مجبور کر دیا ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ بینک آف جاپان کے گورنر کازو اوئیڈا طبی علاج کی وجہ سے آئندہ اجلاس میں شرکت نہیں کریں گے۔ ان کی جگہ ڈپٹی گورنر شن ایچی اوچیڈا میڈیا بریفنگ دیں گے، جس پر سرمایہ کار خصوصی توجہ دے رہے ہیں۔
ماہرین کا خیال ہے کہ شرحِ سود میں اضافے سے جاپانی کرنسی "ین" مضبوط ہو سکتی ہے۔ مضبوط ین درآمدی مہنگائی کو کم کرنے میں مدد دے سکتا ہے، لیکن اس کے ساتھ ساتھ سرمایہ کاروں کے رویے پر بھی اثر ڈال سکتا ہے۔
کرپٹو مارکیٹ کے لیے یہ خبر خاص اہمیت رکھتی ہے۔ جب شرحِ سود بڑھتی ہے تو عام طور پر سرمایہ کار زیادہ محفوظ اثاثوں کو ترجیح دیتے ہیں، جس کے نتیجے میں بٹ کوائن اور دیگر کرپٹو کرنسیوں پر مختصر مدت کے لیے دباؤ آ سکتا ہے۔
اس کے علاوہ بلند شرحِ سود مارکیٹ میں موجود اضافی لیکویڈیٹی کو بھی کم کر سکتی ہے، جو اکثر کرپٹو مارکیٹ کی تیزی کا ایک اہم سبب ہوتی ہے۔
اگرچہ قلیل مدت میں کچھ منفی اثرات دیکھنے کو مل سکتے ہیں، لیکن طویل مدت میں کرپٹو مارکیٹ کی سمت کا انحصار عالمی معاشی حالات، امریکی فیڈرل ریزرو کی پالیسیوں اور سرمایہ کاروں کے اعتماد پر رہے گا۔
آنے والے دنوں میں سرمایہ کاروں کی نظریں بینک آف جاپان کے فیصلے اور اس کے بعد آنے والے بیانات پر مرکوز رہیں گی، کیونکہ یہی عوامل مالیاتی اور کرپٹو مارکیٹوں کی اگلی سمت کا تعین کر سکتے ہیں۔
#SICryptoNews #JapanCrypto #BoJ
Artikel
ہنگری میں کرپٹو ٹریڈنگ کے قوانین نرم ہونے جا رہے ہیں، سرمایہ کاروں کے لیے بڑی خوشخبریہنگری میں کرپٹو ٹریڈنگ کے قوانین نرم ہونے جا رہے ہیں، ہنگری میں حالیہ سیاسی تبدیلیوں کے بعد کرپٹو کرنسی سے متعلق ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ نئی حکومت نے اشارہ دیا ہے کہ وہ سابق حکومت کے دور میں نافذ کیے گئے سخت کرپٹو قوانین کو ختم یا نرم کرنے جا رہی ہے، جس سے ملک کے کرپٹو سرمایہ کاروں اور ٹریڈرز کو بڑی سہولت مل سکتی ہے۔ سابق وزیر اعظم وکٹر اوربان کی حکومت نے 2025 میں ایسے قوانین متعارف کروائے تھے جن کے تحت کرپٹو ٹرانزیکشنز پر سخت نگرانی رکھی جاتی تھی۔ بعض صورتوں میں غیر منظور شدہ ایکسچینجز کے استعمال یا قواعد کی خلاف ورزی پر جیل کی سزائیں بھی دی جا سکتی تھیں۔ ان قوانین کے باعث کئی بین الاقوامی کرپٹو پلیٹ فارمز نے ہنگری میں اپنی خدمات محدود کر دی تھیں۔ نئی حکومت کا مؤقف ہے کہ ایسے سخت اقدامات نہ صرف سرمایہ کاری کے ماحول کو متاثر کرتے ہیں بلکہ جدید مالیاتی ٹیکنالوجی کی ترقی میں بھی رکاوٹ بنتے ہیں۔ اسی لیے حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ جیل کی سزاؤں اور فوجداری مقدمات کے خطرے کو ختم کیا جائے گا۔ اس کے علاوہ ہنگری اپنی کرپٹو مارکیٹ کو یورپی یونین کے MiCA فریم ورک کے مطابق ڈھالنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ MiCA کو یورپ میں کرپٹو انڈسٹری کے لیے ایک جامع اور متوازن ریگولیٹری نظام سمجھا جاتا ہے، جو سرمایہ کاروں کے تحفظ کے ساتھ ساتھ جدت کی بھی حوصلہ افزائی کرتا ہے۔ ماہرین کے مطابق اس فیصلے سے ہنگری میں کرپٹو اپنانے کی رفتار تیز ہو سکتی ہے۔ مزید بین الاقوامی کمپنیاں ملک میں داخل ہو سکتی ہیں، سرمایہ کاری بڑھ سکتی ہے اور مقامی کرپٹو مارکیٹ کو نئی زندگی مل سکتی ہے۔ اگر یہ اصلاحات مکمل طور پر نافذ ہو جاتی ہیں تو ہنگری یورپ کے ان ممالک میں شامل ہو سکتا ہے جو کرپٹو اور بلاک چین ٹیکنالوجی کے لیے زیادہ دوستانہ ماحول فراہم کرتے ہیں۔ مختصراً، ہنگری کا یہ قدم نہ صرف مقامی سرمایہ کاروں کے لیے مثبت خبر ہے بلکہ پورے یورپی کرپٹو سیکٹر کے لیے بھی ایک حوصلہ افزا اشارہ سمجھا جا رہا ہے۔ #HungaryDecriminalizesCryptoTrading #SICryptoNews

ہنگری میں کرپٹو ٹریڈنگ کے قوانین نرم ہونے جا رہے ہیں، سرمایہ کاروں کے لیے بڑی خوشخبری

ہنگری میں کرپٹو ٹریڈنگ کے قوانین نرم ہونے جا رہے ہیں، ہنگری میں حالیہ سیاسی تبدیلیوں کے بعد کرپٹو کرنسی سے متعلق ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ نئی حکومت نے اشارہ دیا ہے کہ وہ سابق حکومت کے دور میں نافذ کیے گئے سخت کرپٹو قوانین کو ختم یا نرم کرنے جا رہی ہے، جس سے ملک کے کرپٹو سرمایہ کاروں اور ٹریڈرز کو بڑی سہولت مل سکتی ہے۔
سابق وزیر اعظم وکٹر اوربان کی حکومت نے 2025 میں ایسے قوانین متعارف کروائے تھے جن کے تحت کرپٹو ٹرانزیکشنز پر سخت نگرانی رکھی جاتی تھی۔ بعض صورتوں میں غیر منظور شدہ ایکسچینجز کے استعمال یا قواعد کی خلاف ورزی پر جیل کی سزائیں بھی دی جا سکتی تھیں۔ ان قوانین کے باعث کئی بین الاقوامی کرپٹو پلیٹ فارمز نے ہنگری میں اپنی خدمات محدود کر دی تھیں۔
نئی حکومت کا مؤقف ہے کہ ایسے سخت اقدامات نہ صرف سرمایہ کاری کے ماحول کو متاثر کرتے ہیں بلکہ جدید مالیاتی ٹیکنالوجی کی ترقی میں بھی رکاوٹ بنتے ہیں۔ اسی لیے حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ جیل کی سزاؤں اور فوجداری مقدمات کے خطرے کو ختم کیا جائے گا۔
اس کے علاوہ ہنگری اپنی کرپٹو مارکیٹ کو یورپی یونین کے MiCA فریم ورک کے مطابق ڈھالنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ MiCA کو یورپ میں کرپٹو انڈسٹری کے لیے ایک جامع اور متوازن ریگولیٹری نظام سمجھا جاتا ہے، جو سرمایہ کاروں کے تحفظ کے ساتھ ساتھ جدت کی بھی حوصلہ افزائی کرتا ہے۔
ماہرین کے مطابق اس فیصلے سے ہنگری میں کرپٹو اپنانے کی رفتار تیز ہو سکتی ہے۔ مزید بین الاقوامی کمپنیاں ملک میں داخل ہو سکتی ہیں، سرمایہ کاری بڑھ سکتی ہے اور مقامی کرپٹو مارکیٹ کو نئی زندگی مل سکتی ہے۔
اگر یہ اصلاحات مکمل طور پر نافذ ہو جاتی ہیں تو ہنگری یورپ کے ان ممالک میں شامل ہو سکتا ہے جو کرپٹو اور بلاک چین ٹیکنالوجی کے لیے زیادہ دوستانہ ماحول فراہم کرتے ہیں۔
مختصراً، ہنگری کا یہ قدم نہ صرف مقامی سرمایہ کاروں کے لیے مثبت خبر ہے بلکہ پورے یورپی کرپٹو سیکٹر کے لیے بھی ایک حوصلہ افزا اشارہ سمجھا جا رہا ہے۔
#HungaryDecriminalizesCryptoTrading #SICryptoNews
Artikel
جاپان کرپٹو کو اسٹاکس کی طرح ریگولیٹ کرنے کی تیاری میں، Bitcoin ETFs کی راہ ہموارکرپٹو مارکیٹ کے لیے ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ جاپان کی پارلیمنٹ ایک ایسے قانون پر کام کر رہی ہے جس کے تحت بٹ کوائن، ایتھیریم اور دیگر کرپٹو کرنسیز کو اسٹاکس کی طرح ریگولیٹ کیا جائے گا۔ اس اقدام کو کرپٹو انڈسٹری کے لیے ایک بڑا مثبت قدم قرار دیا جا رہا ہے۔ رپورٹس کے مطابق بل پارلیمنٹ کے نچلے ایوان سے منظور ہو چکا ہے اور اب اسے بالائی ایوان سے منظوری درکار ہے۔ اگر یہ قانون منظور ہو جاتا ہے تو اس کا نفاذ اگلے سال متوقع ہے۔ اس قانون کا سب سے اہم پہلو ٹیکس میں ممکنہ کمی ہے۔ اس وقت جاپان میں کرپٹو سے حاصل ہونے والے منافع پر ٹیکس کی شرح 55 فیصد تک پہنچ سکتی ہے، جو سرمایہ کاروں کے لیے ایک بڑی رکاوٹ سمجھی جاتی ہے۔ نئے فریم ورک کے تحت یہ شرح تقریباً 20 فیصد تک لائی جا سکتی ہے، جو اسٹاک مارکیٹ کے ٹیکس کے برابر ہے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ کم ٹیکس کی وجہ سے زیادہ افراد اور ادارے کرپٹو مارکیٹ میں سرمایہ کاری کرنے میں دلچسپی لیں گے۔ اس سے جاپان کی کرپٹو انڈسٹری کو مزید ترقی مل سکتی ہے۔ اس قانون سے Bitcoin ETFs کے آغاز کی امیدیں بھی بڑھ گئی ہیں۔ ETFs سرمایہ کاروں کو بٹ کوائن میں براہ راست خریداری کے بغیر سرمایہ کاری کا موقع فراہم کرتے ہیں۔ اگر جاپان میں Bitcoin ETFs کی منظوری ملتی ہے تو یہ مقامی اور بین الاقوامی سرمایہ کاروں کے لیے ایک بڑی سہولت ہوگی۔ دوسری جانب حکومت مارکیٹ کی شفافیت اور سرمایہ کاروں کے تحفظ کو بھی مضبوط بنانا چاہتی ہے۔ نئے قوانین کے تحت اندرونی معلومات کی بنیاد پر ٹریڈنگ اور دیگر غیر منصفانہ سرگرمیوں پر سخت نگرانی کی جائے گی۔ مجموعی طور پر دیکھا جائے تو جاپان کا یہ اقدام کرپٹو مارکیٹ کے لیے ایک مثبت اشارہ ہے۔ کم ٹیکس، بہتر ریگولیشن اور ETFs کی ممکنہ منظوری مستقبل میں کرپٹو اپنانے کی رفتار کو مزید بڑھا سکتی ہے #SICryptoNews #JapanCrypto

جاپان کرپٹو کو اسٹاکس کی طرح ریگولیٹ کرنے کی تیاری میں، Bitcoin ETFs کی راہ ہموار

کرپٹو مارکیٹ کے لیے ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ جاپان کی پارلیمنٹ ایک ایسے قانون پر کام کر رہی ہے جس کے تحت بٹ کوائن، ایتھیریم اور دیگر کرپٹو کرنسیز کو اسٹاکس کی طرح ریگولیٹ کیا جائے گا۔ اس اقدام کو کرپٹو انڈسٹری کے لیے ایک بڑا مثبت قدم قرار دیا جا رہا ہے۔
رپورٹس کے مطابق بل پارلیمنٹ کے نچلے ایوان سے منظور ہو چکا ہے اور اب اسے بالائی ایوان سے منظوری درکار ہے۔ اگر یہ قانون منظور ہو جاتا ہے تو اس کا نفاذ اگلے سال متوقع ہے۔
اس قانون کا سب سے اہم پہلو ٹیکس میں ممکنہ کمی ہے۔ اس وقت جاپان میں کرپٹو سے حاصل ہونے والے منافع پر ٹیکس کی شرح 55 فیصد تک پہنچ سکتی ہے، جو سرمایہ کاروں کے لیے ایک بڑی رکاوٹ سمجھی جاتی ہے۔ نئے فریم ورک کے تحت یہ شرح تقریباً 20 فیصد تک لائی جا سکتی ہے، جو اسٹاک مارکیٹ کے ٹیکس کے برابر ہے۔
ماہرین کا خیال ہے کہ کم ٹیکس کی وجہ سے زیادہ افراد اور ادارے کرپٹو مارکیٹ میں سرمایہ کاری کرنے میں دلچسپی لیں گے۔ اس سے جاپان کی کرپٹو انڈسٹری کو مزید ترقی مل سکتی ہے۔
اس قانون سے Bitcoin ETFs کے آغاز کی امیدیں بھی بڑھ گئی ہیں۔ ETFs سرمایہ کاروں کو بٹ کوائن میں براہ راست خریداری کے بغیر سرمایہ کاری کا موقع فراہم کرتے ہیں۔ اگر جاپان میں Bitcoin ETFs کی منظوری ملتی ہے تو یہ مقامی اور بین الاقوامی سرمایہ کاروں کے لیے ایک بڑی سہولت ہوگی۔
دوسری جانب حکومت مارکیٹ کی شفافیت اور سرمایہ کاروں کے تحفظ کو بھی مضبوط بنانا چاہتی ہے۔ نئے قوانین کے تحت اندرونی معلومات کی بنیاد پر ٹریڈنگ اور دیگر غیر منصفانہ سرگرمیوں پر سخت نگرانی کی جائے گی۔
مجموعی طور پر دیکھا جائے تو جاپان کا یہ اقدام کرپٹو مارکیٹ کے لیے ایک مثبت اشارہ ہے۔ کم ٹیکس، بہتر ریگولیشن اور ETFs کی ممکنہ منظوری مستقبل میں کرپٹو اپنانے کی رفتار کو مزید بڑھا سکتی ہے
#SICryptoNews #JapanCrypto
Citigroup Predicts an $8 Trillion Tokenization Market by 2030 Blockchain technology is steadily moving beyond the world of cryptocurrencies and into traditional finance. According to a recent report from Citigroup, the market for tokenized real-world assets could grow to as much as $8.2 trillion by 2030, highlighting the enormous potential of this rapidly expanding sector. Tokenization refers to the process of converting real-world assets such as stocks, bonds, real estate, and commodities into digital tokens that can be traded and managed on a blockchain. This approach can improve efficiency, increase transparency, and make financial markets more accessible to investors. #SICryptoNews #BTC $BTC {future}(BTCUSDT)
Citigroup Predicts an $8 Trillion Tokenization Market by 2030
Blockchain technology is steadily moving beyond the world of cryptocurrencies and into traditional finance. According to a recent report from Citigroup, the market for tokenized real-world assets could grow to as much as $8.2 trillion by 2030, highlighting the enormous potential of this rapidly expanding sector.
Tokenization refers to the process of converting real-world assets such as stocks, bonds, real estate, and commodities into digital tokens that can be traded and managed on a blockchain. This approach can improve efficiency, increase transparency, and make financial markets more accessible to investors.
#SICryptoNews #BTC $BTC
Michael Saylor Predicts Bitcoin Could Rise From $70K to $7 Million Michael Saylor has once again sparked discussion across the crypto industry with one of his boldest Bitcoin forecasts yet. Speaking at BTC Prague 2026, the Strategy Executive Chairman suggested that Bitcoin could eventually climb from around $70,000 to as much as $7 million per coin. His comments come at a time when Bitcoin has recovered above $66,000 and market sentiment has started improving after weeks of uncertainty. #SICryptoNews #bitcoin $BTC {future}(BTCUSDT)
Michael Saylor Predicts Bitcoin Could Rise From $70K to $7 Million
Michael Saylor has once again sparked discussion across the crypto industry with one of his boldest Bitcoin forecasts yet. Speaking at BTC Prague 2026, the Strategy Executive Chairman suggested that Bitcoin could eventually climb from around $70,000 to as much as $7 million per coin.
His comments come at a time when Bitcoin has recovered above $66,000 and market sentiment has started improving after weeks of uncertainty.
#SICryptoNews #bitcoin $BTC
Are Stablecoins and Tokenization the Real Drivers of the Next Crypto Bull Market? For years, Bitcoin has been the dominant force in the cryptocurrency market. Whenever a new bull cycle began, Bitcoin was usually the first asset investors looked at. However, recent discussions among financial advisors suggest that the industry may be entering a new phase. According to Bitwise Chief Investment Officer Matt Hougan, conversations with more than 40 financial advisory teams managing a combined $175 trillion in assets revealed a noticeable shift in interest. While confidence in crypto remains strong, many advisors are now paying closer attention to stablecoins, tokenization, and real-world blockchain applications rather than focusing solely on Bitcoin. #SICryptoNews $BTC {future}(BTCUSDT) $ETH {future}(ETHUSDT)
Are Stablecoins and Tokenization the Real Drivers of the Next Crypto Bull Market?

For years, Bitcoin has been the dominant force in the cryptocurrency market. Whenever a new bull cycle began, Bitcoin was usually the first asset investors looked at. However, recent discussions among financial advisors suggest that the industry may be entering a new phase.

According to Bitwise Chief Investment Officer Matt Hougan, conversations with more than 40 financial advisory teams managing a combined $175 trillion in assets revealed a noticeable shift in interest. While confidence in crypto remains strong, many advisors are now paying closer attention to stablecoins, tokenization, and real-world blockchain applications rather than focusing solely on Bitcoin.
#SICryptoNews $BTC
$ETH
Global politics and the cryptocurrency market are becoming more connected than ever. That is why former U.S. President Donald Trump's latest statement regarding a potential deal with Iran has caught the attention of Bitcoin investors around the world. According to Trump, a permanent agreement with Iran could be signed soon. He described the deal as a step toward preventing nuclear escalation and bringing more stability to the Middle East. He also claimed that the Strait of Hormuz would remain open for global trade after the agreement, an important factor for energy markets and international shipping. #SICryptoNews #bitcoin $BTC {future}(BTCUSDT)
Global politics and the cryptocurrency market are becoming more connected than ever. That is why former U.S. President Donald Trump's latest statement regarding a potential deal with Iran has caught the attention of Bitcoin investors around the world.
According to Trump, a permanent agreement with Iran could be signed soon. He described the deal as a step toward preventing nuclear escalation and bringing more stability to the Middle East. He also claimed that the Strait of Hormuz would remain open for global trade after the agreement, an important factor for energy markets and international shipping.
#SICryptoNews #bitcoin $BTC
Artikel
سٹی گروپ کی پیش گوئی: 2030 تک ٹوکنائزیشن مارکیٹ 8 ٹریلین ڈالر تک پہنچ سکتی ہےبلاک چین اور کرپٹو انڈسٹری تیزی سے ترقی کر رہی ہے، اور اب دنیا کے بڑے مالیاتی ادارے بھی اس تبدیلی کا حصہ بنتے جا رہے ہیں۔ حال ہی میں سٹی گروپ نے ایک رپورٹ جاری کی ہے جس میں پیش گوئی کی گئی ہے کہ 2030 تک ٹوکنائزڈ اثاثوں (Tokenized Assets) کی مارکیٹ 8.2 ٹریلین ڈالر تک پہنچ سکتی ہے۔ ٹوکنائزیشن دراصل ایک ایسا عمل ہے جس میں حقیقی دنیا کے اثاثوں، جیسے اسٹاکس، بانڈز، پراپرٹی اور دیگر مالیاتی مصنوعات کو بلاک چین پر ڈیجیٹل شکل میں تبدیل کیا جاتا ہے۔ اس طریقے سے سرمایہ کاروں کے لیے خرید و فروخت آسان، تیز اور زیادہ شفاف ہو جاتی ہے۔ سٹی گروپ کے مطابق، اگر موجودہ رفتار برقرار رہی تو یہ مارکیٹ کم از کم 5.5 ٹریلین ڈالر تک پہنچ سکتی ہے، جبکہ مضبوط اپنانے کی صورت میں 8 ٹریلین ڈالر سے بھی تجاوز کر سکتی ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق، اس وقت ٹوکنائزڈ اثاثوں کی مجموعی مالیت 43 ارب ڈالر سے زیادہ ہو چکی ہے۔ صرف گزشتہ چھ ماہ کے دوران اس شعبے میں تقریباً 37 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جو اس کی بڑھتی ہوئی مقبولیت کو ظاہر کرتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق، ٹوکنائزڈ فنڈز اس مارکیٹ کا سب سے بڑا حصہ ہیں اور مجموعی مارکیٹ ویلیو کا تقریباً 80 فیصد رکھتے ہیں۔ اس کے علاوہ کموڈیٹیز اور ٹوکنائزڈ اسٹاکس بھی تیزی سے توجہ حاصل کر رہے ہیں۔ بڑی مالیاتی کمپنیاں اور ادارے بھی بلاک چین ٹیکنالوجی کو اپنانے میں دلچسپی دکھا رہے ہیں۔ ماہرین کا خیال ہے کہ جیسے جیسے ریگولیٹری فریم ورک مزید واضح ہوگا، مزید بینک، ایکسچینجز اور سرمایہ کاری کے ادارے ٹوکنائزیشن کو اپنی خدمات کا حصہ بنائیں گے۔ کرپٹو مارکیٹ کے لیے یہ خبر خاص اہمیت رکھتی ہے کیونکہ حقیقی دنیا کے اثاثوں کے بلاک چین پر آنے سے لیکویڈیٹی میں اضافہ ہوگا، نئے سرمایہ کار شامل ہوں گے اور بلاک چین کا استعمال پہلے سے کہیں زیادہ وسیع ہو جائے گا۔ اگر سٹی گروپ کی یہ پیش گوئی درست ثابت ہوتی ہے تو آنے والے چند سال بلاک چین اور کرپٹو انڈسٹری کی تاریخ کے سب سے اہم سال ثابت ہو سکتے ہیں۔ #SICryptoNews $BTC {future}(BTCUSDT)

سٹی گروپ کی پیش گوئی: 2030 تک ٹوکنائزیشن مارکیٹ 8 ٹریلین ڈالر تک پہنچ سکتی ہے

بلاک چین اور کرپٹو انڈسٹری تیزی سے ترقی کر رہی ہے، اور اب دنیا کے بڑے مالیاتی ادارے بھی اس تبدیلی کا حصہ بنتے جا رہے ہیں۔ حال ہی میں سٹی گروپ نے ایک رپورٹ جاری کی ہے جس میں پیش گوئی کی گئی ہے کہ 2030 تک ٹوکنائزڈ اثاثوں (Tokenized Assets) کی مارکیٹ 8.2 ٹریلین ڈالر تک پہنچ سکتی ہے۔
ٹوکنائزیشن دراصل ایک ایسا عمل ہے جس میں حقیقی دنیا کے اثاثوں، جیسے اسٹاکس، بانڈز، پراپرٹی اور دیگر مالیاتی مصنوعات کو بلاک چین پر ڈیجیٹل شکل میں تبدیل کیا جاتا ہے۔ اس طریقے سے سرمایہ کاروں کے لیے خرید و فروخت آسان، تیز اور زیادہ شفاف ہو جاتی ہے۔
سٹی گروپ کے مطابق، اگر موجودہ رفتار برقرار رہی تو یہ مارکیٹ کم از کم 5.5 ٹریلین ڈالر تک پہنچ سکتی ہے، جبکہ مضبوط اپنانے کی صورت میں 8 ٹریلین ڈالر سے بھی تجاوز کر سکتی ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق، اس وقت ٹوکنائزڈ اثاثوں کی مجموعی مالیت 43 ارب ڈالر سے زیادہ ہو چکی ہے۔ صرف گزشتہ چھ ماہ کے دوران اس شعبے میں تقریباً 37 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جو اس کی بڑھتی ہوئی مقبولیت کو ظاہر کرتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق، ٹوکنائزڈ فنڈز اس مارکیٹ کا سب سے بڑا حصہ ہیں اور مجموعی مارکیٹ ویلیو کا تقریباً 80 فیصد رکھتے ہیں۔ اس کے علاوہ کموڈیٹیز اور ٹوکنائزڈ اسٹاکس بھی تیزی سے توجہ حاصل کر رہے ہیں۔
بڑی مالیاتی کمپنیاں اور ادارے بھی بلاک چین ٹیکنالوجی کو اپنانے میں دلچسپی دکھا رہے ہیں۔ ماہرین کا خیال ہے کہ جیسے جیسے ریگولیٹری فریم ورک مزید واضح ہوگا، مزید بینک، ایکسچینجز اور سرمایہ کاری کے ادارے ٹوکنائزیشن کو اپنی خدمات کا حصہ بنائیں گے۔
کرپٹو مارکیٹ کے لیے یہ خبر خاص اہمیت رکھتی ہے کیونکہ حقیقی دنیا کے اثاثوں کے بلاک چین پر آنے سے لیکویڈیٹی میں اضافہ ہوگا، نئے سرمایہ کار شامل ہوں گے اور بلاک چین کا استعمال پہلے سے کہیں زیادہ وسیع ہو جائے گا۔
اگر سٹی گروپ کی یہ پیش گوئی درست ثابت ہوتی ہے تو آنے والے چند سال بلاک چین اور کرپٹو انڈسٹری کی تاریخ کے سب سے اہم سال ثابت ہو سکتے ہیں۔
#SICryptoNews $BTC
Artikel
بٹ کوائن کی ایکسچینج سپلائی 5 سال کی کم ترین سطح پر، کیا قیمت میں بڑا اضافہ آنے والا ہے؟کرپٹو مارکیٹ میں ایک بار پھر بٹ کوائن توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔ تازہ آن چین ڈیٹا کے مطابق ایکسچینجز پر موجود بٹ کوائن کی مقدار کم ہو کر تقریباً 2.56 ملین BTC رہ گئی ہے، جو 2020 کے بعد سب سے کم سطح سمجھی جا رہی ہے۔ یہ خبر اس لیے اہم ہے کیونکہ ایکسچینجز پر موجود بٹ کوائن کی مقدار اکثر مارکیٹ کے جذبات اور سرمایہ کاروں کے رویے کی عکاسی کرتی ہے۔ جب لوگ اپنے بٹ کوائن ایکسچینجز سے نکال کر ذاتی والٹس یا دیگر محفوظ پلیٹ فارمز پر منتقل کرتے ہیں تو عام طور پر یہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ وہ فوری فروخت کے بجائے طویل مدت کے لیے ہولڈ کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ بارہ ماہ کے دوران تقریباً 4 لاکھ 40 ہزار بٹ کوائن ایکسچینجز سے نکل چکے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ 2025 اور 2026 میں سپلائی میں آنے والی یہ کمی حالیہ برسوں کی تیز ترین کمیوں میں سے ایک ہے۔ کرپٹو کمیونٹی کے ایک بڑے حصے کا خیال ہے کہ یہ صورتحال بٹ کوائن کے لیے مثبت ثابت ہو سکتی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ جب ایکسچینجز پر فروخت کے لیے دستیاب بٹ کوائن کم ہو جاتے ہیں تو مارکیٹ میں سپلائی محدود ہو جاتی ہے۔ اگر اسی دوران طلب برقرار رہے یا بڑھ جائے تو قیمت اوپر جانے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔ تاہم اس کہانی کا دوسرا رخ بھی موجود ہے۔ کچھ تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ ضروری نہیں کہ تمام بٹ کوائن ذاتی والٹس میں منتقل ہو رہے ہوں۔ ممکن ہے ان میں سے بڑی مقدار ETFs، ادارہ جاتی والٹس یا OTC پلیٹ فارمز میں منتقل کی جا رہی ہو، جو روایتی ایکسچینج ڈیٹا میں نظر نہیں آتے۔ اسی دوران مائیکل سیلر کی کمپنی Strategy بھی مسلسل بٹ کوائن خرید رہی ہے۔ کمپنی نے حال ہی میں مزید 1,587 BTC خریدے ہیں، جس کے بعد اس کے مجموعی ذخائر 846,842 BTC تک پہنچ گئے ہیں۔ ادارہ جاتی سطح پر جاری یہ خریداری بھی مارکیٹ کے اعتماد کو مضبوط بنانے میں کردار ادا کر رہی ہے۔ مختصر طور پر دیکھا جائے تو ایکسچینجز پر بٹ کوائن کی کم ہوتی سپلائی اس بات کا اشارہ ہو سکتی ہے کہ سرمایہ کار طویل مدت کے لیے پرامید ہیں۔ اگر طلب مضبوط رہی تو آنے والے مہینوں میں بٹ کوائن کی قیمت پر اس کے مثبت اثرات دیکھنے کو مل سکتے ہیں۔ کرپٹو سرمایہ کاروں کی نظریں اب اس بات پر ہیں کہ آیا یہ سپلائی کی کمی بٹ کوائن کو نئی بلندیوں تک لے جا سکے گی یا نہیں #SICryptoNews #bitcoin

بٹ کوائن کی ایکسچینج سپلائی 5 سال کی کم ترین سطح پر، کیا قیمت میں بڑا اضافہ آنے والا ہے؟

کرپٹو مارکیٹ میں ایک بار پھر بٹ کوائن توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔ تازہ آن چین ڈیٹا کے مطابق ایکسچینجز پر موجود بٹ کوائن کی مقدار کم ہو کر تقریباً 2.56 ملین BTC رہ گئی ہے، جو 2020 کے بعد سب سے کم سطح سمجھی جا رہی ہے۔
یہ خبر اس لیے اہم ہے کیونکہ ایکسچینجز پر موجود بٹ کوائن کی مقدار اکثر مارکیٹ کے جذبات اور سرمایہ کاروں کے رویے کی عکاسی کرتی ہے۔ جب لوگ اپنے بٹ کوائن ایکسچینجز سے نکال کر ذاتی والٹس یا دیگر محفوظ پلیٹ فارمز پر منتقل کرتے ہیں تو عام طور پر یہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ وہ فوری فروخت کے بجائے طویل مدت کے لیے ہولڈ کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔
اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ بارہ ماہ کے دوران تقریباً 4 لاکھ 40 ہزار بٹ کوائن ایکسچینجز سے نکل چکے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ 2025 اور 2026 میں سپلائی میں آنے والی یہ کمی حالیہ برسوں کی تیز ترین کمیوں میں سے ایک ہے۔
کرپٹو کمیونٹی کے ایک بڑے حصے کا خیال ہے کہ یہ صورتحال بٹ کوائن کے لیے مثبت ثابت ہو سکتی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ جب ایکسچینجز پر فروخت کے لیے دستیاب بٹ کوائن کم ہو جاتے ہیں تو مارکیٹ میں سپلائی محدود ہو جاتی ہے۔ اگر اسی دوران طلب برقرار رہے یا بڑھ جائے تو قیمت اوپر جانے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔
تاہم اس کہانی کا دوسرا رخ بھی موجود ہے۔ کچھ تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ ضروری نہیں کہ تمام بٹ کوائن ذاتی والٹس میں منتقل ہو رہے ہوں۔ ممکن ہے ان میں سے بڑی مقدار ETFs، ادارہ جاتی والٹس یا OTC پلیٹ فارمز میں منتقل کی جا رہی ہو، جو روایتی ایکسچینج ڈیٹا میں نظر نہیں آتے۔
اسی دوران مائیکل سیلر کی کمپنی Strategy بھی مسلسل بٹ کوائن خرید رہی ہے۔ کمپنی نے حال ہی میں مزید 1,587 BTC خریدے ہیں، جس کے بعد اس کے مجموعی ذخائر 846,842 BTC تک پہنچ گئے ہیں۔ ادارہ جاتی سطح پر جاری یہ خریداری بھی مارکیٹ کے اعتماد کو مضبوط بنانے میں کردار ادا کر رہی ہے۔
مختصر طور پر دیکھا جائے تو ایکسچینجز پر بٹ کوائن کی کم ہوتی سپلائی اس بات کا اشارہ ہو سکتی ہے کہ سرمایہ کار طویل مدت کے لیے پرامید ہیں۔ اگر طلب مضبوط رہی تو آنے والے مہینوں میں بٹ کوائن کی قیمت پر اس کے مثبت اثرات دیکھنے کو مل سکتے ہیں۔
کرپٹو سرمایہ کاروں کی نظریں اب اس بات پر ہیں کہ آیا یہ سپلائی کی کمی بٹ کوائن کو نئی بلندیوں تک لے جا سکے گی یا نہیں
#SICryptoNews #bitcoin
Logga in för att utforska mer innehåll
Gå med globala kryptoanvändare på Binance Square.
⚡️ Få den senaste och användbara informationen om krypto.
💬 Betrodd av världens största kryptobörs.
👍 Upptäck verkliga insikter från verifierade skapare.
E-post/telefonnummer