Binance Square
#sicryptonews

sicryptonews

1,294 ogledov
70 razprav
SI Crypto News
·
--
Japan Pension Fund Plans Crypto Investment: A Positive Sign for the Industry A notable development has emerged from Japan's financial sector as a corporate pension fund announced plans to allocate part of its portfolio to cryptocurrency assets in fiscal year 2026. The National Business Corporate Pension Fund, based in Okayama City, manages retirement savings for around 1,200 small and medium-sized businesses. The fund oversees approximately 21.3 billion yen, equivalent to about $136 million in assets. #SICryptoNews #JapanCrypto $BTC {future}(BTCUSDT) $BNB {future}(BNBUSDT) $HYPE {future}(HYPEUSDT)
Japan Pension Fund Plans Crypto Investment: A Positive Sign for the Industry
A notable development has emerged from Japan's financial sector as a corporate pension fund announced plans to allocate part of its portfolio to cryptocurrency assets in fiscal year 2026.
The National Business Corporate Pension Fund, based in Okayama City, manages retirement savings for around 1,200 small and medium-sized businesses. The fund oversees approximately 21.3 billion yen, equivalent to about $136 million in assets.
#SICryptoNews #JapanCrypto $BTC
$BNB
$HYPE
Članek
جاپان کا پنشن فنڈ کرپٹو میں سرمایہ کاری کرے گا، کیا یہ کرپٹو کے لیے بڑا اشارہ ہے؟کرپٹو مارکیٹ کے لیے جاپان سے ایک اہم خبر سامنے آئی ہے۔ جاپان کے ایک کارپوریٹ پنشن فنڈ نے اعلان کیا ہے کہ وہ مالی سال 2026 میں اپنی مجموعی سرمایہ کاری کا تقریباً 1 فیصد حصہ کرپٹو اثاثوں میں مختص کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ یہ فنڈ اوکایاما سٹی میں قائم ہے اور تقریباً 1,200 چھوٹی اور درمیانی کمپنیوں کے ملازمین کی ریٹائرمنٹ بچتوں کا انتظام کرتا ہے۔ فنڈ کے زیر انتظام اثاثوں کی مالیت تقریباً 21.3 ارب ین یعنی 136 ملین ڈالر کے قریب ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اس فیصلے کا مقصد صرف زیادہ منافع حاصل کرنا نہیں بلکہ مختلف کرنسیوں میں سرمایہ کاری کے ذریعے رسک کو کم کرنا ہے۔ فنڈ کے مطابق وہ جاپانی ین پر انحصار کم کرنا چاہتا ہے اور اپنے پورٹ فولیو کو مزید متوازن بنانا چاہتا ہے۔ فنڈ کے سرمایہ کاری ڈائریکٹر کے مطابق اس فیصلے تک پہنچنے کے لیے تقریباً 6 سال تک تحقیق کی گئی۔ ان کا ماننا ہے کہ کرپٹو مارکیٹ پہلے کے مقابلے میں زیادہ مستحکم اور بالغ ہو چکی ہے، جس کی وجہ سے ادارہ جاتی سرمایہ کار اب اسے سنجیدگی سے دیکھ رہے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ 1 فیصد سرمایہ کاری ایک چھوٹا حصہ ہے، لیکن اس اقدام کی علامتی اہمیت بہت زیادہ ہے۔ جب پنشن فنڈز جیسے بڑے ادارے کرپٹو مارکیٹ میں داخل ہوتے ہیں تو اس سے مارکیٹ پر اعتماد بڑھتا ہے اور دیگر اداروں کو بھی سرمایہ کاری کی ترغیب مل سکتی ہے۔ دوسری جانب جاپان میں کرپٹو قوانین میں بھی تبدیلیاں زیر غور ہیں، جن سے مستقبل میں کرپٹو ETFs اور دیگر ریگولیٹڈ سرمایہ کاری مصنوعات کے لیے راستہ ہموار ہو سکتا ہے۔ مجموعی طور پر یہ خبر ظاہر کرتی ہے کہ جاپان کے ادارہ جاتی سرمایہ کار اب کرپٹو کو صرف ایک خطرناک اثاثہ نہیں بلکہ ایک طویل مدتی مالیاتی حکمت عملی کے حصے کے طور پر دیکھنا شروع کر رہے ہیں۔ #SICryptoNews #JapanCrypto $BTC {future}(BTCUSDT)

جاپان کا پنشن فنڈ کرپٹو میں سرمایہ کاری کرے گا، کیا یہ کرپٹو کے لیے بڑا اشارہ ہے؟

کرپٹو مارکیٹ کے لیے جاپان سے ایک اہم خبر سامنے آئی ہے۔ جاپان کے ایک کارپوریٹ پنشن فنڈ نے اعلان کیا ہے کہ وہ مالی سال 2026 میں اپنی مجموعی سرمایہ کاری کا تقریباً 1 فیصد حصہ کرپٹو اثاثوں میں مختص کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔
یہ فنڈ اوکایاما سٹی میں قائم ہے اور تقریباً 1,200 چھوٹی اور درمیانی کمپنیوں کے ملازمین کی ریٹائرمنٹ بچتوں کا انتظام کرتا ہے۔ فنڈ کے زیر انتظام اثاثوں کی مالیت تقریباً 21.3 ارب ین یعنی 136 ملین ڈالر کے قریب ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ اس فیصلے کا مقصد صرف زیادہ منافع حاصل کرنا نہیں بلکہ مختلف کرنسیوں میں سرمایہ کاری کے ذریعے رسک کو کم کرنا ہے۔ فنڈ کے مطابق وہ جاپانی ین پر انحصار کم کرنا چاہتا ہے اور اپنے پورٹ فولیو کو مزید متوازن بنانا چاہتا ہے۔
فنڈ کے سرمایہ کاری ڈائریکٹر کے مطابق اس فیصلے تک پہنچنے کے لیے تقریباً 6 سال تک تحقیق کی گئی۔ ان کا ماننا ہے کہ کرپٹو مارکیٹ پہلے کے مقابلے میں زیادہ مستحکم اور بالغ ہو چکی ہے، جس کی وجہ سے ادارہ جاتی سرمایہ کار اب اسے سنجیدگی سے دیکھ رہے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ 1 فیصد سرمایہ کاری ایک چھوٹا حصہ ہے، لیکن اس اقدام کی علامتی اہمیت بہت زیادہ ہے۔ جب پنشن فنڈز جیسے بڑے ادارے کرپٹو مارکیٹ میں داخل ہوتے ہیں تو اس سے مارکیٹ پر اعتماد بڑھتا ہے اور دیگر اداروں کو بھی سرمایہ کاری کی ترغیب مل سکتی ہے۔
دوسری جانب جاپان میں کرپٹو قوانین میں بھی تبدیلیاں زیر غور ہیں، جن سے مستقبل میں کرپٹو ETFs اور دیگر ریگولیٹڈ سرمایہ کاری مصنوعات کے لیے راستہ ہموار ہو سکتا ہے۔
مجموعی طور پر یہ خبر ظاہر کرتی ہے کہ جاپان کے ادارہ جاتی سرمایہ کار اب کرپٹو کو صرف ایک خطرناک اثاثہ نہیں بلکہ ایک طویل مدتی مالیاتی حکمت عملی کے حصے کے طور پر دیکھنا شروع کر رہے ہیں۔
#SICryptoNews #JapanCrypto $BTC
Članek
ایران نے آبنائے ہرمز دوبارہ بند کرنے کا اعلان کر دیا، عالمی منڈیوں میں تشویشمشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی ایک بار پھر بڑھتی دکھائی دے رہی ہے۔ ایران نے اعلان کیا ہے کہ وہ آبنائے ہرمز کو دوبارہ بند کر رہا ہے۔ یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب لبنان میں اسرائیلی حملوں اور حزب اللہ کے ساتھ جاری جھڑپوں نے خطے کی صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ ایران کا مؤقف ہے کہ لبنان میں اسرائیلی کارروائیاں امریکہ کے ساتھ ہونے والے جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی ہیں۔ اسی وجہ سے تہران نے اہم سمندری راستے آبنائے ہرمز کو بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ آبنائے ہرمز دنیا کے سب سے اہم تجارتی راستوں میں شمار ہوتی ہے۔ خلیجی ممالک سے نکلنے والا تیل اور گیس بڑی مقدار میں اسی راستے کے ذریعے عالمی منڈیوں تک پہنچتا ہے۔ اگر یہ راستہ طویل عرصے تک بند رہتا ہے تو عالمی توانائی مارکیٹ شدید دباؤ کا شکار ہو سکتی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس صورتحال کے نتیجے میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہو سکتا ہے، جس کا اثر دنیا بھر کی معیشتوں پر پڑے گا۔ دوسری جانب سرمایہ کاروں میں غیر یقینی صورتحال بڑھنے سے مالیاتی منڈیاں بھی متاثر ہو سکتی ہیں۔ کرپٹو مارکیٹ کے حوالے سے بھی خدشات ظاہر کیے جا رہے ہیں۔ عالمی سیاسی تنازعات اور جنگی حالات عموماً سرمایہ کاروں کے رویے کو متاثر کرتے ہیں۔ ایسی صورتحال میں بٹ کوائن اور دیگر کرپٹو کرنسیوں کی قیمتوں میں تیزی سے اتار چڑھاؤ دیکھنے کو مل سکتا ہے۔ ادھر امریکہ، ایران، لبنان اور اسرائیل کے درمیان سفارتی رابطے جاری ہیں، تاہم فی الحال کوئی مستقل حل سامنے نہیں آیا۔ دنیا بھر کے سرمایہ کار اور تجزیہ کار اس بحران پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں کیونکہ اس کے اثرات صرف مشرقِ وسطیٰ تک محدود نہیں رہ سکتے بلکہ عالمی معیشت اور مالیاتی منڈیوں کو بھی متاثر کر سکتے ہیں۔ آنے والے دنوں میں صورتحال کس سمت جاتی ہے، اس پر نہ صرف تیل بلکہ کرپٹو مارکیٹ کا مستقبل بھی کافی حد تک منحصر ہوگا۔ #SICryptoNews #bitcoin #iran

ایران نے آبنائے ہرمز دوبارہ بند کرنے کا اعلان کر دیا، عالمی منڈیوں میں تشویش

مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی ایک بار پھر بڑھتی دکھائی دے رہی ہے۔ ایران نے اعلان کیا ہے کہ وہ آبنائے ہرمز کو دوبارہ بند کر رہا ہے۔ یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب لبنان میں اسرائیلی حملوں اور حزب اللہ کے ساتھ جاری جھڑپوں نے خطے کی صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔
ایران کا مؤقف ہے کہ لبنان میں اسرائیلی کارروائیاں امریکہ کے ساتھ ہونے والے جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی ہیں۔ اسی وجہ سے تہران نے اہم سمندری راستے آبنائے ہرمز کو بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
آبنائے ہرمز دنیا کے سب سے اہم تجارتی راستوں میں شمار ہوتی ہے۔ خلیجی ممالک سے نکلنے والا تیل اور گیس بڑی مقدار میں اسی راستے کے ذریعے عالمی منڈیوں تک پہنچتا ہے۔ اگر یہ راستہ طویل عرصے تک بند رہتا ہے تو عالمی توانائی مارکیٹ شدید دباؤ کا شکار ہو سکتی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس صورتحال کے نتیجے میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہو سکتا ہے، جس کا اثر دنیا بھر کی معیشتوں پر پڑے گا۔ دوسری جانب سرمایہ کاروں میں غیر یقینی صورتحال بڑھنے سے مالیاتی منڈیاں بھی متاثر ہو سکتی ہیں۔
کرپٹو مارکیٹ کے حوالے سے بھی خدشات ظاہر کیے جا رہے ہیں۔ عالمی سیاسی تنازعات اور جنگی حالات عموماً سرمایہ کاروں کے رویے کو متاثر کرتے ہیں۔ ایسی صورتحال میں بٹ کوائن اور دیگر کرپٹو کرنسیوں کی قیمتوں میں تیزی سے اتار چڑھاؤ دیکھنے کو مل سکتا ہے۔
ادھر امریکہ، ایران، لبنان اور اسرائیل کے درمیان سفارتی رابطے جاری ہیں، تاہم فی الحال کوئی مستقل حل سامنے نہیں آیا۔ دنیا بھر کے سرمایہ کار اور تجزیہ کار اس بحران پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں کیونکہ اس کے اثرات صرف مشرقِ وسطیٰ تک محدود نہیں رہ سکتے بلکہ عالمی معیشت اور مالیاتی منڈیوں کو بھی متاثر کر سکتے ہیں۔
آنے والے دنوں میں صورتحال کس سمت جاتی ہے، اس پر نہ صرف تیل بلکہ کرپٹو مارکیٹ کا مستقبل بھی کافی حد تک منحصر ہوگا۔
#SICryptoNews #bitcoin #iran
CZ Suggests Freezing Satoshi’s Bitcoin: A New Debate for the Crypto World A new discussion is gaining attention across the cryptocurrency industry after Binance founder Changpeng Zhao (CZ) proposed a controversial idea regarding Bitcoin's future security. Speaking during a recent podcast appearance, CZ explained that while quantum computers are not currently a threat to Bitcoin, the industry should start thinking about how to prepare for that possibility in the future. If Bitcoin eventually transitions to quantum-resistant cryptography, he believes users should be given a limited period to move their coins to upgraded and secure addresses. #SICryptoNews #bitcoin $BTC #Satoshi {future}(BTCUSDT)
CZ Suggests Freezing Satoshi’s Bitcoin: A New Debate for the Crypto World
A new discussion is gaining attention across the cryptocurrency industry after Binance founder Changpeng Zhao (CZ) proposed a controversial idea regarding Bitcoin's future security.
Speaking during a recent podcast appearance, CZ explained that while quantum computers are not currently a threat to Bitcoin, the industry should start thinking about how to prepare for that possibility in the future. If Bitcoin eventually transitions to quantum-resistant cryptography, he believes users should be given a limited period to move their coins to upgraded and secure addresses.
#SICryptoNews #bitcoin $BTC #Satoshi
Članek
یورپی یونین کا بڑا فیصلہ: گمنام کرپٹو اکاؤنٹس پر پابندی اور 10 ہزار یورو کیش حد مقرر۔یورپی یونین نے منی لانڈرنگ اور غیر قانونی مالی سرگرمیوں کے خلاف ایک بڑا قدم اٹھاتے ہوئے نئے قوانین متعارف کرانے کا اعلان کیا ہے۔ یہ قوانین جولائی 2027 سے نافذ ہوں گے اور ان کا مقصد پورے یورپ میں مالیاتی لین دین کے لیے ایک مشترکہ نظام قائم کرنا ہے۔ نئے قوانین کے مطابق کاروباری ادارے 10 ہزار یورو سے زیادہ کیش ادائیگی قبول نہیں کر سکیں گے۔ اگر کوئی صارف 3 ہزار یورو یا اس سے زیادہ کیش ادائیگی کرتا ہے تو اس کی شناخت کی تصدیق کرنا لازمی ہوگی۔ یورپی حکام کا ماننا ہے کہ بڑی مقدار میں نقد رقم اکثر غیر قانونی سرگرمیوں کو چھپانے کے لیے استعمال کی جاتی ہے، اسی لیے اس شعبے میں سختی ضروری سمجھی گئی ہے۔ کرپٹو انڈسٹری بھی ان تبدیلیوں سے متاثر ہوگی۔ نئے قواعد کے تحت کرپٹو ایکسچینجز اور دیگر رجسٹرڈ کرپٹو سروس فراہم کرنے والوں کو 1 ہزار یورو یا اس سے زیادہ کی ٹرانزیکشنز پر سخت KYC یعنی شناختی جانچ پڑتال کرنی ہوگی۔ اس قانون کا سب سے زیادہ توجہ حاصل کرنے والا حصہ گمنام کرپٹو اکاؤنٹس اور پرائیویسی کوائنز سے متعلق ہے۔ یورپی یونین ریگولیٹڈ پلیٹ فارمز پر ایسے اکاؤنٹس اور سروسز کی اجازت نہیں دے گی جن میں صارف کی شناخت واضح نہ ہو۔ اسی طرح پرائیویسی کوائنز کی سپورٹ بھی محدود کی جائے گی۔ تاہم، ایک اہم بات یہ ہے کہ ذاتی یا سیلف کسٹڈی والٹس استعمال کرنے والے صارفین براہ راست والٹ ٹو والٹ ٹرانزیکشنز جاری رکھ سکیں گے۔ ان پر وہی پابندیاں لاگو نہیں ہوں گی جو ریگولیٹڈ ایکسچینجز پر نافذ کی جا رہی ہیں۔ ماہرین کے مطابق یہ قوانین ایک طرف کرپٹو مارکیٹ میں شفافیت اور اعتماد بڑھا سکتے ہیں، جبکہ دوسری جانب کچھ صارفین کے لیے رازداری کے حوالے سے خدشات بھی پیدا کر سکتے ہیں۔ آنے والے سالوں میں یہ دیکھا جائے گا کہ یہ تبدیلیاں یورپی کرپٹو مارکیٹ پر کس حد تک اثر انداز ہوتی ہیں۔ مختصراً، یورپی یونین کا یہ اقدام کرپٹو انڈسٹری کو مزید ریگولیٹڈ اور شفاف بنانے کی جانب ایک اہم قدم سمجھا جا رہا ہے۔ #SICryptoNews #bitcoin #Eu

یورپی یونین کا بڑا فیصلہ: گمنام کرپٹو اکاؤنٹس پر پابندی اور 10 ہزار یورو کیش حد مقرر

۔یورپی یونین نے منی لانڈرنگ اور غیر قانونی مالی سرگرمیوں کے خلاف ایک بڑا قدم اٹھاتے ہوئے نئے قوانین متعارف کرانے کا اعلان کیا ہے۔ یہ قوانین جولائی 2027 سے نافذ ہوں گے اور ان کا مقصد پورے یورپ میں مالیاتی لین دین کے لیے ایک مشترکہ نظام قائم کرنا ہے۔
نئے قوانین کے مطابق کاروباری ادارے 10 ہزار یورو سے زیادہ کیش ادائیگی قبول نہیں کر سکیں گے۔ اگر کوئی صارف 3 ہزار یورو یا اس سے زیادہ کیش ادائیگی کرتا ہے تو اس کی شناخت کی تصدیق کرنا لازمی ہوگی۔ یورپی حکام کا ماننا ہے کہ بڑی مقدار میں نقد رقم اکثر غیر قانونی سرگرمیوں کو چھپانے کے لیے استعمال کی جاتی ہے، اسی لیے اس شعبے میں سختی ضروری سمجھی گئی ہے۔
کرپٹو انڈسٹری بھی ان تبدیلیوں سے متاثر ہوگی۔ نئے قواعد کے تحت کرپٹو ایکسچینجز اور دیگر رجسٹرڈ کرپٹو سروس فراہم کرنے والوں کو 1 ہزار یورو یا اس سے زیادہ کی ٹرانزیکشنز پر سخت KYC یعنی شناختی جانچ پڑتال کرنی ہوگی۔
اس قانون کا سب سے زیادہ توجہ حاصل کرنے والا حصہ گمنام کرپٹو اکاؤنٹس اور پرائیویسی کوائنز سے متعلق ہے۔ یورپی یونین ریگولیٹڈ پلیٹ فارمز پر ایسے اکاؤنٹس اور سروسز کی اجازت نہیں دے گی جن میں صارف کی شناخت واضح نہ ہو۔ اسی طرح پرائیویسی کوائنز کی سپورٹ بھی محدود کی جائے گی۔
تاہم، ایک اہم بات یہ ہے کہ ذاتی یا سیلف کسٹڈی والٹس استعمال کرنے والے صارفین براہ راست والٹ ٹو والٹ ٹرانزیکشنز جاری رکھ سکیں گے۔ ان پر وہی پابندیاں لاگو نہیں ہوں گی جو ریگولیٹڈ ایکسچینجز پر نافذ کی جا رہی ہیں۔
ماہرین کے مطابق یہ قوانین ایک طرف کرپٹو مارکیٹ میں شفافیت اور اعتماد بڑھا سکتے ہیں، جبکہ دوسری جانب کچھ صارفین کے لیے رازداری کے حوالے سے خدشات بھی پیدا کر سکتے ہیں۔ آنے والے سالوں میں یہ دیکھا جائے گا کہ یہ تبدیلیاں یورپی کرپٹو مارکیٹ پر کس حد تک اثر انداز ہوتی ہیں۔
مختصراً، یورپی یونین کا یہ اقدام کرپٹو انڈسٹری کو مزید ریگولیٹڈ اور شفاف بنانے کی جانب ایک اہم قدم سمجھا جا رہا ہے۔
#SICryptoNews #bitcoin #Eu
Članek
کیا پاکستان میں Crypto Adoption بڑھنے والی ہے؟ Easypaisa اور Binance کی بڑی ڈیلپاکستان میں ڈیجیٹل مالیاتی خدمات تیزی سے ترقی کر رہی ہیں، اور اب ایک نئی پیش رفت نے اس شعبے کی توجہ اپنی جانب مبذول کر لی ہے۔ easypaisa Digital Bank نے دنیا کے معروف کرپٹو ایکسچینج اور بلاک چین پلیٹ فارم Binance کے ساتھ ایک مفاہمتی یادداشت (MoU) پر دستخط کیے ہیں، جس کا مقصد پاکستان میں جدید مالیاتی ٹیکنالوجیز کے امکانات کو تلاش کرنا ہے۔ اسلام آباد میں ہونے والی تقریب میں easypaisa کے صدر اور سی ای او جہانزیب خان اور Binance کے ریجنل ہیڈ طارق ارک نے اس معاہدے کو باضابطہ شکل دی۔ دونوں اداروں کی سینئر قیادت بھی اس موقع پر موجود تھی، جو اس شراکت داری کی اہمیت کو ظاہر کرتی ہے۔ اس تعاون کا بنیادی مقصد ایسے جدید مالیاتی حل متعارف کروانا ہے جو پاکستانی صارفین کی ضروریات کے مطابق ہوں۔ خاص طور پر ڈیجیٹل سیونگز، سرمایہ کاری کے مواقع اور بلاک چین پر مبنی خدمات کو فروغ دینا اس شراکت داری کے اہم اہداف میں شامل ہے۔ easypaisa پاکستان کے ڈیجیٹل ادائیگیوں کے شعبے میں ایک مضبوط مقام رکھتا ہے، جبکہ Binance عالمی سطح پر بلاک چین اور ڈیجیٹل اثاثوں کے میدان میں ایک نمایاں نام ہے۔ دونوں اداروں کی مہارت کا امتزاج پاکستان میں مالیاتی جدت اور ٹیکنالوجی کے فروغ میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ کرپٹو کمیونٹی کے لیے یہ خبر خاص اہمیت رکھتی ہے۔ اگر مستقبل میں اس تعاون کے نتیجے میں بلاک چین پر مبنی مالیاتی مصنوعات متعارف کرائی جاتی ہیں تو پاکستان میں کرپٹو اور ڈیجیٹل اثاثوں کے بارے میں آگاہی اور دلچسپی میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ اس سے نئی سرمایہ کاری اور کاروباری مواقع بھی پیدا ہونے کی توقع ہے۔ تاہم، دونوں اداروں نے واضح کیا ہے کہ اس مفاہمتی یادداشت کے تحت ہونے والی تمام سرگرمیاں پاکستان کے موجودہ قوانین اور ریگولیٹری منظوریوں کے مطابق ہوں گی۔ یہ شراکت داری اس بات کا اشارہ ہے کہ پاکستان کا مالیاتی شعبہ تیزی سے ڈیجیٹل تبدیلی کی جانب بڑھ رہا ہے۔ اگر یہ منصوبے کامیابی سے آگے بڑھتے ہیں تو آنے والے سالوں میں پاکستانی صارفین کو مزید جدید اور آسان مالیاتی سہولیات دستیاب ہو سکتی ہیں۔ #SICryptoNews #easypaisa #P2P

کیا پاکستان میں Crypto Adoption بڑھنے والی ہے؟ Easypaisa اور Binance کی بڑی ڈیل

پاکستان میں ڈیجیٹل مالیاتی خدمات تیزی سے ترقی کر رہی ہیں، اور اب ایک نئی پیش رفت نے اس شعبے کی توجہ اپنی جانب مبذول کر لی ہے۔ easypaisa Digital Bank نے دنیا کے معروف کرپٹو ایکسچینج اور بلاک چین پلیٹ فارم Binance کے ساتھ ایک مفاہمتی یادداشت (MoU) پر دستخط کیے ہیں، جس کا مقصد پاکستان میں جدید مالیاتی ٹیکنالوجیز کے امکانات کو تلاش کرنا ہے۔
اسلام آباد میں ہونے والی تقریب میں easypaisa کے صدر اور سی ای او جہانزیب خان اور Binance کے ریجنل ہیڈ طارق ارک نے اس معاہدے کو باضابطہ شکل دی۔ دونوں اداروں کی سینئر قیادت بھی اس موقع پر موجود تھی، جو اس شراکت داری کی اہمیت کو ظاہر کرتی ہے۔
اس تعاون کا بنیادی مقصد ایسے جدید مالیاتی حل متعارف کروانا ہے جو پاکستانی صارفین کی ضروریات کے مطابق ہوں۔ خاص طور پر ڈیجیٹل سیونگز، سرمایہ کاری کے مواقع اور بلاک چین پر مبنی خدمات کو فروغ دینا اس شراکت داری کے اہم اہداف میں شامل ہے۔
easypaisa پاکستان کے ڈیجیٹل ادائیگیوں کے شعبے میں ایک مضبوط مقام رکھتا ہے، جبکہ Binance عالمی سطح پر بلاک چین اور ڈیجیٹل اثاثوں کے میدان میں ایک نمایاں نام ہے۔ دونوں اداروں کی مہارت کا امتزاج پاکستان میں مالیاتی جدت اور ٹیکنالوجی کے فروغ میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔
کرپٹو کمیونٹی کے لیے یہ خبر خاص اہمیت رکھتی ہے۔ اگر مستقبل میں اس تعاون کے نتیجے میں بلاک چین پر مبنی مالیاتی مصنوعات متعارف کرائی جاتی ہیں تو پاکستان میں کرپٹو اور ڈیجیٹل اثاثوں کے بارے میں آگاہی اور دلچسپی میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ اس سے نئی سرمایہ کاری اور کاروباری مواقع بھی پیدا ہونے کی توقع ہے۔
تاہم، دونوں اداروں نے واضح کیا ہے کہ اس مفاہمتی یادداشت کے تحت ہونے والی تمام سرگرمیاں پاکستان کے موجودہ قوانین اور ریگولیٹری منظوریوں کے مطابق ہوں گی۔
یہ شراکت داری اس بات کا اشارہ ہے کہ پاکستان کا مالیاتی شعبہ تیزی سے ڈیجیٹل تبدیلی کی جانب بڑھ رہا ہے۔ اگر یہ منصوبے کامیابی سے آگے بڑھتے ہیں تو آنے والے سالوں میں پاکستانی صارفین کو مزید جدید اور آسان مالیاتی سہولیات دستیاب ہو سکتی ہیں۔
#SICryptoNews #easypaisa #P2P
Ethereum Funding Warning Sparks Debate Over Long-Term Sustainability Ethereum, the world's second-largest cryptocurrency network, is facing fresh concerns about how its core development work will be funded in the future. Former Ethereum Foundation contributor Trent Van Epps recently warned that Ethereum could face a development funding gap within the next three to nine months. According to him, the network's core ecosystem requires roughly $30 million annually to support developers, researchers, and coordination teams responsible for maintaining and upgrading Ethereum. #SICryptoNews #Ethereum $ETH {future}(ETHUSDT)
Ethereum Funding Warning Sparks Debate Over Long-Term Sustainability

Ethereum, the world's second-largest cryptocurrency network, is facing fresh concerns about how its core development work will be funded in the future.

Former Ethereum Foundation contributor Trent Van Epps recently warned that Ethereum could face a development funding gap within the next three to nine months. According to him, the network's core ecosystem requires roughly $30 million annually to support developers, researchers, and coordination teams responsible for maintaining and upgrading Ethereum.
#SICryptoNews #Ethereum $ETH
Članek
ایتھیریم کی فنڈنگ سے متعلق انتباہ نے نیٹ ورک کے مستقبل پر سوالات کھڑے کر دیےدنیا کی دوسری بڑی کرپٹو کرنسی ایتھیریم ایک نئی بحث کا مرکز بن گئی ہے۔ سابق Ethereum Foundation کنٹریبیوٹر ٹرینٹ وین ایپس نے خبردار کیا ہے کہ اگر موجودہ صورتحال برقرار رہی تو ایتھیریم کے بنیادی ڈویلپمنٹ سسٹم کو آئندہ چند ماہ میں فنڈنگ کے بحران کا سامنا ہو سکتا ہے۔ ان کے مطابق ایتھیریم کے نیٹ ورک کو محفوظ، مستحکم اور مسلسل اپ گریڈ رکھنے کے لیے ہر سال تقریباً 30 ملین ڈالر درکار ہوتے ہیں۔ یہ رقم ان ڈویلپرز، ریسرچرز اور ٹیموں کی مدد کے لیے استعمال ہوتی ہے جو ایتھیریم کی بنیادی ٹیکنالوجی پر کام کرتے ہیں۔ مسئلہ اس وقت پیدا ہوا جب Ethereum Foundation نے اپنے اخراجات کم کرنے کی پالیسی اپنائی اور ساتھ ہی Client Incentive Program بھی ختم ہو گیا۔ یہ پروگرام 2021 میں شروع کیا گیا تھا تاکہ ایتھیریم کے مختلف کلائنٹ سافٹ ویئر پر کام کرنے والی ٹیموں کو مالی مدد فراہم کی جا سکے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ اگر مستقل فنڈنگ کا کوئی متبادل انتظام نہ کیا گیا تو کئی تجربہ کار ڈویلپرز دوسرے منصوبوں کا رخ کر سکتے ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ نکل سکتا ہے کہ ایتھیریم کی نئی اپ گریڈز، اسکیلنگ منصوبے اور سیکیورٹی ریسرچ کی رفتار متاثر ہو جائے۔ اگرچہ اس خبر کا مطلب یہ نہیں کہ ایتھیریم فوری طور پر کسی تکنیکی خطرے میں ہے، لیکن یہ ضرور ظاہر کرتا ہے کہ نیٹ ورک کے طویل المدتی مستقبل کے لیے مضبوط اور پائیدار فنڈنگ ماڈل کی ضرورت ہے۔ کرپٹو سرمایہ کاروں کے لیے یہ صورتحال اہم ہے کیونکہ اگر ترقیاتی کام سست پڑ گئے تو مارکیٹ کا اعتماد متاثر ہو سکتا ہے، جس کا اثر ETH کی قیمت پر بھی پڑ سکتا ہے۔ فی الحال ایتھیریم کی کمیونٹی، Protocol Guild اور دیگر ادارے ایسے حل تلاش کر رہے ہیں جو نیٹ ورک کی ترقی کو مستقبل میں بھی جاری رکھ سکیں۔ آنے والے مہینے اس حوالے سے بہت اہم ثابت ہو سکتے ہیں۔ #SICryptoNews #Ethereum

ایتھیریم کی فنڈنگ سے متعلق انتباہ نے نیٹ ورک کے مستقبل پر سوالات کھڑے کر دیے

دنیا کی دوسری بڑی کرپٹو کرنسی ایتھیریم ایک نئی بحث کا مرکز بن گئی ہے۔ سابق Ethereum Foundation کنٹریبیوٹر ٹرینٹ وین ایپس نے خبردار کیا ہے کہ اگر موجودہ صورتحال برقرار رہی تو ایتھیریم کے بنیادی ڈویلپمنٹ سسٹم کو آئندہ چند ماہ میں فنڈنگ کے بحران کا سامنا ہو سکتا ہے۔
ان کے مطابق ایتھیریم کے نیٹ ورک کو محفوظ، مستحکم اور مسلسل اپ گریڈ رکھنے کے لیے ہر سال تقریباً 30 ملین ڈالر درکار ہوتے ہیں۔ یہ رقم ان ڈویلپرز، ریسرچرز اور ٹیموں کی مدد کے لیے استعمال ہوتی ہے جو ایتھیریم کی بنیادی ٹیکنالوجی پر کام کرتے ہیں۔
مسئلہ اس وقت پیدا ہوا جب Ethereum Foundation نے اپنے اخراجات کم کرنے کی پالیسی اپنائی اور ساتھ ہی Client Incentive Program بھی ختم ہو گیا۔ یہ پروگرام 2021 میں شروع کیا گیا تھا تاکہ ایتھیریم کے مختلف کلائنٹ سافٹ ویئر پر کام کرنے والی ٹیموں کو مالی مدد فراہم کی جا سکے۔
ماہرین کا خیال ہے کہ اگر مستقل فنڈنگ کا کوئی متبادل انتظام نہ کیا گیا تو کئی تجربہ کار ڈویلپرز دوسرے منصوبوں کا رخ کر سکتے ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ نکل سکتا ہے کہ ایتھیریم کی نئی اپ گریڈز، اسکیلنگ منصوبے اور سیکیورٹی ریسرچ کی رفتار متاثر ہو جائے۔
اگرچہ اس خبر کا مطلب یہ نہیں کہ ایتھیریم فوری طور پر کسی تکنیکی خطرے میں ہے، لیکن یہ ضرور ظاہر کرتا ہے کہ نیٹ ورک کے طویل المدتی مستقبل کے لیے مضبوط اور پائیدار فنڈنگ ماڈل کی ضرورت ہے۔
کرپٹو سرمایہ کاروں کے لیے یہ صورتحال اہم ہے کیونکہ اگر ترقیاتی کام سست پڑ گئے تو مارکیٹ کا اعتماد متاثر ہو سکتا ہے، جس کا اثر ETH کی قیمت پر بھی پڑ سکتا ہے۔
فی الحال ایتھیریم کی کمیونٹی، Protocol Guild اور دیگر ادارے ایسے حل تلاش کر رہے ہیں جو نیٹ ورک کی ترقی کو مستقبل میں بھی جاری رکھ سکیں۔ آنے والے مہینے اس حوالے سے بہت اہم ثابت ہو سکتے ہیں۔
#SICryptoNews #Ethereum
Bitcoin Slips as Federal Reserve Signals Possible Rate Hikes The latest Federal Reserve meeting delivered a message that many investors were not expecting. While the central bank left interest rates unchanged, officials signaled that rate hikes could still be on the table if inflation remains stubbornly high. The meeting was particularly important because it was the first one led by new Fed Chair Kevin Warsh. His comments and the updated projections suggested a more cautious and hawkish approach than markets had anticipated. #SICryptoNews #FedHoldsRatesHawkishDotPlot $BTC {future}(BTCUSDT) $SPCXB {spot}(SPCXBUSDT)
Bitcoin Slips as Federal Reserve Signals Possible Rate Hikes
The latest Federal Reserve meeting delivered a message that many investors were not expecting. While the central bank left interest rates unchanged, officials signaled that rate hikes could still be on the table if inflation remains stubbornly high.
The meeting was particularly important because it was the first one led by new Fed Chair Kevin Warsh. His comments and the updated projections suggested a more cautious and hawkish approach than markets had anticipated.
#SICryptoNews #FedHoldsRatesHawkishDotPlot $BTC
$SPCXB
Bitcoin Exchange Supply Falls to a 5-Year Low: Is a Major Price Move Ahead? Bitcoin is once again making headlines as new on-chain data shows that the amount of BTC held on cryptocurrency exchanges has dropped to around 2.56 million BTC, the lowest sustained level since 2020. This development has caught the attention of investors because exchange balances often provide insight into market behavior. When Bitcoin is withdrawn from exchanges, it usually suggests that holders are moving their assets into private wallets or long-term storage rather than preparing to sell. #SICryptoNews #BTC $BTC {future}(BTCUSDT)
Bitcoin Exchange Supply Falls to a 5-Year Low: Is a Major Price Move Ahead?
Bitcoin is once again making headlines as new on-chain data shows that the amount of BTC held on cryptocurrency exchanges has dropped to around 2.56 million BTC, the lowest sustained level since 2020.
This development has caught the attention of investors because exchange balances often provide insight into market behavior. When Bitcoin is withdrawn from exchanges, it usually suggests that holders are moving their assets into private wallets or long-term storage rather than preparing to sell.
#SICryptoNews #BTC $BTC
Bank of Japan Raises Interest Rates to 1%: What It Means for Crypto Markets The Bank of Japan (BOJ) has raised its benchmark interest rate to 1%, marking the highest level since 1995. The move comes as Japan continues to deal with a weak yen and growing concerns about inflation. The decision was widely expected by economists, but it still represents a significant step in the BOJ’s ongoing effort to normalize monetary policy after years of extremely low interest rates. According to the central bank, rising energy costs and inflation pressures have increased the need for tighter monetary policy. By raising rates, the BOJ hopes to support the Japanese yen and keep inflation under control. #SICryptoNews #BOJRaisesRateTo1% $BTC {future}(BTCUSDT)
Bank of Japan Raises Interest Rates to 1%: What It Means for Crypto Markets
The Bank of Japan (BOJ) has raised its benchmark interest rate to 1%, marking the highest level since 1995. The move comes as Japan continues to deal with a weak yen and growing concerns about inflation.
The decision was widely expected by economists, but it still represents a significant step in the BOJ’s ongoing effort to normalize monetary policy after years of extremely low interest rates.
According to the central bank, rising energy costs and inflation pressures have increased the need for tighter monetary policy. By raising rates, the BOJ hopes to support the Japanese yen and keep inflation under control.
#SICryptoNews #BOJRaisesRateTo1% $BTC
Članek
بینک آف جاپان نے شرح سود 1 فیصد کر دی، کرپٹو مارکیٹ پر کیا اثر پڑ سکتا ہے؟جاپان کے مرکزی بینک، بینک آف جاپان (BOJ)، نے اپنی پالیسی شرح سود بڑھا کر 1 فیصد کر دی ہے، جو 1995 کے بعد بلند ترین سطح ہے۔ یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب جاپان بڑھتی ہوئی مہنگائی اور کمزور جاپانی ین کے مسائل کا سامنا کر رہا ہے۔ مرکزی بینک کا کہنا ہے کہ توانائی کی قیمتوں میں اضافے اور عالمی معاشی دباؤ کے باعث مہنگائی کے خدشات بڑھ رہے ہیں۔ اسی وجہ سے شرح سود میں اضافہ کیا گیا تاکہ قیمتوں میں استحکام لایا جا سکے اور کرنسی کو سہارا دیا جا سکے۔ فیصلے کے بعد جاپانی ین میں معمولی مضبوطی دیکھی گئی جبکہ جاپان کے اسٹاک انڈیکس نکی 225 میں بھی اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مارکیٹ نے اس اقدام کو بڑی حد تک پہلے ہی قیمتوں میں شامل کر لیا تھا۔ کرپٹو سرمایہ کاروں کے لیے یہ خبر کیوں اہم ہے؟ عام طور پر جب کسی بڑی معیشت میں شرح سود بڑھتی ہے تو سرمایہ کار نسبتاً محفوظ سرمایہ کاری کی طرف مائل ہوتے ہیں۔ ایسے ماحول میں بٹ کوائن اور دیگر کرپٹو اثاثوں میں سرمایہ کاری کا رجحان وقتی طور پر کم ہو سکتا ہے۔ شرح سود میں اضافے کا مطلب یہ بھی ہے کہ مارکیٹ میں سستی لیکویڈیٹی کم ہو جاتی ہے، جس کے نتیجے میں رسک والے اثاثوں پر دباؤ بڑھ سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کچھ ماہرین مختصر مدت میں کرپٹو مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ کی توقع کر رہے ہیں۔ تاہم، یہ ضروری نہیں کہ اس خبر کا اثر طویل عرصے تک برقرار رہے۔ اگر عالمی معاشی حالات بہتر رہتے ہیں اور سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال رہتا ہے تو کرپٹو مارکیٹ دوبارہ مضبوطی دکھا سکتی ہے۔ مختصراً، بینک آف جاپان کا شرح سود 1 فیصد تک بڑھانا عالمی مالیاتی منڈیوں کے لیے ایک اہم پیش رفت ہے۔ اس کا کرپٹو مارکیٹ پر قلیل مدتی دباؤ پڑ سکتا ہے، لیکن طویل مدتی سمت کا انحصار عالمی معاشی حالات اور سرمایہ کاروں کے رویے پر ہوگا۔ #SICryptoNews #BOJRaisesRateTo1% #bitcoin

بینک آف جاپان نے شرح سود 1 فیصد کر دی، کرپٹو مارکیٹ پر کیا اثر پڑ سکتا ہے؟

جاپان کے مرکزی بینک، بینک آف جاپان (BOJ)، نے اپنی پالیسی شرح سود بڑھا کر 1 فیصد کر دی ہے، جو 1995 کے بعد بلند ترین سطح ہے۔ یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب جاپان بڑھتی ہوئی مہنگائی اور کمزور جاپانی ین کے مسائل کا سامنا کر رہا ہے۔
مرکزی بینک کا کہنا ہے کہ توانائی کی قیمتوں میں اضافے اور عالمی معاشی دباؤ کے باعث مہنگائی کے خدشات بڑھ رہے ہیں۔ اسی وجہ سے شرح سود میں اضافہ کیا گیا تاکہ قیمتوں میں استحکام لایا جا سکے اور کرنسی کو سہارا دیا جا سکے۔
فیصلے کے بعد جاپانی ین میں معمولی مضبوطی دیکھی گئی جبکہ جاپان کے اسٹاک انڈیکس نکی 225 میں بھی اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مارکیٹ نے اس اقدام کو بڑی حد تک پہلے ہی قیمتوں میں شامل کر لیا تھا۔
کرپٹو سرمایہ کاروں کے لیے یہ خبر کیوں اہم ہے؟
عام طور پر جب کسی بڑی معیشت میں شرح سود بڑھتی ہے تو سرمایہ کار نسبتاً محفوظ سرمایہ کاری کی طرف مائل ہوتے ہیں۔ ایسے ماحول میں بٹ کوائن اور دیگر کرپٹو اثاثوں میں سرمایہ کاری کا رجحان وقتی طور پر کم ہو سکتا ہے۔
شرح سود میں اضافے کا مطلب یہ بھی ہے کہ مارکیٹ میں سستی لیکویڈیٹی کم ہو جاتی ہے، جس کے نتیجے میں رسک والے اثاثوں پر دباؤ بڑھ سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کچھ ماہرین مختصر مدت میں کرپٹو مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ کی توقع کر رہے ہیں۔
تاہم، یہ ضروری نہیں کہ اس خبر کا اثر طویل عرصے تک برقرار رہے۔ اگر عالمی معاشی حالات بہتر رہتے ہیں اور سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال رہتا ہے تو کرپٹو مارکیٹ دوبارہ مضبوطی دکھا سکتی ہے۔
مختصراً، بینک آف جاپان کا شرح سود 1 فیصد تک بڑھانا عالمی مالیاتی منڈیوں کے لیے ایک اہم پیش رفت ہے۔ اس کا کرپٹو مارکیٹ پر قلیل مدتی دباؤ پڑ سکتا ہے، لیکن طویل مدتی سمت کا انحصار عالمی معاشی حالات اور سرمایہ کاروں کے رویے پر ہوگا۔
#SICryptoNews #BOJRaisesRateTo1% #bitcoin
Članek
مائیکل سیلر کی بڑی پیش گوئی: کیا بٹ کوائن 70 ہزار ڈالر سے 70 لاکھ ڈالر تک جا سکتا ہے؟کرپٹو دنیا میں ایک بار پھر مائیکل سیلر کی جانب سے ایک جرات مندانہ پیش گوئی نے سرمایہ کاروں کی توجہ اپنی جانب مبذول کر لی ہے۔ BTC Prague 2026 میں خطاب کرتے ہوئے سیلر نے کہا کہ بٹ کوائن کی قیمت مستقبل میں 70 ہزار ڈالر سے بڑھ کر 70 لاکھ ڈالر فی کوائن تک پہنچ سکتی ہے۔ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب بٹ کوائن دوبارہ 66 ہزار ڈالر سے اوپر ٹریڈ کر رہا ہے اور مارکیٹ میں مثبت جذبات دیکھنے کو مل رہے ہیں۔ مائیکل سیلر ایسا کیوں سوچتے ہیں؟ سیلر کے مطابق بٹ کوائن ابھی بھی عالمی دولت کا بہت چھوٹا حصہ رکھتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ دنیا بھر میں تقریباً 1000 ٹریلین ڈالر کا سرمایہ موجود ہے جبکہ بٹ کوائن کا حصہ صرف تقریباً 1 ٹریلین ڈالر ہے۔ ان کے خیال میں اگر بینک، پنشن فنڈز، ویلتھ مینیجرز اور انشورنس کمپنیاں بڑے پیمانے پر بٹ کوائن میں سرمایہ کاری شروع کر دیں تو بٹ کوائن کی مارکیٹ ویلیو کئی گنا بڑھ سکتی ہے۔ انہوں نے اپنی تقریر میں کہا کہ بٹ کوائن کا نیٹ ورک مستقبل میں 100 ٹریلین ڈالر تک پہنچ سکتا ہے، جس کے نتیجے میں قیمت لاکھوں ڈالر فی کوائن تک جا سکتی ہے۔ ادارہ جاتی سرمایہ کاری میں اضافہ مائیکل سیلر کی کمپنی Strategy نے حال ہی میں مزید 100 ملین ڈالر مالیت کا بٹ کوائن خریدا ہے۔ اس اقدام کو اس بات کی علامت سمجھا جا رہا ہے کہ بڑی کمپنیاں اور ادارے اب بھی بٹ کوائن پر بھرپور اعتماد رکھتے ہیں۔ گزشتہ چند برسوں میں بٹ کوائن ETFs، بٹ کوائن سے منسلک مالیاتی مصنوعات اور ادارہ جاتی سرمایہ کاری میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے، جس نے مارکیٹ کو مزید مضبوط بنایا ہے۔ کرپٹو مارکیٹ پر ممکنہ اثرات اگر ادارہ جاتی سرمایہ کاری کا رجحان جاری رہتا ہے تو بٹ کوائن کی طلب میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ اس کے نتیجے میں نہ صرف بٹ کوائن بلکہ دیگر بڑی کرپٹو کرنسیاں بھی فائدہ اٹھا سکتی ہیں۔ تاہم سرمایہ کاروں کو یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ یہ ایک طویل مدتی پیش گوئی ہے، نہ کہ فوری قیمت کا ہدف۔ کرپٹو مارکیٹ ہمیشہ اتار چڑھاؤ کا شکار رہتی ہے اور کسی بھی سرمایہ کاری سے پہلے اپنی تحقیق کرنا ضروری ہے۔ نتیجہ مائیکل سیلر کی 70 لاکھ ڈالر فی بٹ کوائن والی پیش گوئی نے ایک بار پھر کرپٹو کمیونٹی میں بحث چھیڑ دی ہے۔ اگرچہ یہ ہدف بہت بڑا لگتا ہے، لیکن سیلر کا ماننا ہے کہ عالمی سرمایہ کا ایک بڑا حصہ ابھی تک بٹ کوائن میں داخل نہیں ہوا۔ اگر مستقبل میں ادارہ جاتی اپنانے کی رفتار بڑھتی ہے تو بٹ کوائن کی ترقی کا سفر ابھی بہت طویل ہو سکتا ہے۔ #SICryptoNews #Bitcoin❗ #btc

مائیکل سیلر کی بڑی پیش گوئی: کیا بٹ کوائن 70 ہزار ڈالر سے 70 لاکھ ڈالر تک جا سکتا ہے؟

کرپٹو دنیا میں ایک بار پھر مائیکل سیلر کی جانب سے ایک جرات مندانہ پیش گوئی نے سرمایہ کاروں کی توجہ اپنی جانب مبذول کر لی ہے۔ BTC Prague 2026 میں خطاب کرتے ہوئے سیلر نے کہا کہ بٹ کوائن کی قیمت مستقبل میں 70 ہزار ڈالر سے بڑھ کر 70 لاکھ ڈالر فی کوائن تک پہنچ سکتی ہے۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب بٹ کوائن دوبارہ 66 ہزار ڈالر سے اوپر ٹریڈ کر رہا ہے اور مارکیٹ میں مثبت جذبات دیکھنے کو مل رہے ہیں۔
مائیکل سیلر ایسا کیوں سوچتے ہیں؟
سیلر کے مطابق بٹ کوائن ابھی بھی عالمی دولت کا بہت چھوٹا حصہ رکھتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ دنیا بھر میں تقریباً 1000 ٹریلین ڈالر کا سرمایہ موجود ہے جبکہ بٹ کوائن کا حصہ صرف تقریباً 1 ٹریلین ڈالر ہے۔
ان کے خیال میں اگر بینک، پنشن فنڈز، ویلتھ مینیجرز اور انشورنس کمپنیاں بڑے پیمانے پر بٹ کوائن میں سرمایہ کاری شروع کر دیں تو بٹ کوائن کی مارکیٹ ویلیو کئی گنا بڑھ سکتی ہے۔
انہوں نے اپنی تقریر میں کہا کہ بٹ کوائن کا نیٹ ورک مستقبل میں 100 ٹریلین ڈالر تک پہنچ سکتا ہے، جس کے نتیجے میں قیمت لاکھوں ڈالر فی کوائن تک جا سکتی ہے۔
ادارہ جاتی سرمایہ کاری میں اضافہ
مائیکل سیلر کی کمپنی Strategy نے حال ہی میں مزید 100 ملین ڈالر مالیت کا بٹ کوائن خریدا ہے۔ اس اقدام کو اس بات کی علامت سمجھا جا رہا ہے کہ بڑی کمپنیاں اور ادارے اب بھی بٹ کوائن پر بھرپور اعتماد رکھتے ہیں۔
گزشتہ چند برسوں میں بٹ کوائن ETFs، بٹ کوائن سے منسلک مالیاتی مصنوعات اور ادارہ جاتی سرمایہ کاری میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے، جس نے مارکیٹ کو مزید مضبوط بنایا ہے۔
کرپٹو مارکیٹ پر ممکنہ اثرات
اگر ادارہ جاتی سرمایہ کاری کا رجحان جاری رہتا ہے تو بٹ کوائن کی طلب میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ اس کے نتیجے میں نہ صرف بٹ کوائن بلکہ دیگر بڑی کرپٹو کرنسیاں بھی فائدہ اٹھا سکتی ہیں۔
تاہم سرمایہ کاروں کو یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ یہ ایک طویل مدتی پیش گوئی ہے، نہ کہ فوری قیمت کا ہدف۔ کرپٹو مارکیٹ ہمیشہ اتار چڑھاؤ کا شکار رہتی ہے اور کسی بھی سرمایہ کاری سے پہلے اپنی تحقیق کرنا ضروری ہے۔
نتیجہ
مائیکل سیلر کی 70 لاکھ ڈالر فی بٹ کوائن والی پیش گوئی نے ایک بار پھر کرپٹو کمیونٹی میں بحث چھیڑ دی ہے۔ اگرچہ یہ ہدف بہت بڑا لگتا ہے، لیکن سیلر کا ماننا ہے کہ عالمی سرمایہ کا ایک بڑا حصہ ابھی تک بٹ کوائن میں داخل نہیں ہوا۔ اگر مستقبل میں ادارہ جاتی اپنانے کی رفتار بڑھتی ہے تو بٹ کوائن کی ترقی کا سفر ابھی بہت طویل ہو سکتا ہے۔
#SICryptoNews #Bitcoin❗ #btc
Solana Institute Warns Senate Against Weakening the CLARITY Act The debate over crypto regulation in the United States continues to intensify as the Solana Institute urges lawmakers to preserve key protections included in the CLARITY Act. Kristin Smith, President of the Solana Institute, recently emphasized that blockchain developers, validators, and node operators who do not hold customer funds should not be treated as money transmitters under U.S. law. According to Smith, these participants provide software and network infrastructure rather than directly managing user assets. #SICryptoNews #solana $BTC {future}(BTCUSDT) $SOL {future}(SOLUSDT) $BNB {future}(BNBUSDT)
Solana Institute Warns Senate Against Weakening the CLARITY Act
The debate over crypto regulation in the United States continues to intensify as the Solana Institute urges lawmakers to preserve key protections included in the CLARITY Act.
Kristin Smith, President of the Solana Institute, recently emphasized that blockchain developers, validators, and node operators who do not hold customer funds should not be treated as money transmitters under U.S. law. According to Smith, these participants provide software and network infrastructure rather than directly managing user assets.
#SICryptoNews #solana $BTC
$SOL
$BNB
Članek
سولانا انسٹیٹیوٹ نے امریکی سینیٹ کو CLARITY Act کمزور نہ کرنے کی وارننگ دے دیکرپٹو انڈسٹری میں ریگولیشن کے حوالے سے ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ سولانا انسٹیٹیوٹ نے امریکی سینیٹ پر زور دیا ہے کہ وہ CLARITY Act میں شامل اہم قانونی تحفظات کو برقرار رکھے اور ان میں کسی قسم کی کمزوری نہ آنے دے۔ سولانا انسٹیٹیوٹ کی صدر کرسٹن اسمتھ کے مطابق، بلاک چین ڈویلپرز، ویلیڈیٹرز اور نوڈ آپریٹرز جو صارفین کے فنڈز کو اپنی تحویل میں نہیں رکھتے، انہیں منی ٹرانسمیٹرز کے طور پر درجہ بند نہیں کیا جانا چاہیے۔ ان کا کہنا ہے کہ ایسے افراد اور ادارے بنیادی طور پر نیٹ ورک اور سافٹ ویئر انفراسٹرکچر فراہم کرتے ہیں، نہ کہ صارفین کے اثاثوں کا براہ راست انتظام۔ اسمتھ نے مزید کہا کہ اگر CLARITY Act میں موجود Blockchain Regulatory Certainty Act (BRCA) کی شقیں برقرار رہتی ہیں تو اس سے اوپن سورس ڈویلپرز اور بلاک چین نیٹ ورکس کو قانونی وضاحت ملے گی۔ اس کے نتیجے میں امریکہ میں جدت اور ترقی کے لیے بہتر ماحول پیدا ہو سکتا ہے۔ دوسری جانب، قانون سازی کے عمل میں مختلف رکاوٹیں اب بھی موجود ہیں۔ امریکی سینیٹ میں بل کے مختلف حصوں پر بحث جاری ہے، جبکہ کچھ قانون ساز اس میں مزید تبدیلیاں بھی چاہتے ہیں۔ انہی وجوہات کی بنا پر بل کی منظوری کا متوقع وقت جولائی سے بڑھ کر اگست تک پہنچ گیا ہے۔ CLARITY Act کا مقصد کرپٹو مارکیٹ کے لیے واضح قواعد متعین کرنا ہے۔ اگر یہ قانون منظور ہو جاتا ہے تو بٹ کوائن اور ایتھیریم جیسی ڈی سینٹرلائزڈ کرپٹو کرنسیز کے لیے ریگولیٹری فریم ورک مزید واضح ہو جائے گا، جس سے سرمایہ کاروں اور کمپنیوں دونوں کو فائدہ پہنچ سکتا ہے۔ کرپٹو مارکیٹ کے نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو یہ خبر مثبت سمجھی جا رہی ہے۔ اگر BRCA کے تحفظات برقرار رہتے ہیں تو سولانا سمیت متعدد بلاک چین نیٹ ورکس کے لیے امریکہ میں کام کرنا آسان ہو سکتا ہے۔ اس سے نئی سرمایہ کاری، جدت اور ترقی کے مواقع پیدا ہونے کی توقع ہے۔ بہت سے ماہرین کا خیال ہے کہ واضح اور متوازن قوانین ہی امریکہ کو عالمی کرپٹو مقابلے میں مضبوط پوزیشن دلا سکتے ہیں، خاص طور پر ایسے وقت میں جب سنگاپور اور ابو ظہبی جیسے خطے بلاک چین کمپنیوں کو اپنی جانب متوجہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اب سب کی نظریں امریکی سینیٹ پر ہیں، جہاں آنے والے ہفتوں میں CLARITY Act کے مستقبل کا فیصلہ ہو سکتا ہے۔ #SICryptoNews #solana $BTC {future}(BTCUSDT)

سولانا انسٹیٹیوٹ نے امریکی سینیٹ کو CLARITY Act کمزور نہ کرنے کی وارننگ دے دی

کرپٹو انڈسٹری میں ریگولیشن کے حوالے سے ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ سولانا انسٹیٹیوٹ نے امریکی سینیٹ پر زور دیا ہے کہ وہ CLARITY Act میں شامل اہم قانونی تحفظات کو برقرار رکھے اور ان میں کسی قسم کی کمزوری نہ آنے دے۔
سولانا انسٹیٹیوٹ کی صدر کرسٹن اسمتھ کے مطابق، بلاک چین ڈویلپرز، ویلیڈیٹرز اور نوڈ آپریٹرز جو صارفین کے فنڈز کو اپنی تحویل میں نہیں رکھتے، انہیں منی ٹرانسمیٹرز کے طور پر درجہ بند نہیں کیا جانا چاہیے۔ ان کا کہنا ہے کہ ایسے افراد اور ادارے بنیادی طور پر نیٹ ورک اور سافٹ ویئر انفراسٹرکچر فراہم کرتے ہیں، نہ کہ صارفین کے اثاثوں کا براہ راست انتظام۔
اسمتھ نے مزید کہا کہ اگر CLARITY Act میں موجود Blockchain Regulatory Certainty Act (BRCA) کی شقیں برقرار رہتی ہیں تو اس سے اوپن سورس ڈویلپرز اور بلاک چین نیٹ ورکس کو قانونی وضاحت ملے گی۔ اس کے نتیجے میں امریکہ میں جدت اور ترقی کے لیے بہتر ماحول پیدا ہو سکتا ہے۔
دوسری جانب، قانون سازی کے عمل میں مختلف رکاوٹیں اب بھی موجود ہیں۔ امریکی سینیٹ میں بل کے مختلف حصوں پر بحث جاری ہے، جبکہ کچھ قانون ساز اس میں مزید تبدیلیاں بھی چاہتے ہیں۔ انہی وجوہات کی بنا پر بل کی منظوری کا متوقع وقت جولائی سے بڑھ کر اگست تک پہنچ گیا ہے۔
CLARITY Act کا مقصد کرپٹو مارکیٹ کے لیے واضح قواعد متعین کرنا ہے۔ اگر یہ قانون منظور ہو جاتا ہے تو بٹ کوائن اور ایتھیریم جیسی ڈی سینٹرلائزڈ کرپٹو کرنسیز کے لیے ریگولیٹری فریم ورک مزید واضح ہو جائے گا، جس سے سرمایہ کاروں اور کمپنیوں دونوں کو فائدہ پہنچ سکتا ہے۔
کرپٹو مارکیٹ کے نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو یہ خبر مثبت سمجھی جا رہی ہے۔ اگر BRCA کے تحفظات برقرار رہتے ہیں تو سولانا سمیت متعدد بلاک چین نیٹ ورکس کے لیے امریکہ میں کام کرنا آسان ہو سکتا ہے۔ اس سے نئی سرمایہ کاری، جدت اور ترقی کے مواقع پیدا ہونے کی توقع ہے۔
بہت سے ماہرین کا خیال ہے کہ واضح اور متوازن قوانین ہی امریکہ کو عالمی کرپٹو مقابلے میں مضبوط پوزیشن دلا سکتے ہیں، خاص طور پر ایسے وقت میں جب سنگاپور اور ابو ظہبی جیسے خطے بلاک چین کمپنیوں کو اپنی جانب متوجہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
اب سب کی نظریں امریکی سینیٹ پر ہیں، جہاں آنے والے ہفتوں میں CLARITY Act کے مستقبل کا فیصلہ ہو سکتا ہے۔
#SICryptoNews #solana $BTC
Članek
کیا اگلا کرپٹو بُل رن بٹ کوائن کے بجائے Stablecoins اور Tokenization کی وجہ سے آئے گا؟کرپٹو مارکیٹ میں ایک دلچسپ تبدیلی دیکھنے کو مل رہی ہے۔ کئی سالوں تک بٹ کوائن کو کرپٹو انڈسٹری کا سب سے اہم اثاثہ سمجھا جاتا رہا، لیکن اب ایسا لگتا ہے کہ بڑے مالیاتی ادارے اور سرمایہ کاری کے مشیر اپنی توجہ دوسرے شعبوں کی طرف منتقل کر رہے ہیں۔ Bitwise کے چیف انویسٹمنٹ آفیسر میٹ ہوگن کے مطابق، حال ہی میں ان کی ملاقات 40 سے زائد مالیاتی مشیروں سے ہوئی جن کے زیر انتظام مجموعی اثاثوں کی مالیت تقریباً 175 ٹریلین ڈالر ہے۔ ان ملاقاتوں سے یہ بات سامنے آئی کہ ادارہ جاتی سرمایہ کار اب صرف بٹ کوائن میں دلچسپی نہیں رکھتے بلکہ Stablecoins، Tokenization اور بلاک چین کے عملی استعمال کو زیادہ اہمیت دے رہے ہیں۔ ماضی میں کرپٹو مارکیٹ کی بحالی مختلف عوامل کی وجہ سے ہوئی۔ 2014 کے بعد Ethereum نے نئی ٹیکنالوجی متعارف کروائی، 2018 کے بعد DeFi نے مارکیٹ کو نئی سمت دی، جبکہ 2022 کے بعد Spot Bitcoin ETFs نے ادارہ جاتی سرمایہ کاروں کو کرپٹو مارکیٹ کی طرف راغب کیا۔ اب ماہرین کا خیال ہے کہ اگلا ترقی کا مرحلہ Stablecoins اور Tokenization سے جڑا ہو سکتا ہے۔ Stablecoins وہ ڈیجیٹل اثاثے ہیں جن کی قیمت عموماً کسی روایتی کرنسی جیسے امریکی ڈالر سے منسلک ہوتی ہے۔ دوسری طرف Tokenization حقیقی دنیا کے اثاثوں جیسے جائیداد، بانڈز یا شیئرز کو بلاک چین پر منتقل کرنے کا عمل ہے۔ اسی وجہ سے Ethereum، Solana، Chainlink، Avalanche اور Hyperliquid جیسے منصوبے سرمایہ کاروں کی توجہ حاصل کر رہے ہیں۔ اس کے علاوہ Circle، Coinbase اور Figure جیسی کمپنیاں بھی اس بڑھتے ہوئے رجحان سے فائدہ اٹھا سکتی ہیں۔ یہ تبدیلی اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ کرپٹو انڈسٹری پہلے کے مقابلے میں زیادہ پختہ ہو رہی ہے۔ اب سرمایہ کار صرف قیمتوں میں اضافے کی امید پر سرمایہ کاری نہیں کر رہے بلکہ وہ ایسی ٹیکنالوجیز تلاش کر رہے ہیں جو حقیقی دنیا کے مسائل حل کر سکیں۔ اگر ادارہ جاتی سرمایہ کار اسی رفتار سے Stablecoins اور Tokenization کی طرف آتے رہے تو ممکن ہے کہ اگلا کرپٹو بُل رن صرف بٹ کوائن کے گرد نہ گھومے بلکہ پورا بلاک چین ایکو سسٹم اس کا فائدہ اٹھائے۔ مختصر طور پر، کرپٹو مارکیٹ کا مستقبل شاید پہلے سے زیادہ متنوع ہو، جہاں کامیابی صرف بٹ کوائن نہیں بلکہ متعدد بلاک چین نیٹ ورکس اور ان سے وابستہ کاروباروں کے حصے میں بھی آئے۔ #SICryptoNews #bitcoin #altcoins

کیا اگلا کرپٹو بُل رن بٹ کوائن کے بجائے Stablecoins اور Tokenization کی وجہ سے آئے گا؟

کرپٹو مارکیٹ میں ایک دلچسپ تبدیلی دیکھنے کو مل رہی ہے۔ کئی سالوں تک بٹ کوائن کو کرپٹو انڈسٹری کا سب سے اہم اثاثہ سمجھا جاتا رہا، لیکن اب ایسا لگتا ہے کہ بڑے مالیاتی ادارے اور سرمایہ کاری کے مشیر اپنی توجہ دوسرے شعبوں کی طرف منتقل کر رہے ہیں۔
Bitwise کے چیف انویسٹمنٹ آفیسر میٹ ہوگن کے مطابق، حال ہی میں ان کی ملاقات 40 سے زائد مالیاتی مشیروں سے ہوئی جن کے زیر انتظام مجموعی اثاثوں کی مالیت تقریباً 175 ٹریلین ڈالر ہے۔ ان ملاقاتوں سے یہ بات سامنے آئی کہ ادارہ جاتی سرمایہ کار اب صرف بٹ کوائن میں دلچسپی نہیں رکھتے بلکہ Stablecoins، Tokenization اور بلاک چین کے عملی استعمال کو زیادہ اہمیت دے رہے ہیں۔
ماضی میں کرپٹو مارکیٹ کی بحالی مختلف عوامل کی وجہ سے ہوئی۔ 2014 کے بعد Ethereum نے نئی ٹیکنالوجی متعارف کروائی، 2018 کے بعد DeFi نے مارکیٹ کو نئی سمت دی، جبکہ 2022 کے بعد Spot Bitcoin ETFs نے ادارہ جاتی سرمایہ کاروں کو کرپٹو مارکیٹ کی طرف راغب کیا۔
اب ماہرین کا خیال ہے کہ اگلا ترقی کا مرحلہ Stablecoins اور Tokenization سے جڑا ہو سکتا ہے۔ Stablecoins وہ ڈیجیٹل اثاثے ہیں جن کی قیمت عموماً کسی روایتی کرنسی جیسے امریکی ڈالر سے منسلک ہوتی ہے۔ دوسری طرف Tokenization حقیقی دنیا کے اثاثوں جیسے جائیداد، بانڈز یا شیئرز کو بلاک چین پر منتقل کرنے کا عمل ہے۔
اسی وجہ سے Ethereum، Solana، Chainlink، Avalanche اور Hyperliquid جیسے منصوبے سرمایہ کاروں کی توجہ حاصل کر رہے ہیں۔ اس کے علاوہ Circle، Coinbase اور Figure جیسی کمپنیاں بھی اس بڑھتے ہوئے رجحان سے فائدہ اٹھا سکتی ہیں۔
یہ تبدیلی اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ کرپٹو انڈسٹری پہلے کے مقابلے میں زیادہ پختہ ہو رہی ہے۔ اب سرمایہ کار صرف قیمتوں میں اضافے کی امید پر سرمایہ کاری نہیں کر رہے بلکہ وہ ایسی ٹیکنالوجیز تلاش کر رہے ہیں جو حقیقی دنیا کے مسائل حل کر سکیں۔
اگر ادارہ جاتی سرمایہ کار اسی رفتار سے Stablecoins اور Tokenization کی طرف آتے رہے تو ممکن ہے کہ اگلا کرپٹو بُل رن صرف بٹ کوائن کے گرد نہ گھومے بلکہ پورا بلاک چین ایکو سسٹم اس کا فائدہ اٹھائے۔
مختصر طور پر، کرپٹو مارکیٹ کا مستقبل شاید پہلے سے زیادہ متنوع ہو، جہاں کامیابی صرف بٹ کوائن نہیں بلکہ متعدد بلاک چین نیٹ ورکس اور ان سے وابستہ کاروباروں کے حصے میں بھی آئے۔
#SICryptoNews #bitcoin #altcoins
Can Solana Return to Its Highs? All Eyes on the $68 Level Solana (SOL) is back in the spotlight after showing signs of recovery following a sharp market correction. While the broader crypto market has faced increased volatility, Solana has managed to regain some strength, giving investors a reason to watch the asset closely once again. Earlier this month, Solana dropped to around $61 after trading near $96 in May. The decline wiped out more than one-third of its value in a short period, largely due to market-wide selling pressure, whale activity, and the liquidation of leveraged positions. #SICryptoNews #solana $SOL {future}(SOLUSDT) $BTC {future}(BTCUSDT)
Can Solana Return to Its Highs? All Eyes on the $68 Level
Solana (SOL) is back in the spotlight after showing signs of recovery following a sharp market correction. While the broader crypto market has faced increased volatility, Solana has managed to regain some strength, giving investors a reason to watch the asset closely once again.
Earlier this month, Solana dropped to around $61 after trading near $96 in May. The decline wiped out more than one-third of its value in a short period, largely due to market-wide selling pressure, whale activity, and the liquidation of leveraged positions.
#SICryptoNews #solana $SOL
$BTC
Članek
بینک آف جاپان 31 سال کی بلند ترین شرحِ سود کی جانب، کرپٹو مارکیٹ پر کیا اثر پڑے گا؟دنیا بھر کی مالیاتی منڈیوں کی نظریں اس وقت جاپان پر جمی ہوئی ہیں، کیونکہ بینک آف جاپان اگلے ہفتے شرحِ سود کو بڑھا کر 1 فیصد تک لے جانے کی تیاری کر رہا ہے۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو یہ 1995 کے بعد پہلی بار ہوگا کہ جاپان کی شرحِ سود اس سطح پر پہنچے گی۔ کئی سالوں تک جاپان نے انتہائی نرم مالیاتی پالیسی اپنائے رکھی تاکہ معیشت کو سہارا دیا جا سکے۔ لیکن اب بڑھتی ہوئی مہنگائی اور توانائی کی قیمتوں میں اضافے نے مرکزی بینک کو سخت فیصلے لینے پر مجبور کر دیا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ بینک آف جاپان کے گورنر کازو اوئیڈا طبی علاج کی وجہ سے آئندہ اجلاس میں شرکت نہیں کریں گے۔ ان کی جگہ ڈپٹی گورنر شن ایچی اوچیڈا میڈیا بریفنگ دیں گے، جس پر سرمایہ کار خصوصی توجہ دے رہے ہیں۔ ماہرین کا خیال ہے کہ شرحِ سود میں اضافے سے جاپانی کرنسی "ین" مضبوط ہو سکتی ہے۔ مضبوط ین درآمدی مہنگائی کو کم کرنے میں مدد دے سکتا ہے، لیکن اس کے ساتھ ساتھ سرمایہ کاروں کے رویے پر بھی اثر ڈال سکتا ہے۔ کرپٹو مارکیٹ کے لیے یہ خبر خاص اہمیت رکھتی ہے۔ جب شرحِ سود بڑھتی ہے تو عام طور پر سرمایہ کار زیادہ محفوظ اثاثوں کو ترجیح دیتے ہیں، جس کے نتیجے میں بٹ کوائن اور دیگر کرپٹو کرنسیوں پر مختصر مدت کے لیے دباؤ آ سکتا ہے۔ اس کے علاوہ بلند شرحِ سود مارکیٹ میں موجود اضافی لیکویڈیٹی کو بھی کم کر سکتی ہے، جو اکثر کرپٹو مارکیٹ کی تیزی کا ایک اہم سبب ہوتی ہے۔ اگرچہ قلیل مدت میں کچھ منفی اثرات دیکھنے کو مل سکتے ہیں، لیکن طویل مدت میں کرپٹو مارکیٹ کی سمت کا انحصار عالمی معاشی حالات، امریکی فیڈرل ریزرو کی پالیسیوں اور سرمایہ کاروں کے اعتماد پر رہے گا۔ آنے والے دنوں میں سرمایہ کاروں کی نظریں بینک آف جاپان کے فیصلے اور اس کے بعد آنے والے بیانات پر مرکوز رہیں گی، کیونکہ یہی عوامل مالیاتی اور کرپٹو مارکیٹوں کی اگلی سمت کا تعین کر سکتے ہیں۔ #SICryptoNews #JapanCrypto #BoJ

بینک آف جاپان 31 سال کی بلند ترین شرحِ سود کی جانب، کرپٹو مارکیٹ پر کیا اثر پڑے گا؟

دنیا بھر کی مالیاتی منڈیوں کی نظریں اس وقت جاپان پر جمی ہوئی ہیں، کیونکہ بینک آف جاپان اگلے ہفتے شرحِ سود کو بڑھا کر 1 فیصد تک لے جانے کی تیاری کر رہا ہے۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو یہ 1995 کے بعد پہلی بار ہوگا کہ جاپان کی شرحِ سود اس سطح پر پہنچے گی۔
کئی سالوں تک جاپان نے انتہائی نرم مالیاتی پالیسی اپنائے رکھی تاکہ معیشت کو سہارا دیا جا سکے۔ لیکن اب بڑھتی ہوئی مہنگائی اور توانائی کی قیمتوں میں اضافے نے مرکزی بینک کو سخت فیصلے لینے پر مجبور کر دیا ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ بینک آف جاپان کے گورنر کازو اوئیڈا طبی علاج کی وجہ سے آئندہ اجلاس میں شرکت نہیں کریں گے۔ ان کی جگہ ڈپٹی گورنر شن ایچی اوچیڈا میڈیا بریفنگ دیں گے، جس پر سرمایہ کار خصوصی توجہ دے رہے ہیں۔
ماہرین کا خیال ہے کہ شرحِ سود میں اضافے سے جاپانی کرنسی "ین" مضبوط ہو سکتی ہے۔ مضبوط ین درآمدی مہنگائی کو کم کرنے میں مدد دے سکتا ہے، لیکن اس کے ساتھ ساتھ سرمایہ کاروں کے رویے پر بھی اثر ڈال سکتا ہے۔
کرپٹو مارکیٹ کے لیے یہ خبر خاص اہمیت رکھتی ہے۔ جب شرحِ سود بڑھتی ہے تو عام طور پر سرمایہ کار زیادہ محفوظ اثاثوں کو ترجیح دیتے ہیں، جس کے نتیجے میں بٹ کوائن اور دیگر کرپٹو کرنسیوں پر مختصر مدت کے لیے دباؤ آ سکتا ہے۔
اس کے علاوہ بلند شرحِ سود مارکیٹ میں موجود اضافی لیکویڈیٹی کو بھی کم کر سکتی ہے، جو اکثر کرپٹو مارکیٹ کی تیزی کا ایک اہم سبب ہوتی ہے۔
اگرچہ قلیل مدت میں کچھ منفی اثرات دیکھنے کو مل سکتے ہیں، لیکن طویل مدت میں کرپٹو مارکیٹ کی سمت کا انحصار عالمی معاشی حالات، امریکی فیڈرل ریزرو کی پالیسیوں اور سرمایہ کاروں کے اعتماد پر رہے گا۔
آنے والے دنوں میں سرمایہ کاروں کی نظریں بینک آف جاپان کے فیصلے اور اس کے بعد آنے والے بیانات پر مرکوز رہیں گی، کیونکہ یہی عوامل مالیاتی اور کرپٹو مارکیٹوں کی اگلی سمت کا تعین کر سکتے ہیں۔
#SICryptoNews #JapanCrypto #BoJ
Bitcoin Surges While Oil Prices Fall After Trump Cancels Planned Iran Strikes Global financial markets reacted quickly after U.S. President Donald Trump announced that the United States would not proceed with the planned military strikes against Iran. The statement sparked optimism across multiple markets, leading to a sharp rise in cryptocurrencies and a significant drop in oil prices. #SICryptoNews #TRUMP $BTC {future}(BTCUSDT) $ETH {future}(ETHUSDT) $TSLAB
Bitcoin Surges While Oil Prices Fall After Trump Cancels Planned Iran Strikes
Global financial markets reacted quickly after U.S. President Donald Trump announced that the United States would not proceed with the planned military strikes against Iran. The statement sparked optimism across multiple markets, leading to a sharp rise in cryptocurrencies and a significant drop in oil prices.
#SICryptoNews #TRUMP $BTC
$ETH
$TSLAB
Prijavite se, če želite raziskati več vsebin
Pridružite se globalnim kriptouporabnikom na trgu Binance Square
⚡️ Pridobite najnovejše in koristne informacije o kriptovalutah.
💬 Zaupanje največje borze kriptovalut na svetu.
👍 Odkrijte prave vpoglede potrjenih ustvarjalcev.
E-naslov/telefonska številka