اس وقت معلوم ڈیٹا کے مطابق ساری دنیا کی دولت کا تخمینہ تقریباً 500 ٹریلین ڈالر ہے۔ اسے اگر آٹھ ارب انسانوں پر یکساں تقسیم کر دیا جائے تو ہر انسان کے حصے میں 60 ہزار یو ایس ڈالر یعنی ایک کروڑ ستر لاکھ روپے کی رقم آئے گی۔
اسی طرح اس دنیا کی خشکی کے ایریا پر قابل استعمال حصہ زمین تقریبا پچاس فیصد کو مان لیا جائے۔ تو اس کا 33 فیصد انسانی ملکیت ہو سکتا ہے۔ اس ملکیت میں ریاستی اور انفرادی ملکیت دونوں شامل ہیں۔ اس زمین کو اگر پوری انسانی آبادی پر مساوی تقسیم کیا جائے تو ہر انسان کو 32.5 ملین سکئیر فٹ یعنی 5970 کنال اور ایکڑ میں بات کریں توتقریبا 746 ایکڑ ہر انسان کے حصے میں آئے گی۔
کتنے ایسے لوگ ہیں جن کے پاس ساٹھ ہزار ڈالر تو دور ساٹھ ہزار روپے بھی نہیں ہیں؟
اور پھر کروڑوں نہیں اربوں ایسے ہیں جنکے پاس 746 ایکڑ تو دور 746 سکئیر میٹر یا سکئیر فٹ بھی زمین کی ملکیت نہیں ہے۔
ایسا کوئی نظام کبھی نہیں آئے گا۔ کہ کسی اور کی محنت کا پھل آپ کو مل جائے۔ آپ وقت برباد کرتے رہیں، اور وقت کی قدر کرنے والوں کی محنت آپ کی جھولی میں ڈال دی جائے۔
آپ کسی گاؤں گلی محلے شہر صوبے ملک خطے تک خود کو محدود کیے رکھیں اور ان ساری قیدوں سے نکل جانے والے آپ کی مدد کو آئیں۔
آپ ان پڑھ اور غیر ہنر مند رہیں، بزدل اور کام چور رہیں۔ جبکہ پڑھے لکھے، ہنر مند،فرض شناس اور بہادر لوگوں کا حاصل آپ کو دے دیا جائے۔
آپ رات دیر تک جاگ کر صبح دیر تک سوتے رہیں اور سورج سے پہلے بروقت جاگنے والے آپ پر ترس کھا کر آپ کو اپنے برابر لے آئیں۔ کہ جی یہ آپ کا حق ہے۔
آپ کی خالی جھولی، آپ کا خالی جیب، آپ کا خالی دماغ، آپ کا خالی بنک اکاؤنٹ کبھی بھی کوئی نہیں بھرے گا۔ یہ آپ کا کام ہے۔ آپ اسے چند سال میں کر سکتے ہیں۔
ایک آپ جیسا آدمی اسٹور کیپر تھا۔ دو سو ڈالر تنخواہ تھی۔ اسے افریقہ میں وہی جاب چودہ سو ڈالر میں ملی۔ وہ جاب کی تلاش میں رہتا تھا۔ دو سو سے بڑھا کر چار سو ڈالر گھر خرچ کر دیا۔ اور ایک ہزار ڈالر کی ماہانہ سیونگ میں آج پانچ سال بعد اسکے پاس ساٹھ ہزار ڈالر جمع ہو چکا ہے۔
یعنی وہ اس دنیا کی مجموعی دولت میں سے اپنا کم سے کم حصہ حاصل کر چکا ہے۔
اسے یہ حصہ بھیک لاٹری دھوکہ فراڈ سے نہیں ملا۔ اس نے کمایا ہے۔ اپنا دماغ لگایا ہے، گورمے بیکری کے اسٹور سے نکل کر ایک ملٹی نیشنل کمپنی کے اسٹور کا محافظ بنا ہے۔ اسکے پاس دو مرلے جگہ نہیں تھی۔ آج جہاں ملازمت ہے وہاں کا باسی بن جائے تو تیس چالیس ایکڑ خرید سکتا ہے۔ جب وطن کی یاد ستائے آتا جاتا رہے۔ کس نے روکا ہے۔
یہ دنیا بہت بڑی ہے۔ یہ میری آپ کی ، ہم سب کی ہے۔ جہاں ہم پیدا ہوئے وہیں برے حالاتوں میں کئی نسلوں تک جینا اور پھر وہیں مر جانا ہمیں کس نے سکھایا؟
یہ کس نے غلط پروگرام ہمارے ہارڈ وئیر میں انسٹال کر دیا کہ کبھی بھی خود کو خوش حال نہ کرو؟ آج کا کما لیا کل کی کل دیکھیں گے؟ ماہانہ آمدن سے آگے سوچو ہی نہیں، اور ساری عمر کی بدترین غلامی کے بدلے اس بڑھاپے کی چند ہزار پینشن قبول کر لو، وہ بڑھاپا جو شاید سب پر آتا ہی نہیں۔
کس نے بتایا کہ امیر اور بااثر ، کمزوروں اور غریبوں کو دبا کر رکھتے ہیں؟ ایسا ہے بھی تو وہ ایک مخصوص لوکیشن میں آپ کو دبا سکتے ہیں۔ وہاں سے نکل جانے پر کون آپ کو روک سکتا ہے؟ جن پنجروں میں آپ نے خود کو قیدکر رکھا ہے وہ کوئی قید ہے ہی نہیں۔ نہ مفلسی کی، مواقع نہ ملنے کی، آپ کا حق چھینے جانے کی، آپ کو دبانے کی، آپ کا فل پوٹینشل ان لاک نہ ہونے دینے کی اور میرٹ پر آپ کو آپ کی قابلیت کے مطابق مقام نہ ملنے کی۔
نکالو یار خود کو ان خود ساختہ جیلوں سے باہر۔ بھلاؤ اس ساری بوسیدہ لرننگ کو جس نے تمہارا دو وقت کا چولہا جلانا مشکل کر رکھا ہے۔ بہت ہی معمولی اور جائز ضرورتوں کا ہر روز گلا گھوٹتے ہو۔ اور قصور وار ا س سب کا کسے ٹھہراتے ہو؟ حکومت کو؟جرنیلوں کو؟ امیر لوگوں کو؟ اقتدار پر مسلط بومرز کو؟ نہ تو تمہارا جسم قید ہے نہ سوچ، نکالو خود کو اپنے گھونسلے سے باہر وہ انگلش کی ایک کہانی کے کردار سیگل بگلے کی طرح۔ اور اڑو آزاد آسمان میں جہاں تک بھی جا سکتے ہو۔ اب پرواز تمہاری مرضی کی ہوگی اور یاد رکھو یہ آسمان کسی کا بھی نہیں۔
#Copytrading #ZTCBinanceTGE #WriteToEarnUpgrade #Write2Earn


