چین اپنے سرکاری ڈیجیٹل کرنسی منصوبے کو تیزی سے آگے بڑھا رہا ہے۔ پیپلز بینک آف چائنا (PBOC) نے ڈیجیٹل یوان، جسے e-CNY کہا جاتا ہے، کے نیٹ ورک میں مزید آٹھ کمرشل بینک شامل کر دیے ہیں۔ اس اضافے کے بعد ڈیجیٹل یوان کے مجاز بینک آپریٹرز کی تعداد 22 سے بڑھ کر 30 ہو گئی ہے۔
نئے شامل ہونے والے بینکوں میں Ping An Bank، Hengfeng Bank، China Bohai Bank، Bank of Shanghai، Bank of Hangzhou، Huishang Bank، Bank of Changsha اور Guangxi Beibu Gulf Bank شامل ہیں۔
یہ بینک فوری طور پر صارفین کے لیے سروس شروع نہیں کریں گے۔ پہلے انہیں اپنی کاروباری اور ٹیکنیکل تیاری مکمل کرنا ہوگی۔ اس کے بعد صارفین ان بینکوں کے ذریعے e-CNY کی سہولت حاصل کر سکیں گے۔
ڈیجیٹل یوان میں چین کی بڑھتی ہوئی دلچسپی
چین کئی سال سے ڈیجیٹل یوان پر کام کر رہا ہے، لیکن 2026 میں اس نیٹ ورک کی توسیع خاص طور پر تیز نظر آ رہی ہے۔ رواں سال اپریل میں بھی مرکزی بینک نے 12 مزید اداروں کو ڈیجیٹل یوان سروسز کے لیے منظور کیا تھا۔
اس طرح صرف چند ماہ کے اندر آپریٹرز کی تعداد 22 سے بڑھ کر 30 ہو گئی ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ چین اپنے موجودہ بینکنگ نظام کو استعمال کرتے ہوئے ڈیجیٹل یوان کو زیادہ سے زیادہ صارفین تک پہنچانا چاہتا ہے۔
یہ ماڈل کرپٹو کرنسیوں سے مختلف ہے۔ Bitcoin یا دیگر decentralized cryptocurrencies کے برعکس e-CNY چین کے مرکزی بینک کے کنٹرول میں ہے۔ اس کا بنیادی مقصد ایک سرکاری ڈیجیٹل کرنسی کے ذریعے ادائیگیوں کو زیادہ آسان اور جدید بنانا ہے۔
e-CNY اب صرف ڈیجیٹل کیش نہیں رہا
ڈیجیٹل یوان کے لیے ایک اور اہم تبدیلی جنوری 2026 میں سامنے آئی۔ نئے قواعد کے تحت تصدیق شدہ ڈیجیٹل یوان والٹس میں موجود رقم پر بینک سود دے سکتے ہیں۔
اس تبدیلی سے e-CNY روایتی بینک ڈپازٹ کے زیادہ قریب آتا ہے۔ پہلے اسے زیادہ تر ڈیجیٹل کیش کی شکل میں دیکھا جاتا تھا، لیکن اب بینک اس رقم کو اپنے مالیاتی نظام میں زیادہ فعال انداز میں استعمال کر سکتے ہیں۔
سرحد پار ادائیگیوں پر بھی توجہ
چین کی کوشش صرف اندرون ملک ڈیجیٹل یوان کے استعمال تک محدود نہیں ہے۔ ملک سرحد پار ادائیگیوں میں بھی e-CNY کے استعمال کے تجربات کر رہا ہے۔
جولائی میں چین اور سنگاپور کے درمیان تقریباً 10 ملین یوان کی ایک ادائیگی ڈیجیٹل یوان کے ذریعے مکمل ہونے کی اطلاع سامنے آئی۔ اس طرح کے تجربات اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ چین مستقبل میں اپنے ڈیجیٹل کرنسی انفراسٹرکچر کو بین الاقوامی ادائیگیوں میں بھی استعمال کرنا چاہتا ہے۔
کرپٹو مارکیٹ کے لیے اس کا کیا مطلب ہے؟
ڈیجیٹل یوان Bitcoin یا decentralized crypto کا متبادل نہیں ہے، لیکن اس کی بڑھتی ہوئی adoption عالمی ڈیجیٹل فنانس کے لیے اہم ہے۔
اگر چین بڑے پیمانے پر ڈیجیٹل کرنسی استعمال کرنے میں کامیاب ہوتا ہے تو دوسرے ممالک بھی اپنی Central Bank Digital Currencies (CBDCs) پر زیادہ تیزی سے کام کر سکتے ہیں۔
مختصراً، چین صرف ایک ڈیجیٹل کرنسی لانچ کرنے کی کوشش نہیں کر رہا۔ وہ اس کے پیچھے پورا بینکنگ، ادائیگی اور سرحد پار ٹرانزیکشن کا انفراسٹرکچر تیار کر رہا ہے۔ آنے والے سالوں میں یہ عالمی مالیاتی نظام میں ایک اہم تبدیلی ثابت ہو سکتی ہے۔
#SICryptoNews #bitcoin #CBDC